ماہرہ خان ، یمنٰی زیدی نے لکس سٹائل ایوارڈز کا میلہ لوٹ لیا

کرونا کی عالمی وبا نے پاکستانی شوبز کے سب سے بڑے ایوارڈز شو کو بھی متاثر کیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی سب بڑی رات کافی محدود ہو گئی لیکن جب آپ یہ تقریب ٹی وی پر دیکھیں گے تو شاید آپ کو سب کچھ اُسی طرح محسوس نہ ہو۔یہ رات دراصل ماہرہ خان کی رات تھی جب انہوں نے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین گانوں پر دھماکے دار رقص پیش کر کے مختصر تعداد میں موجود حاضرین سے بھی تالیوں کی گونج حاصل کرلی ، میں نے اس سے پہلے ماہرہ خان کو کبھی سٹیج پر اتنا کھل کر رقص کرتے نہیں دیکھا تھا ، اس لیے یہ کافی خوشگوار لمحات تھے۔
لکس سٹائل ایوارڈز میں اس مرتبہ تینوں بڑی پرفارمنس 2019 کی فلم ’پرے ہٹ لوّ‘ کے گانوں پر تھیں۔’ہائے دل بیچارہ‘ میں انہوں نے شہریار منور اور احمد علی بٹ کے ساتھ مختصر شرکت کی جبکہ اپنی ہی اس فلم کے گانے ’مورے سیّاں‘ کو سٹیج پر ایک بار میں بغیر رکے انجام دیا ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی سٹیج پر ماہرہ خان اور میرا کو ایک ساتھ محوِ رقص دیکھنا ایک الگ ہی منظرتھا ، کوریوگرافر نگاہ جی سے جب میں نے پوچھا کہ یہ کیسے کیا ؟ تو انہوں نے مسکرا کر کہا، کہ ’بس کرلیا۔
میرا جی کے ساتھ ’اک پل بئی جانا‘ میں انہوں نے ماحول جگمگا دیا۔ سچ یہی ہے کہ میرا جی ماہرہ کی پرفارمنس کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھیں، اس دوران ماہرہ نے کئی مرتبہ خود میرا جی کی مدد بھی کی۔اس رات کی دوسری اچھی پرفارمنس مہوش حیات کی تھی جو انہوں نے روایتی پنجابی گانے ’بلے بلے‘ پر دی۔ رقص سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب مہوش ناچتی ہیں تو ماحول ہی بدل جاتا ہے۔
عاصم اظہر نے حال ہی میں وفات پانے والے فرہاد ہمایوں کو خصوصی ٹریبیوٹ پیش کیا جبکہ اس شو میں احسن خان اور ماضی کی لالی ووڈ اداکارہ ریشم نے بھی ماضی کے مقبول گانے ’میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں‘ پر رقص پیش کیا جو ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے کی اچھی سعی تھی اگر تابش ہاشمی کے خاکے کی بات نہ کریں تو ذکر ادھورا رہ جائے گا، اسے آپ ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں تاہم ایک صورتِ حال کافی دلچسپ رہی جب تابش نے بلال مقصود سے کہا کہ آپ کا گروپ سٹرنگز ٹوٹ گیا، اگلی بار کوئی مضبوط نام رکھیے گا ، اس پر انور مقصود کے صاحبزادے بلال مقصود نے اپنے والد کے انداز میں جواب دیا ، شکر کریں نام آئین نہیں تھا ورنہ صرف ٹوٹتا ہی نہیں بُری طرح بکھر جاتا۔
