مبارک ہو! غیبی ٹائیگر فورس نظر آنے کا امکان پیدا ہوگیا

کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کپتان کی تشکیل کردہ نظر نہ آنے والی رضاکار ٹائیگر فورس کے بالآخر نظر آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ کپتان نے عثمان ڈار کی قیادت میں گھروں میں چھپ کر کرونا کے خلاف بے جگری سے جنگ لڑنے والے لاکھوں ٹائیگر فورس رضا کاروں کو عید الاضحیٰ کے بعد دھوپ لگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس غرض سے کپتان نے بڑی عید کے بعد ٹائیگر فورس ڈے منانے کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں اب تک نظر نہ آنے والی ٹایئگر فورس پہلی مرتبہ عوام کے سامنے ہو گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ٹائیگر فورس کے رضا کار کرونا کو شکست دینے کے بعد اب ملک بھر میں شجر کاری مہم میں حصہ لیں گے اور مون سون شجرکاری مہم کے دوران ایک کروڑ درخت لگائیں گے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹائیگر فورس کے رضا کاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے رجسٹریشن کا عمل دوبارہ اوپن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نوجوان تیاری کریں، وزیراعظم نئی ذمہ داریوں کو اعلان کرنے والے ہیں۔ تاہم عثمان ڈار نے یہ نہیں بتایا کہ 4 مہینے پہلے تشکیل دی جانے والی ٹائیگر فورس کے رضا کاروں نے نظر نہ آتے ہوئے کرونا کے خاتمے کی مہم کس طرح چلائی اور کیا وجہ ہے کہ کرونا کے خاتمے سے پہلے ہی ان کو شجر کاری مہم کا ٹاسک دے دیا گیا ہے؟ ٹائیگر فورس ڈے منانے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر تبصرے شروع ہیں۔ ایک صارف فرحت سلطانہ نے لکھا کہ سنا ہے عید کے بعد ‘ٹائیگر فورس ڈے’ منائے گی حکومت، چلو اچھا ہے اس بہانے کوئی ٹائیگر تو دیکھنے کو ملے گا۔’
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کرونا سے لڑنے کے لیے خصوصی طور پر تشکیل کردہ ٹائیگر فورس عملی طور پر پورے ملک میں ابھی تک کہیں بھی نظر نہیں آ سکی اور اسکے 10 لاکھ رضاکاروں کا ڈھونڈنے پر بھی سراغ نہیں مل پا رہا۔ وزیر اعظم کی جانب سے ٹائیگر فورس تشکیل دیے جانے کے چار ماہ بعد بھی ملک کے کسی بھی صوبے میں کپتان کے یہ ٹائیگر عوام کی مدد کرتے یا موذی کورونا وائرس پر چیختے چنگھاڑے نظر نہہں آرہے۔ شہریوں سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ شاید ٹائیگر فورس والوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے اسی لئے یہ ہونے کے باوجود کسی کو نظر نہیں آتے۔ آج پاکستان میں اس وبا کو پھیلے چار ماہ ہو گے، دو لاکھ سے زائد افراد اس کا نشانہ بن چکے ہیں، پانچ ہزار سے زائد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گئے اور ملک بھر کے 20 شہروں کے 540 کے قریب مقامات اس بیماری کا گڑھ بننے کے باعث ہرطرح کی نقل و حمل کے لیے بند ہیں، لیکن کرونا سے لڑنے والے یہ ٹائیگرز کہیں شاز و نادر ہی نظر آ رہے ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نوجوانان عثمان ڈار، جن کو اس غیبی فورس کی تشکیل کی ذمہ داری دی گئی تھی، کے مطابق ٹائیگر ریلیف فورس کے رضا کار کے طور پر رجسٹرڈ افراد کی تعداد بڑھ کر 10 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے، جس میں سب سے زیادہ رضاکار پنجاب کے 6 لاکھ 58 ہزار 467 ہیں۔ حالیہ دنوں کئی ٹاک شوز میں عثمان ڈار سے ٹائیگر فورس کی عدم فعالیت بارے سوال کیا گیا تو وہ روایتی انداز میں آئیں بائیں شائیں کرکے خفت چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہی نظر آئے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں سب سے زیادہ رضاکار رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ لاہور، ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں کورونا ٹائیگر فورس رضاکاروں کے حوالے سے تقاریب بھی ہوئیں۔اس کے باوجود پنجاب میں کورونا ٹائیگر فورس کام کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔
حکام کے مطابق ابتدا میں کل رضا کاروں میں سے دو لاکھ پچیس ہزار لوگوں کو عملی ذمہ داریاں سونپی گئیں لیکن یہ رضا کار ابھی اپنی خدمات کی نوعیت سمجھ ہی رہے تھے کہ ملک میں عملی طور پر لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا۔ جس کے بعد کچھ دنوں تک اس فورس کے وجود پر بادل چھائے رہے پھرایک روز وزیراعظم نے ان تمام ٹائیگرز کو متحرک کیا اور انھیں کرونا سے متعلق آگاہی پھیلانے، ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے اور ٹڈی دل کے خلاف اور شجر کاری مہم میں کردار ادا کرنے کی از سر نو مرتب کردہ ذمہ داریاں سنبھالنے کو کہا۔ مختلف شہروں میں ان کی حلف برداری کی تقاریب شروع ہوئیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ ان کی تعیناتی کے متعلق گفت و شنید کا آغاز ہوا ہی تھا کہ حکومت کو ایک مرتبہ پھر کورنا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تحت ملک کے کئی علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کا سلسلہ شروع کرنا پڑا۔ان حالات میں ٹائیگر فورس کے رضا کاروں کو ملک بھر کی مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا کہ وہ جہاں چاہیں ان کو لوگوں کی مدد کے لیے تعینات کریں۔ توقع کی جارہی تھی کہ اس کے بعد ملک کے گلی گلی اور کونے کونے میں پھیل کر یہ رضا کار عوام کے ساتھ مل کر کورونا کو شکست دے دیں گے، لیکن تا حال ایسا نظر نہیں آیا۔ ٹائیگر فورس کی فعالیت کے متعلق کے کیے گیے ایک ملک گیر سروے کے مطابق اس وقت صرف وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں کورونا ٹائیگر فورس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ متحرک کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہے جبکہ صوبائی سطح پر اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کرونا ٹائیگر فورس پر لگی سیاسی چھاپ صوبائی حکومتوں اور بیورو کریسی کو اس کے رضاکاروں کو دور رکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔کرونا ٹائیگر فورس کی تشکیل کے مقاصد ہی اتنی بار تبدیل ہوئے ہیں کہ کبھی ان سے کرونا ریلیف سرگرمیاں انجام دینے کا اعلان ہوا، کبھی شجر کاری کرنے اور ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے ان کی خدمات لینے کا کہا گیا. علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ، بیوروکریسی اور ٹائیگر فورس کے درمیان روابط کی کمی اور بیوروکریسی کی عدم دلچسپی کی وجہ مستقبل قریب میں آڈٹ کا خوف بھی ہوسکتا ہے جس میں ٹائیگر فورس کے نام پر استعمال ہونے والے فنڈز سے متعلق جواب انتظامیہ کو ہی دینا پڑے گا۔
