مارگلہ ہلز میں تجاوزات پر نیوی ، ائیر فورس کیخلاف کارروائی کا حکم

جس پر چیئرپرسن وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے موقف اپنایا کہ ’ہم نے ایکشن نہیں لیا کیوں کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں۔چیف جسٹس اظہر من اللہ نے کہا کہ یہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ بے شک یہ عدالت بھی اگر قانون خلاف ورزی کرے تو آپ ایکشن لیں۔ اگر میں بھی قانون کی خلاف ورزی کروں تو آپ میرے خلاف بھی ایکشن لیں۔
عدالت نے چیئرپرسن وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’آپ کے کیا اختیارات ہیں؟ آپ کیا کر سکتی ہیں؟ آپ کو کیوں معلوم نہیں۔

انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیشنل پارک میں کوئی بھی تجاوزات قائم کرے تو اس کے کیا نتائج ہیں؟
جس پر وکیل وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ دانیال حسن نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس 1979 کے تحت قید اور جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔ بورڈ کے پاس سیکشن 29 کے تحت گرفتاری کا اختیار بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وائلڈ لائف سے متعلق اتنا موثر قانون موجود ہے آپ نے اس میں صرف ترامیم کرنی ہیں۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی ایکشن لیا ہے۔
عدالت نے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےکیس کی مزید سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔
بشکریہ :اردو نیوز
