مالی مشکلات بحریہ آئیکون ٹاور منصوبے کو بند کردیا گیا

پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے پاکستان کی سب سے بلند عمارت بحریہ آئیکون ٹاور کے منصوبے پر مالی مشکلات اور سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے 460 ارب کے جرمانے اور کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سپریم کورٹ کے نوٹس کے باعث عمارت کی تعمیر روک کر منصوبہ بند کردیا۔
ٹی وی رپوٹس کے مطابق کراچی کے سب سے مشہور اور ملک کی سب سے بلند عمارت بحریہ آئیکون ٹاور کے منصوبے کو بند کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض میں عائد کیے گئے 460 ارب روپے کے جرمانے، کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری آپریشن اور سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے باعث منصوبے کی تعمیر روک دی گئی ہے۔ منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں تعمیر کی جانے والی عمارت بحریہ آئیکون ٹاور کو جنوبی ایشیا کی سب سے بلند عمارت قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں بلند و بالا عمارتوں کی تعداد کافی کم ہے، تاہم پاکستان میں حال ہی میں تعمیر کی جانے والی عمارت اس وقت جنوبی ایشیا کی سب سے بلند عمارت ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں تعمیر کی جانے والی عمارت بحریہ آئیکون ٹاور اس وقت ایشیا کی سب سے بلند عمارت ہے۔ آئیکون ٹاور بحریہ ٹاون کی جانب سے تعمیر کی جا رہی ہے۔ بحریہ آئیکون ٹاور کی عمارت کل 88 منزلوں پر مشتمل ہے۔ تاہم اب یہ منصوبہ تنازعے کا شکار ہوگیا ہے جس کے بعد اس کی تعمیر روک دی گئی ہے۔ منصوبے کی بندش سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
