ماہرین صحت کا ملک میں 4ہفتے کے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ

ماہرین صحت نے ملک بھر میں مزید 2 سے 4 ہفتہ کے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام کو متنبہ کیا ہے کہ کرونا بارے احتیاط نہ کی تو صورتحال اٹلی سے بدتر ہو جائے گی.
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹراشرف نظامی نے اگلے2سے4ہفتے پاکستان کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا وزیراعظم اورصدر نے جو اعلانات کئے ان پر نظر ثانی کریں ، ہمیں بھی سعودی حکومت کی طرز کے فیصلے کرنے چاہییں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹراشرف نظامی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا خدارا ہمیں یورپ جیسی صورتحال کی طرف نہ دھکیلیں، اگلے2سے4ہفتے پاکستان کیلئے بہت اہم ہیں، خدا نہ کرے وہ وقت آئے کہ ہمیں سڑکوں پرعلاج کرناپڑے۔صدرپی ایم اے کا کہنا تھا کہ تمام حالات دیکھتے ہوئے رٹ آف دی گورنمنٹ فیصلہ کرتی ہے، سعودی عرب، دبئی، ترکی، ملائیشیا نےجو فیصلے کئے وہ سب کوپتہ ہیں، ملک کو ایسے امتحان میں نہ ڈالیں جس کا ازالہ نہ ہوسکے، تمام اداروں،چیف جسٹس سے بھی درخواست ہے۔ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ پاکستان میں 10ہزار سے زائد لوگ کورونا کا شکار ہوگئے ہیں، اللہ معاف کرے خدا نخواستہ کورونا کیسز کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا لاعلاج ہے ، صرف احتیاطی تدابیر سے ہی بچا جاسکتاہے، مقتدر اداروں، چیف جسٹس سے گزارش ہے قدم آگے بڑھائیں ، خدارا ہم آج تک کہتے رہے ہیں احتیاط علاج سے بہترہے، محتاط رہنا اس کورونا وائرس میں ہزار درجے بہتر ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ کارخانوں میں ایس اوپیز پر عمل ہوگا تو ہی زندگی چلے گی، پاکستان 22 کروڑ کا ملک ہے ،ٹیسٹنگ ابھی صرف 20ہزار تک پہنچی ہے، یہاں کورونا کیسز کی تعداد ہزاروں میں نہیں اس سے کہیں زیارہ ہے ، ہوسکتا ہے کیسز کی تعداد لاکھوں میں ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے سب سے اول خانہ کعبہ ہے اورپھر مسجد نبوی ہے ، ہمیں بھی سعودی حکومت کی طرز کے فیصلے کرنے چاہئیں ، تراویح اور نماز کی اجازت خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں بھی نہیں دی گئی، صدر مملکت کو علما کرام سے کیے گئے معاہدے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔انھوں نے مزہد کہا کہ حکومت کو آگے بڑھ کر یہ سارے کام کرناہوں گے، وزیراعظم اور صدر نے جو اعلانات کئے انہیں ریویو کرنا چاہئے، علمائے کرام نے ہمیشہ حکومت کے مؤقف کو سپورٹ کیا ہے، اسوقت ڈاکٹرز جان کی پرواہ کئے بغیر فرنٹ لائن پر کام کررہے ہیں۔
دریں اثناءانڈس اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالباری نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں نرمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط نہ کی تو خدانخواستہ صورتحال اٹلی جیسی ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ جہاں مجمع ہو گا وہاں کورونا کے پھیلنے کا خدشہ ہو گا، چاہے مجمع مارکیٹ میں ہو یا مسجد میں اسے روکنے کی ضرورت ہے لہذا سب سے التجا ہے کہ گھر سے غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔ڈاکٹر عبدالباری نے کہا کہ پاکستان کو وینٹی لیٹرز کی کمی کا سامنا ہے، کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھے تو اسپتالوں کے لیے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا اور اگر احتیاط نہ کی تو خدانخواستہ صورتحال اٹلی جیسی ہو سکتی ہے۔انھوں نے ہدایت کی کہ صفائی کا خیال رکھیں اور ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ڈاکٹر عبدالباری نے خبر دار کیا ہے کہ مساجد کھولنے سے کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا۔اس کے علاوہ پاکستان، برطانیہ اور سعودی عرب سے مختلف ماہرین نے علمائے کرام اور حکومت کو ایک خط لکھا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ علمائے کرام مساجد میں باجماعت نماز اور تراویح کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔
