مجھ سے انتقام لینےکی خاطر ملک کا ستیاناس کر دیا

مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے مجھ سے انتقام لینےکی خاطر ملک کا بھٹہ بٹھا دیا گیا، مقصد یہی تھا کہ انتخابات سے پہلے نواز شریف کا فیصلہ سنایا جائے، اور نواز شریف فیصلہ سن کر ڈر کر پھر یہی رہ جائے، اور وہ پاکستان نہ آئے، جہاں تک میں سمجھا ہوں، غالبا ًیہی بات تھی۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھانیب کے جج صاحب 6 تاریخ کو فیصلہ نہ سنائیں، میں پاکستان چلا جاؤں گا تو ایک ہفتے بعد میری موجودگی میں سنائیں، نہ جانے اس میں ان کو اس میں کتنا بڑا مسئلہ تھا کہ انہوں نے میری یہ درخواست بھی نہیں مانی، اتنے عرصے کے بعد مریم نواز میرے ساتھ بیٹھی ہیں ، یہ یہاں آ کر اپنے بھائیوں سے بھی ملی ہیں، اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سے ملی ہیں، اس وقت سے ان کی ملاقات بھائیوں سے نہیں ہوئی، مجھ سے بھی آج تین سال کے بعد ملاقات ہوئی ہے۔
انہوں نے کامجھے یاد آرہا ہے کہ کس طرح ان کی والدہ بستر مرگ پر تھیں، اور کس طرح سے ہمیں ظلم کا نشانہ بھی بنایا گیا، میڈیا کے لوگ بھی مذاق اڑا رہے تھے کہ ان کی والدہ بیمار ہیں یا نہیں ہیں، ڈرامہ رچایا ہوا ہے، وہ ٹھیک ٹھاک ہیں، انہوں نے صرف ایک ڈھونگ رچایا تھا، میں نے پاکستان میں ایک جملہ کہا تھا کہ مرنا بھی پڑتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں، وہ قوم کو جواب تو دیں جو انہوں نے یہ جملے کسے، ان کے سینے میں دل نہیں ہے، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں،اور پھر جس طرح پوری فیملی کو جس کرب میں مبتلا کیا، مجھے یہ بھی یاد آرہا ہے کہ مجھے پتا لگا کہ غالباً 6 جولائی کو مجھے سزا سنائی جارہی ہے، میں نے کہا تھا کہ میری اہلیہ بہت بیمار ہیں وہ کومے میں ہیں، جب سے میں آیا ہوں مجھ سے بات بھی نہیں ہوئی ہے، نیب کے جج صاحب 6 تاریخ کو فیصلہ نہ سنائیں، میں پاکستان چلا جاؤں گا تو ایک ہفتے بعد میری موجودگی میں سنائیں، نہ جانے اس میں ان کو اس میں کتنا بڑا مسئلہ تھا کہ انہوں نے میری یہ درخواست بھی نہیں مانی۔
نواز شریف نے کہا مریم نواز نے کہا کہ والدہ بیمار ہیں، ہوش میں بھی نہیں آئیں، ڈاکٹرز بھی کہہ رہے ہیں کہ بہت تشویشناک حالت میں ہیں، اس پر میں نے کہا کہ کچھ قومی فرائض ہیں ان کی بجا آوری بھی بہت ضروری ہے، بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں تاریخ میں جن کا جواب نہیں دیا جاسکتا، تو چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ان کی صحت کے لیے دعا کرتے ہیں، بہر حال پھر ہم پاکستان واپس چلے گئے، پاکستان میں ائیر پورٹ پر اترتے ہی انہوں نے جو حال کیا وہ آپ کے سامنے ہے، آج مریم نواز پاکستان سے سرخرو ہو کر آئی ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ مقدمہ جھوٹا تھا۔
