ماہرہ کے بعد صبا قمر خلیل الرحمن کے نشانے پر کیوں آگئیں؟

معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے ماہرہ خان کے بعد اداکارہ صبا قمر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ میں زندگی بھر کبھی بھی صباقمر پر کتاب نہیں لکھوں گا، وجہ بتائی کہ حالیہ لکس سٹائل ایوارڈ میں صبا قمر کا لباس دیکھ کر میرا دل ان سے اچاٹ ہو گیا ہے۔خلیل الرحمٰن نے ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام ’ ٹاک ٹاک شو‘ میں بطورِ مہمان شریک ہوئے جہاں اُنہوں نے عورت مارچ میں لگنے والے نعرے ’ میرا جسم میری مرضی‘ سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو کی۔ پروگرام ’ ٹاک ٹاک شو‘ کا یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جہاں صارفین کی جانب سے خلیل الرحمٰن کی حمایت کی جا رہی ہے، صارفین نے کہا کہ پاکستان میں کوئی تو ایسی شوبز شخصیت ہے جس نے پاکستانی اداکاراوْں کے لباس کے بارے میں بات کی۔خلیل الرحمٰن قمر نے کہا تھا کہ اللہ وہ وقت نہ لائے کہ مجھے کبھی ماہرہ خان کو معاف کرنا پڑے، ماہرہ خان کہیں ملیں اورسلام کیا توجواب دوں گا لیکن انہیں معاف نہیں کروں گا، واضح کیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں مہوش حیات کے ساتھ کبھی کام نہ کرنے کی بات مذاق میں کہی، جسے سچ سمجھ لیا گیا، سماجی رہنما ماروی سرمد کے ساتھ ہونے والے تنازع پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کی صرف لڑائی والی ویڈیو کلپس وائرل کر کے انہیں بدنام کیا گیا اگر ماروی سرمد اپنی باری پر انہیں گالیاں بھی دیتیں تو وہ برداشت کر لیتے لیکن انہوں نے ان کی باری پر مداخلت کی، جس وجہ سے انہیں غصہ آیا، دعویٰ کیا کہ انہیں خواتین کو سخت جوابات دینے پر عوام میں پذیرائی ملی اور انہیں زیادہ تر مرد سراہتے ہیں۔ڈراما نگار نے پروگرام کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں کے مخلوط تعلیمی نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو ایسا نظام نہیں ہونا چاہئے اور دوسرا یہ کہ اگر ایسا نظام بنایا جائے تو پھر دونوں پر سخت نظر رکھی جائے، مخلوط تعلیمی نظام کو لڑکیوں کی لڑکوں کو باآسانی دستیابی سے بھی جوڑا اور کہا کہ پہلے زمانے میں لڑکیاں دستیاب نہیں ہوتی تھیں تو مردوں کو منتیں کرنی پڑتی تھیں، اب ایسا نہیں اور ایسے ہی معاملات میں مردوں کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

Back to top button