مجھے جان بچانے کے لیے مذہب تبدیل کرنے کا کہا گیا

توہینِ مذہب کے جھوٹے الزام میں آٹھ برس تک قید رہنے کے بعد سپریم کورٹ سے بری ہو کر جان بچانے کے لیے بیرون ملک چلی جانے والی کرسچین خاتون آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ دوران قید انہیں آفر کی گئی تھی کہ اگر وہ اپنا مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو ان کے خلاف کیس ختم کر کے انہیں رہا کردیا جائے گا۔
بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں آسیہ بی بی کا کہنا تھا میں سوچتی تھی کہ کبھی جیل سے نکل بھی پاؤں گی کہ نہیں۔ لیکن پھر میرے دو مسلمان بھائیوں سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کی قربانیاں رنگ لائیں اورمیں بالآخر انصاف حاصل کرکے جیل سے باہر آگئی۔ آسیہ بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں۔ 2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے بعد ان پر پیغمبرِ اسلام کے خلاف ‘توہین آمیز’ کلمات کہنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں آسیہ بی بی کو 2010 میں سزائے موت سنائی گئی اور آٹھ سال قید میں رہنے کے بعد اکتوبر 2018 میں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے انھیں بری کر دیا تھا۔ بریت کے بعد آسیہ کچھ عرصے تک پاکستان میں ہی ایک محفوظ مقام پر رہیں جس کے بعد وہ کینیڈا منتقل ہو گئی تھیں۔
مقدمے کے آغاز کے بارے میں آسیہ کا کہنا تھا کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک گلاس پانی پینے سے بات بڑھ کر یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ان پر توہینِ رسالت کا الزام لگے گا اور انھیں قید کاٹنی پڑی۔ ان کے مطابق ’ہمارا پڑوسی عورتیں جنھوں نے توہین رسالت کا الزام لگایا سے پرانا تنازع تھا۔ یہ ایک سال سے چل رہا تھا۔ ہمارا گاؤں کے نمبردار سے بھی تنازع تھا۔ اس سب کی اصل وجہ پانی کا ایک گلاس تھا۔ انھوں نے مجھے پانی دیا جو میں نے پی لیا۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بات یہاں تک پہنچ جائے گی۔ انھوں نے جا کر قاری اسلام کو بتایا جس نے کہا کہ اس نے اس گلاس سے پانی پی کر ہماری توہین کی ہے، یہ تھی ساری بات۔‘
اس سوال پر کہ جب انھیں معلوم ہوا کہ ان پر توہینِ رسالت کا الزام لگایا گیا ہے تو ان کا ردعمل کیا تھا، آسیہ بی بی کا کہنا تھا ’مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا۔ میں تو معمول کے مطابق باغ سے پھل چننے گئی تھی۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ مجھے پکڑ کر لے جائیں گے۔ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہوتا تو مجھے اندازہ ہوتا کہ میرے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے۔ میں بالکل بےگناہ تھی اور مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا کریں گے لیکن انہوں نے یہ سب کیا۔ ’میرے شوہر کام پر تھے اور بچے سکول، میں باغ میں پھل چننے گئی تھی۔ ایک ہجوم آیا اور مجھے گھسیٹ کر لے گئے۔ میں بالکل بےبس تھی، میری بیٹیاں ایشا اور ایشام سکول سے واپس آ رہی تھیں جب انھوں نے دیکھا کہ کہ ایک ہجوم ان کی ماں کو لے جا رہا ہے۔ وہ مجھ سے لپٹ گئیں۔ میں نے ان سے کہا کہ جا کر اپنے باپ کو بتاؤ کہ کیا ہوا ہے۔ وہ دونوں بہت چھوٹی تھیں، ایشا نو اور ایشام آٹھ سال کی تھی۔ ایشام نے اپنی بڑی بہن نسیم کو بتایا جو گھر تھی اور اس نے اپنے والد کو مطلع کیا۔
’اتنی دیر میں وہ لوگ مجھے پولیس سٹیشن لے آئے۔ اس وقت تک میرے خلاف ایف آئی آر نہیں کٹی تھی۔ مجھے وہاں تک ٹریفک پولیس لائی تھی۔ انھوں نے مجھے مارنے کی بھی کوشش کی۔ ان کے پاس چھریاں تھیں۔ میں نے ان کے ہاتھوں میں چھانٹے، چھریاں اور پستول دیکھے۔ میں نے انھیں کہا کہ میں بےگناہ ہوں پھر انھوں نے مجھے پولیس کے حوالے کر دیا۔ ’مجھے چار مہینے تک وہاں رکھا گیا لیکن اس دوران میرا چالان مکمل نہیں ہوا۔ جج نے لکھا کہ اگر یہ مقدمہ جھوٹا ہوا تو ان کے خلاف کارروائی ہو گی تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے انھوں نے یہ مقدمہ بنایا۔‘