قائد ن لیگ نے کہا جب سزا جھوٹی تھی، مقدمہ جھوٹا تھا، تو پھر یہ دو، ڈھائی سو پیشیاں کیوں بھگتیں گئیں، پھر جیلوں میں کیوں جانا پڑا، پھر زندگی کے قیمتی 5 سال کیوں ضائع کیے گئے، کوئی اس کا بھی تو حساب دے، کیا بطور پاکستانی میں یہ حق نہیں رکھتا کہ میں یہ سوال پوچھوں، یہ سوال بھی نہ پوچھوں کہ مریم نواز کوٹ لکھپت جیل میں مجھ سے ملنے آئیں، تو جیل حکام نے اطلاع دی کہ نیب والے آ رہے ہیں وہ مریم کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، نیب والوں سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں، بتایا گیا کہ وہ جھوٹا کیسز لے آئے ہیں اور ساتھ میں گرفتاری کے وارنٹ بھی لے کر آئے ہیں، مریم نواز کی چھوٹی بیٹی یہ منظر دیکھ کر رونا شروع ہو گئی، میرا نہیں خیال کہ نیب والوں کے دل میں کوئی رحم آیا ہوگا۔
انکا کہنا تھا میں نے مریم نواز کو کہا کہ اللہ مالک ہے، ہم حق پر ہیں تو ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، میری آنکھوں کے سامنے انہوں نے مریم کو گرفتار کیا، ان کی چھوٹی بیٹی روتی رہی، مجھے جیل کے سیل میں واپس لے کر چلے گئے، مریم نواز کی چھوٹی بیٹی کو روتے روتے اکیلے گھر واپس جانا پڑا، یہ گرفتاری مجھے اذیت پہنچانے کے لیے کی گئی، جنہوں نے بھی یہ پلان کیا ہوگا، انہوں نے کہا ہوگا کہ جب نواز شریف بیٹھا ہوگا اور مریم جب جیل میں ان سے ملنے گئی ہوگی، وہیں پر نواز شریف کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیٹی کو گرفتار کرنا ہے، میں نے پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا عمل ہوتے نہیں دیکھا، مجھے کوئی بتائے کہ کیا یہ گرفتاری کسی اور وقت اور کسی اور جگہ پر نہیں ہوسکتی تھی، ہمیں اس کا بھی کوئی حساب دے گا یا نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا میں عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارے دورمیں یہ وہ کام ہوا ہے جو آج سے پہلے کبھی کسی دورمیں نہیں ہوا، جب اس سے قبل مریم نوازمیرے ساتھ اڈیالہ جیل میں تھیں، میں علیحدہ سیل میں بند تھا یہ علیحدہ سیل میں بند تھیں، اوریہ اسی کیسز میں بند تھیں جس کیس ابھی ان کی بریت ہوئی ہے،میں ارشد ملک کی عدالت میں تھا، وہاں مجھے اطلاع ملی تھی کہ کلثوم نواز کی طبعیت پھر خراب ہوئی ہے اور وہ آئی سی یو میں ہیں اور بے ہوش ہیں، مجھے بڑی فکر ہوئی، کورٹ میں کوئی راستہ نہیں تھا کہ کسی سے کہتا کہ آپ میری بات کروائیں، مجھے واپس جیل لے گئے، جیل پہنچ کر میں گاڑی سے اتر کر سیدھا سپرنٹنڈٹ جیل کے کمرے میں گیا، اور ان سے کہا کہ میری بیوی کی طبیعت بہت خراب ہے، مجھے ابھی لندن سے پیغام آیا ہے، آپ میری بات کروا دیں، وہ میری شکل دیکھنا شروع ہو گئے اور کہا کہ میں تو آپ کی بات نہیں کرواسکتا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا میں نے ان کو کہا کہ آپ کی ٹیبل پر دو موبائل فون اور تین لینڈ لائنز پڑی ہوئی ہیں تو آپ ایک سیکنڈ میں میری بات کروا سکتے ہیں، انہوں نے مجھے کہا کہ ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے، (ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو اس کی اجازت لینے کی ضرورت کیا ہے، یہ تو انسانیت کا معاملہ ہے، بعد میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایمرجنسی تھی اس لیے بات کروا