سنیچر کی شب کراچی میں بیسویں لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب کورنگی کے ایک سٹوڈیو کے اندر ہوئی۔ میں گیارہ سال سے تقریب میں باقاعدگی سے شرکت کرتا ہوں جو کراچی اور لاہور کے ایکسپو سینٹرز میں ہوتی ہیں جن میں بڑی تعداد میں فنکاروں اور شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ عوام کی بھی کافی تعداد شریک ہو ہی جاتی تھی۔گزشتہ برس تو یہ ایوارڈ ورچوئل کر لیے گئے تھے تاہم اس بار دو دہائیاں مکمل ہونے پر تقریب کا اہتمام تو کیا گیا مگر انتہائی محدود پیمانے پر یہاں تک کے صحافیوں کی بھی انتہائی کم تعداد کو دعوت دی گئی۔اس تقریب میں صرف مکمل ویکسی نیشن لگوانے والے افراد کو ہی کووڈ سرٹیفیکیٹ دکھا کر شرکت کی اجازت دی جا رہی تھی ، ماسک کی پابندی کا بھی ممکن حد تک خیال رکھا گیا اور نامزد فنکاروں کو کیٹیگری کے حساب سے ہال میں مدعو کیا گیا اور چھوٹی چھوٹی میزیں لگا کر ایک میز پر ایک شخص کا اصول قائم رکھا گیا۔
یہاں تک کہ ایوارڈ کا اعلان کرنے کے لیے تو مہمان سٹیج پر آتے مگر ایوارڈ کی ٹرافی ایک جانب رکھی ہوئی تھی جو جیتنے والا خود اُٹھاتا اور پھر تقریر کرتا۔یہ شو روایتی لکس سٹائل ایوارڈ شو نہیں تھا بلکہ ٹی وی پر جو دکھایا جائے گا اس کی ریکارڈنگ تھی یہی وجہ ہے کہ اس میں 12 گھنٹے لگے۔اس بارے میں فریحہ الطاف جو گزشتہ بیس سالوں سے یہ شو کرتی آئی ہیں انھوں نے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے بہت سختی تھی ، اس لیے اس میں کافی وقت بھی لگا ، دوپہر کو تین بجے ریکارڈنگ شروع ہوئی اور رات گئے تین بجے کے بعد ختم ہوئی۔
فریحہ کا کہنا تھا کہ اچھی بات یہ ہے کہ لکس ہرسال ہوتا رہا ہے، کبھی رُکا نہیں چاہے جو مرضی ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایوارڈز شو سے اٹھنے والے تنازعات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وہ ایک ایک چیز پر دھیان دیتی ہیں۔ ان کے سٹیج پر آنے والا ہر انسان جو بھی پہنتا ہے وہ ان کی منظوری سے ہوتا ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ خوبصورت نظر آنے کے لیے کم کپڑے ضروری نہیں۔بہرحال تقریب کی ریکارڈنگ کے دوران باربار رکنا اور تقریب کا ایک ترتیب میں نہ ہونا ، ایوارڈز کے درمیان بہت زیادہ لمبا وقفہ، پرفارمنس کے دوران دو تین بار رُکنا پھر کرنا، کافی اُکتانے والا تھا لیکن یہ جب ٹی وی پر چلے گا تو عوام کو نہیں معلوم ہوگا۔
اس تقریب کی میزبانی کے فرائض، مہوش حیات، منشا پاشا، احسن خان اور احمد علی بٹ نے انجام دیئے۔ اس دوران منشا پاشا کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی کیونکہ دیگر تینوں میزبانوں کی نسبت، منشا پاشا ابھی نئی ہیں مگر انہوں نے انتہائی پراعتماد اور نپے تلے انداز میں شو کو چلایا جس کی داد بنتی ہے۔ منشا پاشا نے جدید مغربی تراش کی ساڑھی زیب کی تھی اور انہوں نے اپنی شخصیت اور انداز سے کافی متاثر کیا۔
اس دوران مہوش حیات احسن خان کی سالگرہ کا کیک بھی لائیں اور سب نے احسن کو سالگرہ کی مبارک باد دی۔ مہوش حیات اور احمد علی بٹ نے شو میں کافی مزاحیہ اور طنزیہ انداز اپنایا جبکہ احسن خان اپنے منفرد روایتی انداز تک محدود رہے جو کافی مقبول ہے۔ایوارڈز کی بات کریں تو مارچ 2020 سے سینما بند ہونے کی وجہ سے اس مرتبہ فلم کی کیٹیگری شامل نہیں تھی اور ایوارڈز ڈراما، موسیقی اور فیشن پر ہی دیئے گئے۔
