مائی جنداں نے ایک قاتل میجر کو پھانسی گھاٹ کیسے پہنچایا؟


پاکستان کے دیمک زدہ اور کھوکھلے نظام انصاف سے کسی پسے ہوئے اور مظلوم شخص کا انصاف حاصل کرنا اب نا ممکن ہو چکا ہے لیکن پھر بھی ہمارے معاشرے میں کچھ سر پھرے اور باہمت لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنی ان تھک جدوجہد اور مستقل مزاجی کی بدولت پاکستان کے بوسیدہ نظام انصاف سے انصاف چھین لیا۔ ایسی ہی ایک مثال صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والی مائی جندو کی ہے۔ ٹنڈو بہاول کی رہائشی مائی جندو نے اس وقت اپنا سب کچھ کھو دیا جب 1992 میں ان کے دو حوان بیٹوں اور داماد کو سات دیگر دیہاتیوں کے ساتھ فوج کے ایک دستے نے دہشت گرد قرار دے کر مار دیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ایک میجر نے مارے جانے والوں کے مخالفین سے پیسے لیکر یہ قتل عام کروایا۔ اس واقعے کو “ٹنڈو بہاول واقعہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ 5 جون 1992 کو پاک فوج کے ایک دستے نے میجر ارشد جمیل کی سربراہی میں حیدرآباد کے نواح میں واقع ٹنڈو بہاول گاؤں پر چھاپہ مارا۔ انہوں نے نو دیہاتیوں کو گرفتار کیا اور بعد میں ان سب کو دریائے سندھ کے کنارے پر کھڑا کر کے گولیاں مار دی گئیں۔ قتل ہونے والوں میں مائی جندو کے دو بیٹے بھی شامل تھے جن کے نام بہادر اور منٹھار تھے۔ مارے جانے والوں میں مائی جندو کا داماد اکرم بھی شامل تھا۔ بعد میں یہ الزام لگایا گیا کہ یہ دیہاتی دہشت گرد تھے اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرتے تھے۔ تاہم سوال یہ تھا کہ انہیں دریا کے کنارے کھڑا کرکے قتل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔ میڈیا نے اس داستان کو مسترد کردیا اور یہ ثبوت پیش کیا کہ متاثرین کا اصل میں میجر ارشد جمیل کے ایک مقامی وڈیرے دوست کے ساتھ زمین کا تنازعہ چل رہا تھا اور یہ سب غریب کسان تھے جن کا کسی دہشتگرد گردی یا ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان غریب کسانوں کو میجر نے صرف اپنی زمیندار دوست کو خوش کرنے کی خاطر قتل کیا۔
جب انکی لاشیں گاؤں آئیں تو پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ہر ماں اپنے بیٹے کی لاش پر ماتم کر رہی تھی، ان کے بین دل دہلا رہے تھے، ان ماؤں میں ایک 72 سال کی بوڑھی عورت مائی جندو بھی تھی، جس کے سامنے اس کے دو بیٹوں بہادر اور منٹھار کے علاوہ داماد اکرم کی لاش پڑی تھی مگر وہ خاموش تھی، عورتیں اسے بین کرنے پر اکسا رہی تھیں، مائی جندو سکتے کے عالم میں بیٹوں اور داماد کے چہرے دیکھے جا رہی تھی..
