مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد سے متعلق ترمیمی بل منظور

اراکین قومی اسمبلی کی بھاری اکثریت سے مالی ذمہ داری اور حد قرض ( ایف آر ڈی ایل) ترمیمی بل 2022 منظور کرلیا گیا، یہ بل اسمبلی کے اصل ایجنڈے میں نہیں تھا تاہم وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے جی ڈی اے کے اراکین کے احتجاج کے دوران ضمنی ایجنڈے کے ذریعے اس بل کو منظوری کیلئے پیش کیا۔
ترمیمی بل حکومت کے قرضوں کی مؤثر منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے مینڈیٹ فراہم کرنے کے ساتھ وسائل کے ساتھ ڈیٹ آفس کو مضبوط کرے گا۔
اس بل میں عمومی طور پر تین اہم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں جی ڈی پی کے 10 فیصد پر حکومتی ضمانتوں کے اسٹاک کو محدود کرنا، ایک درمیانی مدتی قومی میکرو مالیاتی فریم ورک (ایم ٹی ایم ایف ایف) شائع کرنا اور ایک ہی دفتر میں قرض کے انتظام کے کاموں کو ادارہ جاتی بنانا شامل ہے۔
اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اور اسے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق 16 فروری کو ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں منظور بھی کیا گیا۔
سینئر عہدیدار نے کمیٹی کے اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایف آر ڈی ایل اے 2005 نے وفاقی مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور عوامی قرضوں کے جی ڈی پی کے تناسب کو مؤثر عوامی قرضوں کے انتظام کے ذریعے ایک محتاط سطح تک فراہم کیا ہے، ترمیمی بل ڈیٹ آفس کو حکومت کے قرض کے انتظام کے کاموں کی مؤثر منصوبہ بندی اور عملدرآمد کو مینڈیٹ اور وسائل کے ساتھ مضبوط کرے گا۔
کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ حکومتی گارنٹی اس وقت جی ڈی پی کے 6 فیصد اور عوامی قرضوں کا کل ذخیرہ جی ڈی پی کے 72 فیصد ہے، بل میں بقیہ ضمانتوں کے ذخیرے کی حد کو جی ڈی پی کے 10 فیصد تک بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی۔اسی طرح بل میں کل عوامی قرضوں اور ضمانتوں کے ذخیرے کی حد جی ڈی پی کے 70 فیصد تک تجویز کی گئی تھی۔

Back to top button