مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم

سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کے دوران مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم دے دیا ، جہاں کرشنگ ہوئی وہاں پر شجرکاری یقینی بنانے کی ہدایت بھی دے دی۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ لوگوں کےلیے بیٹھنے، چلنے اور تفریح کی جگہ ہونی چاہیے، یقینی بنایا جائے انڈسٹریل ایریا میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف قوانین پر عمل ہوگا، ایسی صنعتوں کو نہ چلائیں جو اسلام آباد کو آلودہ کریں، اسلام آباد کی اپنی فوڈ اتھارٹی بنائیں جو چیزوں کا جائزہ لے، ایئرپورٹ سے ایوان صدر تک ہر جگہ قومی پرچم لگے ہونے چاہئیں۔
عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) عامر احمد علی نے عدالت کو بریفنگ دی اور بتایا کہ کشمیر ہائی وے کو تعمیر کرنے جا رہے ہیں تاہم سی ڈی اے کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جی 8 میں انٹرچینج زیر تعمیر ہے اور ایف 7 میں بھی انٹرچینج بنایا جائے گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کشمیر ہائی وے پر چند ہی درخت لگے ہیں جس پر چیئرمین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ کشمیر ہائی وے کے اطراف مزید شجرکاری کی جا رہی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں، چیئرمین سے زیادہ کلرک طاقتور ہیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ جن کا تبادلہ کرتا ہوں وہ حکم امتناع لے آتے ہیں، کرپٹ ملازمین اور افسران کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج تمام تبادلوں پر جاری حکم امتناع ختم کر دینگے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی صنعتوں کو نہ چلائیں جو اسلام آباد کو آلودہ کریں، بیرون ملک سے زائد المیعاد اشیاء منگوائی جاتی ہیں، دبئی والے اپنی ایکسپائر چیزیں پاکستان بھجوا دیتے ہیں، اسلام آباد کی اپنی فوڈ اتھارٹی بنائیں جو چیزوں کا جائزہ لے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آلودگی کے لحاظ سے اسلام آباد بدترین دارالحکومت ہے، اس شہر کا کوئی معیار تو بنائیں، شہریوں کو سہولیات فراہم کریں، لوگوں کے لیے بیٹھنے، چلنے اور تفریح کی جگہ ہونی چاہیے، یقینی بنایا جائے انڈسٹریل ایریا میں ماحولیاتی آلودگی کیخلاف قوانین پر عمل ہوگا۔
سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور کے پی حکومتیں فوری طور پر کرشنگ روکنے کیلئے اقدامات کریں، جہاں کرشنگ ہوئی وہاں پر شجرکاری یقینی بنائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button