ڈراموں میں ہم ٹی وی کے ڈرامے ’پیار کے صدقے‘ نے نو میں سے چار ایوارڈز اپنے نام کیے جن میں بہترین اداکار و اداکارہ (جیوری) کا ایوارڈ بالترتیب بلال عباس اور یمنیٰ زیدی کو ملا جبکہ بہترین اداکارہ (پاپولر) کا ایوارڈ بھی یمنٰی زیدی نے حاصل کیا۔ اس ڈرامے کے ہدایتکار فاروق رند نے بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ حاصل کیا جبکہ بہترین اداکار (پاپولر) کا ایوارڈ دانش تیمور کو ڈرامہ دیوانگی کے لیے ملا۔ایم ڈی پروڈکشنز اور آئی ایس پی آر کی مشترکہ پیشکش ڈراما سیریل ’عہدِ وفا‘ نے بہترین ڈرامے، بہترین پس پردہ موسیقی (راحت فتح علی خان) اور بہترین اُبھرتے ہوئے اداکار (عدنان صمد خان) کے تین ایوارڈ حاصل کیے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی ایوارڈز کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک حاضر سروس بریگیڈیئر نے سٹیج پر آ کر ایوارڈ وصول کیا ہو۔ بریگیڈئیر جہانگیر احمد بہترین ڈرامے کا ایوارڈ وصول کرنے مومنہ درید کے ساتھ سٹیج پر آئے اگرچہ انہوں نے روایتی ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد کی جانے والی تقریر نہیں کی اور یہ کام مومنہ درید نے انجام دیا۔ ویسے آپ کو بتا دیں کہ بریگیڈئیر صاحب سادہ کپڑوں میں آئے تھے۔
بہترین ڈرامہ مصنف کا ایوارڈ ڈرامہ سیریل الف کی لکھاری عمیرہ احمد کے حصے میں آیا یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اے آر وائی ڈیجیٹل نے اس مرتبہ اپنے ڈرامے نامزدگی کے لیے بھیجے ہی نہیں تھے اس لیے انہیں شامل ہی نہیں کیا گیا۔حسینہ معین جن کا رواں برس مارچ میں انتقال ہوا تھا کو اس بار خصوصی ایوارڈ ’چینج میکرز‘ کا دیا گیا جو ان کی بھتیجی نے وصول کیا۔
موسیقی کی کیٹیگری کی بات کریں تو عباس علی خان بہترین گلوکار قرار پائے جبکہ بہترین گانا ’بیان‘ کا تیری تصویر ٹھہرا۔ اُبھرتے ہوئے گلوکار کا جیوری ووٹ عزیز خان کو ملا اور بہترین میوزک ویڈیو ہدایتکار کا اعزاز حمزہ بن طاہر ’تیری تصویر‘ کے لیے قرار پائے۔اس سال فیشن کی دنیا میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والی بنٹو کاظمی کو لکس کی جانب سے ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ دیا گیا جبکہ فیشن کے دیگر شعبوں میں دیئے جانے والے ایوارڈز میں مشک کلیم بہترین خاتون ماڈل ، سچل افضل بہترین مرد ماڈل ، نجیم محمود فیشن فوٹو گرافر ، سنیل نواب کو ہیئر اور میک اپ کی کیٹیگری میں ایوارڈز سے نوازا گیا۔
سارہ ذوالفقار کو اُبھرتے ہوئے ستارے ، شہلا چتور کو بہترین عروسی ڈیزائننگ ، اسماعیل فرید کو بہترین مردانہ ڈیزائننگ ، بہترین ڈیزائنر کا ایوارڈ جنریشن جبکہ بہترین ڈیزائننگ لگژری پریٹ کا ایوارڈ حسین ریحار کے حصے میں آیا۔
