مجھے باس کہنے والا عمران خان آج جھوٹ بول رہا ہے: باجوہ

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کی جانب سے خود پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف وہ زمانہ بھول گئے جب وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی مجھے باس کہہ کر پکارا کرتے تھے اور میں انہیں ایسا کرنے سے منع کیا کرتا تھا۔ بقول جنرل باجوہ، میں عمران خان کو کہتا تھا کہ یہ اچھا نہیں لگتا، کیونکہ ٹیکنکلی تو آپ بطور وزیر اعظم میرے باس ہیں۔

جنرل قمر باجوہ کی یہ گفتگو اینکر پرسن منصور علی خان نے رپورٹ کی ہے اور انکا کہنا ہے کہ اسے جنرل باجوہ کی گفتگو ہی سمجھا جائے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں عمران نے ایک انٹرویو میں جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے فیصلے کو اپنی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا اور کہا کہ وہ مجھ سے ڈبل گیم کھیلتے ہوئے مسلسل مجھے دھوکہ دیتے رہے کیوں کہ میں ایک معصوم انسان ہوں اور میری امی بھی یہی کہا کرتی تھیں۔

دوسری جانب منصور علی خاں کے بقول جنرل باجوہ نے عمران کے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں ایک احسان فراموش شخص قرار دیا ہے جو اپنے مفاد کے لیے کوئی بھی غلط بیانی کر سکتا ہے۔ انکے مطابق عمران خان کی عادت بن گئی تھی کہ وہ ہر کام فوج سے کرواتے تھے، اور اسی لیے ان کی نا اہلی اور ناکامی کا سارا نزلہ ادارے پر گر رہا تھا، چنانچہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران 26 میں سے 20 کور کمانڈرز نے کہا ہمیں خود کو عمران خان سے علیحدہ کر لینا چاہیے، 6 کور کمانڈرز ایسے تھے جو کہہ رہے تھے کہ ہمیں اب بھی عمران خان  کو ہی سپورٹ کرنا چاہیے، لیکن وقت گزرنے کیساتھ ان 6 نے بھی کہا کہ ہمیں فوج کو بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا ہوگا، چنانچہ مارچ 2021 میں عمران خان کو بتا دیا تھا کہ اب آپ کو فوج کی سپورٹ نہیں ملے گی۔

بقول جنرل باجوہ، عمران خان مجھے اکثر باس کہہ کر بلاتے تھے لیکن میں انہیں منع کیا کرتا تھا۔ ایک روز عمران نے مجھے کہا کہ باس، ہم دونوں پارٹنرز ہیں، میں نے جواب میں کہا کہ ایسا نہیں ہے، آپ بطور وزیراعظم میرے باس ہیں، برائے مہربانی ایسے الفاظ استعمال نہ کیا کریں، اپنے عہدے میں ایکسٹینشن کی خواہش کی تردید کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا کہ 2019 میں بھی انکی عہدے میں توسیع کی خواہش نہیں تھی اور انہیں ایکسٹینشن کا پتہ میڈیا کے ذریعے چلا، انہوں نے کہا کہ 2022 میں بھی میری ایکسٹینشن کی خواہش نہیں تھی لیکن پہلے مجھے اسد عمر نے فون کر کے دو سال کی توسیع دینے کی تجویز دی۔

اس کے تین روز بعد پرویز خٹک نے بھی مجھ سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے ان سے کہا کہ آپ آئی ایس آئی کے دفتر جائیں اور وہاں سے سیکیور لائن پر کال کریں، بقول جنرل باجوہ  آئی ایس آئی کے دفتر سے پرویز خٹک نے مجھ سے فون پر بات کی، وہاں ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم بھی موجود تھے، انہوں نے تاثر یہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان آپ کو تاحیات ایکسٹیشن دینا چاہتے ہیں، یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ایک پریس کانفرنس میں بتا چکے ہیں کہ عمران خان نے ان کی موجودگی میں جنرل باجوہ کو تاحیات ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کی پیشکش کی تھی۔ لیکن انہوں نے پیشکش مسترد کردی تھی۔

جنرل قمر باجوہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مئی 2021 میں عمران خان کو بطور وزیر اعظم بتایا تھا کہ اگر جنرل فیض کو اگلا آرمی چیف بنانا ہے تو پھر اسے کور تو لازمی کمانڈ کروانی پڑے گی، عمران نے کہا کہ اگلے مہینے فیصلہ کر دیتے ہیں، ایک ماہ بعد میں نے دوبارہ پوچھا تو موصوف نے پھر کہا کہ اگلے مہینے کرتے ہیں، جنرل باجوہ کے بقول تیسری مرتبہ جنرل فیض نے خود مجھ سے کہا کہ جا کر عمران سے بات کریں کہ میرا کور کمانڈ کرنا بہت ضروری ہے ورنہ میں آرمی چیف کی دوڑ سے باہر ہو جاؤں گا، اسکے بعد وزیراعظم سے مشورہ ہوا اور پھر مجھے  گرین سگنل مل گیا۔ لیکن جب جب ندیم انجم کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی لگانے کا اعلان ہو گیا تو عمران خان نے گند ڈال دیا۔ معاملات اس حد تک خراب ہو گئے کہ میں نے عمران کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو فون کر کے کہا کہ وزیراعظم کو بتا دیں کہ اگر ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کو روکا گیا تو آج میرا بطور آرمی چیف آخری دن ہو گا، اسکے بعد فیض حمید اور دیگر کور کمانڈرز نے مجھ سے کہا کہ ایسا نا کریں۔ اسکے بعد میری بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات کرائی گئی جس میں انہوں نے تجویز دی کہ آئی آیس آئی کو ایک علیحدہ کور کا درجہ دے دیتے ہیں۔ میں نے عمران کو کہا کہ ہمیں پنجاب پولیس کی طرح آپریٹ مت کرائیں، پاکستان آرمی کا ایک ڈسپلن ہے، لہٰذا ایسے نہیں ہو سکتا۔

جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ میں خانہ کعبہ میں قسم اٹھانے کو تیار ہوں کہ میری نواز شریف سے آخری گفتگو بیگم کلثوم نواز کی وفات پر چار سال پہلے ہوئی تھی، انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ عمران خان سے متعلق غلط رائے بنا بیٹھے تھے کہ ان کے پاس ملک چلانے کے لیے قابل ٹیم تیار ہے، وقت گزرنے کے ساتھ پتہ چلا کہ عمران کے تما۔ دعوے غلط تھے۔ باجوہ نے کہا کہ عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنائےجانے سے پہلے وہ انکو نہیں جانتے تھے اور پی ٹی آئی کے لوگ خود آکر انہیں کہتے تھے کہ بزدار کو ہٹوائیں اور نجاب کو بچائیں۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارا نام عمران کے سامنے نہ لیجئے گا۔

Back to top button