پاکستان میں توہینِ مذہب و رسالت کی سزا موت ہے۔ ایسے سخت الزامات پر بات کرتے ہوئے آسیہ کا کہنا تھا کہ وہ بہت ڈر گئی تھیں۔ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ میں ڈیڑھ سال تک عدالت میں پیش ہوتی رہی لیکن جج نے ایک بار بھی میرا موقف نہیں سنا۔ میں امید کرتی رہی کہ مجھے بھی بولنے کا موقع دیا جائے گا۔ میں نے پوچھا بھی لیکن انھوں نے مجھے بغیر بات کرنے کا موقع دیے سزائے موت سنا دی۔ اس کے بعد میرا مقدمہ ہائی کورٹ میں گیا۔ وہاں بھی مجھے کبھی کارروائی کے دوران پیش نہیں کیا گیا۔ میں جیل میں تھی۔ پھر میرا مقدمہ سپریم کورٹ پہنچ گیا جہاں مجھے دس برس کے بعد بری کیا گیا۔‘
جیل میں گزرے وقت کے بارے میں یاد کرتے ہوئے آسیہ کا کہنا تھا کہ وہ بہت مشکل وقت تھا۔ جب میں جیل پہنچی تو بہت روئی۔ میں ایک ہفتے تک روتی رہی کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور جو آپ بات آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں اس کے بارے میں بات کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے کیونکہ اس طرح پرانی یادیں واپس آ جاتی ہیں۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ میں کس چیز سے گزری، اس وقت کیا محسوس کر رہی تھی، کیونکہ میں رونا شروع کر دیتی ہوں۔ ’میں نے جیل کے اندر بہت کچھ برداشت کیا۔ میرے ساتھ وہاں جو کچھ ہوا میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی۔ میں اذیت سے گزری لیکن خدا نے مجھے بہت حوصلہ اور صبر دیا۔ آپ تصور نہیں کر سکتیں لیکن میں نے معجزے دیکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ میرا امتحان تھا، جس میں میں کامیاب ہو گئی یا پھر جس کا میں نے حوصلے اور صبر سے مقابلہ کیا۔ ’یہ میرے لیے سب سے مشکل وقت تھا کیونکہ بہت سے لوگوں نے مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ مذہب تبدیل کر لو تو چھوٹ جاؤ گی۔ لیکن میں نے کہا نہیں۔ میں اپنی سزا پوری کروں گی، اپنے عقیدے کے ساتھ اور اپنے ایمان کے ساتھ جیوں گی۔ میں نے اپنی سزا پوری کی اور اب میں آپ کے سامنے بیٹھی ہوں۔
آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ انھیں قید کے دوران ہی علم ہوا کہ ان کی رہائی کے لیے کوشاں رہنے والے دو سیاستدان سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی قتل کر دیے گئے۔ ’مجھے جیل میں پتہ چلا تھا تو میں بہت روئی تھی۔ میں ان کے لیے ایک ہفتے سے زیادہ روتی رہی۔ آج بھی میرا دل ان کے لیے اداس ہے اور میں انھیں یاد کرتی ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مرے نہیں، وہ زندہ ہیں، خدا کی بادشاہت میں۔‘
اپنی رہائی کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے آسیہ نے کہا کہ ’ملک میں احتجاج ضرور ہوا لیکن دیکھیں مجھے آزادی تو میرے ملک نے ہی دی نا اور مجھے اس پر فخر ہے کہ مجھے میرے ملک میں ہی آزادی ملی۔ اچھے، برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن یہ میرا ملک ہی تھا جس نے مجھے رہائی دی۔‘اس سوال پر کہ وہ پاکستان سے نکل کر کینیڈا گئیں اور پھر فرانس آئی ہیں تو وہ اپنی بقیہ زندگی کہاں گزارنا چاہتی ہیں، آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ ’جب مجھے آزادی ملی تو بہت کچھ بدل چکا تھا۔ میں ہر تبدیلی کو قبول نہیں کر پائی ہوں اور یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکی ہوں کہ کہاں رہنا چاہتی ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button