متنازع ترین جج جسٹس اعجاز الاحسن کے تنازعات کی کہانی

کرپشن اور مالی بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج کہلانے والے جسٹس مظاہر نقوی کے استعفے کے ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ کے دوسرے متنازع ترین کردارکے حامل عمرانڈو ہم خیال جج جسٹس اعجازالاحسن بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ تنازعات سے بھرپور دور گزارنے والے عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفیٰ بہت سے جواب طلب سوال چھوڑ گیا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن کے دور کے تنازعات میں پاناما پیپرز کیس کی احتساب عدالت کی نگرانی سے لے کر تقریباً ہر سیاسی جماعت کے مقدمات سننا، گرینڈ حیات ٹاور کیس کی سماعت پر اعتراضات اور جسٹس مظہر اکبر نقوی کو سپریم جوڈیشل کونسل سے بچانے کی کوششوں جیسے معاملات شامل ہیں کیونکہ جب سے جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا حلف لیا تھا جسٹس اعجاز الحسن ہر اہم مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے اس وقت بھی بینچوں کی کمپوزیشن میں ججوں کی شمولیت کے حوالے سے متعدد خطوط لکھے تھے کہ دیگر ججوں کو نظرانداز کیاجارہا ہے تاہم اس کے باوجود جسٹس اعجاز الاحسن اہم سیاسی و غیر سیاسی مقدمات کی سماعت کرنے والے پینچز کا مستقل حصہ رہے جبکہ سپریم کورٹ کے ججز کے علاوہ بہت سی سیاسی جماعتوں بشمول پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) نے کھلے عام جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر علی اکبر نقوی کی بینچز میں شمولیت پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
نوازلیگ نے بالخصوص ان دوججوں پر اعتراضات کیے تھے اور پارٹی قیادت کے خلاف ان کے تعصب کو نمایاں کیا تھا۔پارٹی کے رہنماؤں نے سینئر ججوں کی غیر جانبداری کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے اور ایک درجن سے زائد ایسے حوالے دیے تھے جن میں جسٹس اعجاز الاحسن نے نوازشریف اور شہباز شریف کیخلاف فیصلے دیے تھے۔
فروری 2023 میں اس وقت کے وزیرداخلہ راناثنا اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر علی اکبر نقوی پرالزامات عائد کیے تھے کہ وہ نواز لیگ کے خلاف تعصب رکھتے ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نوازلیگ کی قیادت کے حوالے سے مقدمات سے انہیں دور رکھا جائے۔ تاہم ان تحفظات کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو کبھی ان بنچوں سے الگ نہیں رکھا انہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کئی سوموٹو بھی لیے تھے۔ اس وقت کے وزیرداخلہ راناثنا اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جسٹس اعجاز الحسن نگراں جج کے طور پر پارٹی قائد نوازریف کے خلاف کیس کی نگرانی گرتے رہے اور ان سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔
خیال رہے کہ پاناما پیپرز سننے والے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے تھے اس میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے جنہوں نے نوازشریف کو عمر بھر کےلیے نااہل کیا تھا۔ بینچ نے جسٹس اعجاز الحسن کو ٹرائل کورٹ کی نگرانی کےلیے نگراں جج مقرر کیا تھا۔ نگراں جج لگانے کا فیصلہ عدالتی دائرہ کار میں ایسا تھا جس کی پہلے کوئی نظہرنہیں تھی۔
پاناما پیپرز کیس میں جے آئی ٹی کا رکن وٹس ایپ کے ذریعے مقرر کرنے کی سازش بھی شامل تھی۔ چند منتخب عہدیداروں کو سپریم کورٹ کے پاناما بینچ کی ہدایات پر مختلف محکموں سے چنا گیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نےتقریباً ہر مقدمے میں نوازشریف اور شہباز شریف کے خلاف فیصلہ دیا اور ان میں پاناما پیپرز کے علاوہ پارٹی قیادت کا کیس، پاکپتن زمین الاٹمنٹ کیس اور رمضان شوگر ملز کیس وغیرہ شامل ہیں۔
اسی طرح گرینڈ حیات ٹاور کیس میں جسٹس اعجاز الاحسن کی شمولیت پر وکلا نے سوال اٹھایا تھا۔ ان وکلا کےمطابق جسٹس اعجازالاحسن گرینڈ حیات ٹاور بنانے والی کمپنی کے لیگل ایڈوائزر تھے۔ مفادات کے اس واضح ٹکراؤ کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو بینچ سے نہیں نکالا اور بالآخر اپنی کلائنٹ کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا۔
حال ہی میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن کے مابین اس وقت ایک تنازع ہوا جب بینچوں کی تشکیل اور ان میں سینئر ججوں کی شمولیت کا معاملہ زیر غور آیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے چیف جسٹس کو ایک خط لکھاجس میں انہوں نے بینچوں کی تشکیل سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کے خدشات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے الزامات حقائق اور ریکارڈ کے خلاف ہیں۔ ہمیں چھ دنوں کی تنخواہ ملتی ہے ساڑھے چار دن کام کرنے کی نہیں۔ یہ چیف جسٹس نے اس وقت لکھا جب انہیں اطلاع ملی کہ جمعہ کی سہ پہر کو جسٹس اعجاز لاحسن لاہور روانہ ہوگئے تھے۔جسٹس ثاقب نثار سے لے کرکر جسٹس عمر عطا بندیال کے عرصے تک جسٹس اعجاز الاحسن ہراہم کیس کا حصہ ہوتے تھے تاہم جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ اور سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر بلز کےنفاذ کے بعد اگرچہ بینچوں کی تشکیل کے حوالے سے ان سے مشاورت کی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے شکایت کی اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔
مزیدبرآں ایک اور تنازع اسوقت ابھر کر سامنے آیاجب جسٹس اعجاز الاحسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن کی حیثیت سے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی مخالفت کی اور اسے ایک عاجلانہ، غیر ضروری اور طے شدہ قانونی معیارات کے خلاف قرار دیا۔تاہم ان کی مخالفت اور تحفظات کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے ساتھی جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ تاہم اپنی کرپشن ثابت ہوتی دیکھ کر جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے استعفی دے دیا۔ ٹرک والے جج کے استعفے کے ایک روز بعد ان کی ایمانداری کی گواہی دینے والے عمرانڈو جج جسٹس اعجازالاحسن بھی مستعفی ہو گئے۔ یوں سپرین کورٹ میں تطہیر کا عمل آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔مختصر بات یہ ہے کہ جسٹس اعجاز لاحسن نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنی ملازمت کے تمام عرصے میں تنازعات کا شکار رہے۔