دوسری جانب ڈاکٹر سعد نیاز کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ بڑھائے جائیں گے تو کورونا کیسز بھی زیادہ آئیں گے اور ہمارے ہیلتھ سسٹم میں اتنی صلاحیت نہیں کہ بڑی تعداد میں کیسز دیکھ سکیں کیونکہ ہمارا صحت کا نظام زیادہ کیسز کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ڈاکٹر سعد نیاز کا کہنا تھا کہ سب کہہ رہے ہیں مئی میں کورونا وائرس بڑھیں گے اس لیے سخت احتیاط کی ضرورت ہے اس صورتحال میں لاک ڈاؤن کو مزید دو سے چار ہفتے بڑھانا ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی کے سینئر ڈاکٹرز نے انتظامیہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے کورونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھیں گے جس سے ملک کا پہلے سے کمزور صحت کا نظام بیٹھ جائے گا۔کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں حکومت کی جانب سے نافذ کیا جانے والا سخت لاک ڈاؤن ملک کے دیگر حصوں کی طرح اب ایک مذاق بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘میں بہت احترام کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت نے غلط فیصلہ کیا ہے اور ہمارے علما نے انسانی جانوں سے کھیل کر انتہائی بےحسی کا مظاہرہ کیا ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ لڑائی کورونا وائرس اور ڈاکٹروں کے درمیان ہے اس لیے برائے مہربانی ہماری بات سنیں، جبکہ حکومت اور علما نے کسی تکنیکی شخص کو شامل کیے بغیر اجلاس منعقد کیا۔’ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ‘آپ نے 20 نکات طے کیے لیکن آپ مجھے بتائیں کہ کیا پاکستان کی مساجد میں ان پر عملدرآمد ہوگا؟’انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعظم نے کہا کہ جن مساجد میں ان ایس او پیز پر عمل نہیں ہوا انہیں بند کردیا جائے گا، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔’
اس موقع پر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے بھی علما پر زور دیا کہ وہ مساجد کھلی رکھنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔انہوں نے کہا کہ ‘مساجد میں اجتماعات سے کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوگا، اگر ہم اسے نہیں روکتے اور یہ پھیلتا رہتا ہے تو سب مارکیٹیں اور سپر مارکیٹیں بھول جائیں گے اور ان کی انگلی مساجد کی طرف اٹھے گی۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘تمام مکاتب فکر کے علما کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جانیں بچانا وبا کی صورتحال میں سب سے زیادہ ضروری ہے، انہیں عام آدمی کو مساجد میں اجتماعات سے دور رکھنے کی ضرورت کی توثیق کرنی چاہیے۔’ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت لاک ڈاؤن کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ لاک ڈاؤن سے عام آدمی کو ‘تکلیف پہنچے گی’ لیکن پاکستان کو چوتھی سب سے زیادہ مخیر قوم قرار دیا گیا ہے اور عطیات دینے والے لوگوں اور اداروں کی مدد سے کمزور طبقے کا خیال رکھا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے ایک ہزار کیسز ایک ماہ میں سامنے آئے لیکن لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ان میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مناسب اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو ایسا وقت بھی آسکتا ہے جب ڈاکٹروں کو یہ انتخاب کرنا پڑے گا کہ کس مریض کو بچائیں اور کس کو چھوڑ دیں۔ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ ہسپتالوں کی آئی سی یوز کی مدد نہیں کرنا چاہتی اور ہمارے ذاتی حفاظت کا سامان نہیں ہے، جب ہم اس سامان کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو نوکری چھوڑ دیں۔’
انڈس ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر عبدالباری نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ ‘کراچی میں صحت کے تقریباً تمام مراکز بھر چکے ہیں اور حکومت کے لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے سے ڈاکٹروں میں تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے۔’
