ماسک کا غیر ضروری استعمال بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے

پاکستان میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں موجود ذخیرہ اندوز مافیا نے عوام کا استحصال کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بعد کراچی، اسلام آباد لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں فیس ماسک کی قیمتوں میں جہاں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے وہیں پر مہنگے نرخوں پر بھی فیس ماسک کے حصول میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وہیں پر دوسری طرف امریکی تحقیقاتی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے واضح کیا ہے کہ فیس ماسک کے غیرضروری استعمال سے فائدے کی بجائے بیماری لگنے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے.
پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق کے بعد ذخیرہ اندوزوں نے عوام کا استحصال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فیس ماسک مہنگے کردیے ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے حفاظتی اقدامات کے طور پر استعمال ہونے والے فیس ماسک مارکیٹ اور دکانوں سے غائب ہو چکے ہیں جبکہ میڈیسن کی ہول سیل مارکیٹ میں بھی فیس ماسک دستیاب نہیں۔ شہریوں کے ساتھ ساتھ میڈیکل اسٹور مالکان اور دکاندار بھی صورتحال پر پریشان ہیں۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فیس ماسک چین سے آتے ہیں مگر اب رسد بند ہے اور چین میں ماسک کی بڑھتی طلب کے باعث پاکستان میں قلت پیدا ہوہو گئی ہے۔
اکثرمیڈیکل اسٹورز سے ماسک ناپید ہو گئے ہیں جبکہ جن علاقوں میں ماسک دستیاب بھی ہیں وہ انتہائی مہنگے فروخت کیے جا رہے ہیں.عام ڈسپوزیبل سرجیکل ماسک کی قیمت 40 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ مختلف شہروں میں دکانوں اور میڈیکل سٹورز پر ماسک بلیک میں فروخت کیے جارہے ہیں۔ 50 ماسک کا 100 روپے والا ڈبہ ایک ہزار سے زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ موٹےکپڑے کے ماسک کا ڈبہ 200 سے بڑھ کر 1400روپے کا ہوگیا ہے۔ ادھر کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں 160 روپے والے باکس کی قیمت 1800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ۔120روپےمیں ملنےوالااین نائنٹی فائیواسپیشل ماسک 350روپےکاہوگیا ہے جبکہ دوسری طرف ماسک کی قلت پیداہونے کے بعد لوگوں نےٹشوپیپرزسےماسک بناناشروع کردیئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جو حکومت ملک میں ماسک کی ذخیرہ اندوزی اور قلت پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے وہ کرونا جیسی مہلک وبا پر کیسے قابو پائے گی۔
دوسری طرف سندھ ہائیکورٹ میں ماسک کی دستیابی کو یقینی بنانے، قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد انتظامیہ نے ماسک کے حوالے سے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے جس کے تحت فیس ماسک مہنگے داموں فروخت کر کے منافع کمانے پر بھی پابندی ہوگی‘پمز ہسپتال میں کورونا وائرس کا مریض سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے شہر بھر میں ماسک کی ذخیرہ اندوزی پر دفعہ 144 نافذ کردی ہے‘نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ دفعہ 144 کے تحت شہر میں ماسک کی ذخیرہ اندوزی پر پابندی ہوگی۔ پابندی کا اطلاق 2 ماہ کیلئے کیا گیا ہے‘نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا کہ ماسک مہنگے فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی.
دوسری طرف وبائی امراض سے متعلق امریکہ کے معتبر اور بااثر سرکاری ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سی ڈی سی نے کہا ہے کہ جن افراد کے اندر کورونا وائرس کی علامات نہیں انہیں ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکی ادارے کی جاری ہدایات کے مطابق ماسک صرف وہ افراد استعمال کریں جن میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں، تاکہ وہ اس وائرس کو مزید آگے پھیلنے سے روک سکیں‘فیس ماسک ان اہلکاروں کے لیے بھی ضروری ہیں جو کسی مریض کی دیکھ بھال کر رہے ہیں یا متاثرہ افراد کے قریب ہیں.ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماسک پہن کر ہر مسئلہ حل ہو جائے گا‘انہوں نے کہا ماسک پہننا دراصل ماسک نہ پہننے کے مقابلے میں بعض اوقات زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے. سی ڈی سی کے مطابق کرونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا ئیں جیسے وائرس سے متاثرہ افراد سے دور رہیں‘اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں‘بیماری کی صورت میں گھر پر ہی رہیں‘کھانسی اور چھینک کی صورت میں ٹشو استعمال کریں اور ا ستعمال کرنے کے بعد ٹشو کو ضائع کر دیں‘اپنے ہاتھوں کو بار بار 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں، خاص طور پر باتھ روم جاتے ہوئے، کھانے سے پہلے، کھانسی یا چھینک اور ناک صاف کرنے کے بعد‘اگر پانی اور صابن دستیاب نہیں تو الکوحل سے بنے سینیٹائزر سے ہاتھ دھوئیں جن میں کم از کم 60 فیصد الکوحل موجود ہو۔
