ماہ رمضان میں ہم سے جدا ہونے والی شوبز شخصیات

مسلمانوں کےلیے رمضان المبارک کی ایک خاص اہمیت ہے کیونکہ یہ رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے اور ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس میں زیادہ سے زیادہ بیویاں کمائے۔ ماہ رمضان میں ہمیں خاص طور پر ان لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو اس بابرکت مہینے میں ہم سے ہمیشہ کےلیے بچھڑ گئے۔ ان کی مغفرت کےلیے بھی ہمیں خاص طور پر دعا کرنی چاہیے، آج ہم آپ کو شوبز سے وابستہ ان لوگوں کے بارے میں بتائیں گے جو ہم سے اسی مہینے رخصت ہوئے تھے-

خوبصورت کوکنگ شو میزبان فرح جہانزیب ایک بہترین فیشن ڈیزائنر بھی تھیں- ان کو لوگ کوکنگ شوز میں دیکھنے کے عادی تھے اور اسطرح وہ تقریبا ہر گھر کا حصہ تھیں۔ پھر کچھ برس پہلے وہ اچانک ٹی وی اسکرین سے غائب ہو گئیں- پھر ان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہو چکی ہیں اور ان کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں- آخر 27 جولائی 2014 کو فرح اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں اس دن رمضان کی 30 تاریخ تھی-

نوجوان اداکار بلال خان کی زندگی جذبوں سے بھرپور اور ان کی آنکھیں بڑے بڑے خواب دیکھ رہی تھیں ان کو امید تھی کہ جلد ہی شوبز کے شعبے میں وہ تمام کامیابیاں حاصل کرلیں گے جن کے خواب وہ دیکھتے رہے ہیں۔ وہ تیزی سے عوام میں مقبولیت حاصل کر رہے تھے مگر کاتب تقدیر کے صفحات پر کیا لکھا ہوتا ہے یہ کوئی نہیں جا نتا ہے۔ ایسا ہی بلال خان کے ساتھ بھی ہوا۔ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران وہ ایک دھماکے میں بری طرح زخمی ہوئے اور 11 اگست 2010 دو رمضان کو اپنے چاہنے والوں کو ہیمشہ کےلیے اداس چھوڑ گئے۔

نئے دور کے ہر دلعزیز قوال امجد صابری ایک ملنسار اور خوش اخلاق شخصیت کے مالک تھے، خوبصورت جذبوں سے بھرپور آواز والے امجد ر رمضان میں ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشن کی جان ہوا کر تے تھے۔ اس دوران ان پر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے یہ دباؤ آیا کہ وہ پارٹی کے فنڈ میں چندہ جمع کروائیں جسے انہوں نے انکار کردیا۔ جو ازاں انہیں سترہ رمضان المبارک بمطابق 22 جون 2016 کو رمضان نشریات میں شرکت کےلیے ایک ٹی وی چینل کے دفتر جاتے ہوئے روزے کی حالت میں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا تھا-

ملکہ ترنم نور جہاں سے کون واقف نہیں، فن گائیکی میں میڈم وہ مقام حاصل تھا کہ جس کی لوگ صرف تمنا ہی کرسکتے ہیں، میڈم نے جو گانا گایا امر ہوگیا۔ نور جہاں کو ملکہ ترنم کا اعزاز 1965 کی پاک بھارت جنگ میں وہ نغموں گانے پر دیا گیا جنہوں نے پورے ملک میں حب الوطنی کی ایک لہر پھونک ڈالی تھی۔ نور جہاں کا انتقال 23 دسمبر 2000 کو کینسر کے سبب کراچی کے آغا خان اسپتال میں ہوا۔ ان کے انتقال کے وقت رمضان کی ستائیسویں شب تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button