ماہ نور نے طلاق کے بعد شوہر سے تعلقات کیسے بہتر کیے؟

اداکارہ ماہ نور حیدر نے انکشاف کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ میاں بیوی کے تعلقات خراب ہوں تو ہی ان میں علیحدگی ہو بعض اوقات اچھے میاں بیوی بھی ایک ساتھ چلنے سے قاصر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے راہیں جدا کرنا پڑتی ہیں۔ماہ نور حیدر نے حال ہی میں فوچیا میگزین کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے اپنی شادی، طلاق اور شادی ختم ہونے کے بعد کی زندگی پر کھل کر بات کی، ان کی شادی محض 22 سال کی عمر میں ہوگئی تھی، کالج کی پڑھائی ختم کرتے ہی انہوں نے شادی کرلی تھی۔ اُن کے مطابق ان کا رشتہ 21 سال کی عمر میں طے ہوا اور 22 سال کی عمر میں ان کی رخصتی ہوئی، تاہم چار سال بعد ہی ان کی شادی طلاق پر 2020 میں ختم ہوئی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ طلاق لینے سے قبل انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق والد سے مشورہ کیا تھا، انہیں اپنی مرضی کےمطابق فیصلہ کرنا کا اختیار دیا گیا اور کہا کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے سماج کو دیکھے بغیر اپنی مرضی سے کریں، انہوں نے والدین کی تعریفیں کرتے ہوئے اس بات پر شکرانے کیے کہ انہیں اچھے اور مدد دینے والے والدین ملے۔ماہ نور حیدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی طلاق کیوں ہوئی، تاہم بتایا کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ شوہر یا بیوی غلط یا خراب ہو تو طلاق ہو، کبھی کبھار دونوں میاں اور بیوی اچھے بھی ہوتے ہیں لیکن وہ ایک ساتھ رہتے ہوئے اچھی طرح نہیں چل سکتے، اس لیے بھی الگ ہونا پڑتا ہے، ان کے ساس اور سسرالی ان کے لیے آج بھی اتنے ہی محترم ہیں جیسے شادی کے وقت تھے اور وہ ساس کی آج بھی والدہ کی طرح عزت کرتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ان کی طلاق ہو چکی لیکن ان کے اور شوہر کے درمیان اب بھی اچھے روابط اور تعلقات ہیں بلکہ ان کے درمیان طلاق کے بعد پہلے سے زیادہ بہتر تعلقات ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ طلاق کے بعد وہ ڈپریشن کا شکار ہوئی تھیں لیکن والدین اور دوستوں کی وجہ سے وہ ڈپریشن سے نمٹنے میں کامیاب ہوگئیں، طلاق نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی مشکل ہوتی ہے، وہ بھی ڈپریشن کا شکار بن جاتے ہیں۔

Back to top button