ہر شخص کا کہنا تھا کہ خاموشی سے میتیں دفنا دی جائیں کیونکہ قاتل بہت طاقتور تھے۔ ان غریب ہاریوں کا ایسی طاقت ور لوگوں سے کیا مقابلہ، خصوصا جب فوج نے انہیں دہشت گرد قرار دے دیا ہو۔ مائی جندو کو بار بار رونے کے لیے کہا گیا تو اس نے وحشت ناک نگاہوں سے میتیوں کی طرف دیکھا اور بولی بس ! مائی جندو اب ایک ہی بار روئے گی، جب وہ اپنے بیٹوں کے قاتل کو پھانسی کے پھندے پر لٹکتا دیکھے گی۔ سب جانتے تھے ایسا ممکن نہیں تھا مگر سب خاموش ہوگئے، مائی جندو کی بیٹیاں کُرلا رہی تھیں مگر مائی جندو ساکت بیٹھی قتل ہونے والوں کو تکے جا رہی تھی۔
جنازے اٹھے تو مائی جندو نے سر کی چادر کمر سے باندھی سیدھی کھڑی ہوئی اور بیٹوں کو الوداع کیا۔ اتنے بڑے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ مارے جانے والوں کا تعلق ٹنڈو بہاول کے ایک دور دراز گاؤں سے تھا۔ تب دریائے سندھ کے کنارے قتل ہونے والوں کی ویڈیو بنانے کے لیے موبائل کیمرہ بھی نہیں ہوتا تھا، اس لیے ملک بھر میں خبر یہ چلی کہ دشمن کے 9 ایجنٹ مار کر ملک کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ چنانچہ جس نے بھی اس خبر کو پڑھا یا سُنا اس نے شکر ادا کیالیکن جب سارا ملک شکر ادا کر رہا تھا تب مائی جندو نے اپنے اولاد کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ مائی جندو گھر سے نکل کر سڑکوں پر آ گئی اور ایک بھرپور تحریک شروع کردی جس نے پرنٹ میڈیا کی سماعتیں چیر کے رکھ دیں۔
مائی جندو بوڑھی تھی، جسمانی لحاظ سے کمزور مگر وہ تین جوان مقتولوں کی ماں تھی۔ اسنے طاقت کے مراکز سے جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر قاتلوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا، اس زمانے میں سوشل میڈیا کی غیر موجودگی میں یہ جنگ آسان نہ تھی، مگر نقارے بج چکے تھے، کشتیاں جل چکی تھیں۔ اخبارات اور صحافیوں کی مدد سے مائی جندو نے ثابت کیا کہ قتل ہونے والے غریب کسان تھے اور میجر ارشد جمیل اور اسکے وڈیرے دوست کا ان کے ساتھ زرعی زمین کا جھگڑا تھا، جس کی سزا میں انہیں قتل ہونا پڑا۔
مائی جندو کی جانب سے چلائی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حکومت اور فوج دونوں پر پریشر بڑھتا جا رہا تھا۔ پھر 24 جولائی 1992 کو تب کے آرمی چیف جنرل آصف نواز اور وزیراعظم نواز شریف نے اس معاملے پر ملاقات کی جس کے بعد جنرل آصف نواز نے میجر ارشد جمیل کا کورٹ مارشل کرنے کا حکم دے دیا۔ 29 اکتوبر 1992 کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے میجر ارشد جمیل کو سزائے موت اور 13 فوجی اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی. میجر نے پاک فوج کے سپہ سالار کو رحم کی اپیل کی جو 14 ستمبر 1993 کو مسترد ہوگئی، اس کی آخری رحم کی اپیل صدر فاروق لغاری سے کی گئی جو 31 جولائی 1995 کو مسترد تو کر دی گئی لیکن سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا، اس کے بعد میجر ارشد جمیل کے بھائی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے جج سعید الزمان صدیقی نے پھانسی کے خلاف حکم امتناع جاری کیا اور سزا روک دی۔
9 غریب کسانوں کے قاتل میجر کی سزائے موت پر عمل نہ ہونے کے خلاف 11 ستمبر 1996 کو مائی جندو پھر میدان میں نکل آئی اور اس کی دو بیٹیوں نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے بطور احتجاج اپنے جسموں پر تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا لی، انہیں نازک حالت میں ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ بچ نہ سکیں. یوں پورے ملک میں ایک بار پھر کہرام مچ گیا، بالآخر 28 اکتوبر 1996 کو طاقت کی تمام عسکری دیواریں مائی جندو کے مسلسل دھکوں کے سامنے ڈھیر ہوگئیں.
اس روز مائی جندو کو حیدر آباد سنٹرل جیل کے پھانسی گھاٹ پر لایا گیا، سامنے تختہ دار پر اس کے گاؤں کے 9 بیٹوں کا قاتل میجر ارشد جمیل کھڑا تھا. دار کا تختہ کھینچا گیا تو قاتل میجر ارشد جمیل کا جسم رسے سے جھول گیا۔ یوں اس بوڑھی لیکن باہمت عورت نے پاکستان کے بوسیدہ نظام انصاف سے لڑتے ہوئے آخر کار اپنے مقتول بیٹوں کے لئے انصاف حاصل کر ہی لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button