دی، میں نے ان سے منتیں کیں لیکن انہوں نے بات نہیں کروائی، وہاں سے مجھے سیل میں لے گیے،تین گھنٹے کے بعد میرے پاس آ کر کہتے ہیں کہ ہمیں بڑا دکھا کہ آپ کی اہلیہ فوت ہو گئیں، آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ میرے اوپر کیا گزری ہوگی کہ میں جیل میں اپنی اہلیہ کی موت کی خبر سن رہا ہوں، اور وہی لوگ جنہوں نے میری بات نہیں کروائی، مجھے خبر دینے آ گئے کہ آپ کی شریک حیات فوت ہو گئیں، اور مجھے کہنے لگے کہ ہم مریم کی طرف جا رہے ہیں ان کو اطلاع کرنی ہے، میں نے انہیں کہا کہ ہرگز نہیں، میں خود جا کر مریم نواز کو اطلاع دوں، اس پر وہ مشکل سے مانے، ان کا سیل کچھ فاصلے پر تھا، مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مریم نواز کو کس طرح بتاؤں گا، جب میں نے مریم نواز کو یہ بات بتائی تو وہ سکتے میں آ گئیں، اور زاروقطار رونا شروع کر دیا، میں نے بڑی مشکل سے مریم نواز کو سنبھالا۔
لیگی قائد نے کہا ہمیں قید کی سزا سنانے کے بعد کہہ دیتے کہ آپ کی بیوی چونکہ بہت بیمار ہیں، آپ ان کی جا کر تیمار داری کریں، ان کے پاس وقت گزاریں، آپ آئیں گے اس کے بعد دوبارہ جیل میں آ جائیں لیکن یہ وقت آپ کے جیل میں رہنے کا نہیں ہے، آپ جا کر ان کے پاس رہیں، یہ کہنے کی کسی کو توفیق نہیں ہوئی، وہ مر گئیں اور ہمیں جیل میں یہ خبریں پہنچ رہی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ واقعات ہیں جو زندگی میں کبھی بھولے نہیں جاتے،جب سے یہ لندن آئی ہیں، مجھے سے اور اپنے بھائیوں سے اپنی والدہ کے بارے میں ہی باتیں کر رہی ہیں، سیاست اپنی جگہ لیکن بندے کو اس طرح سے ظلم نہیں کرنا چاہیے، آج وہ ظلم ایک ایک کرکے ظلم کرنے والوں کے سامنے آ رہے ہیں، اور آئندہ بھی آئیں گے، ان کی حرکتیں قوم کے سامنے آ رہی ہیں۔
نواز شریف نے کہا جو شرمناک فعل کیے ہیں، اور جو شرمناک باتیں کی ہیں، جو مکرو فریب کیا ہے اور دھوکے بازی کی ہے، سب کچھ قوم کے سامنے آ رہا ہے، ہر چیز پر یو ٹرن، سب قوم دیکھ رہی ہے، میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، جانے سے پہلے خودکشی کر لوں گا، وہ خودکشی آج تک نہیں کی۔
سابق وزیراعظم سے صحافی نےسوال پوچھا کہ مریم نواز کی بریت کے بعد کہا جارہا ہے کہ نواز شریف کی راہ ہمور ہو گئی ہے، آپ بتائیں کے آگے کیا ہونے جارہا ہے، اس پرانکا کہنا تھا کہ انسان چال چلتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی اپنی تدبیر ہوتی ہے، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار خود اپنی زبانی کہہ گئے ہیں، آڈیو لیک آئی ہے، اور وہ آڈیو کو جھٹلا نہیں سکتے، اس آڈیو کا فرانزک بھی ہو گیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینی ہے اور عمران خان کو لانا ہے، ایک شخص نے ان کا کہا کہ ان کی سزا بنتی نہیں ہے، تو سابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں، مگر اب ہمیں یہ کرنا پڑے گا۔
نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ اب مجھے بتائیں کہ اس سے بڑا کوئی ثبوت چاہیے؟ اسی طرح جسٹس شوکت صدیقی نے جو باتیں کی ہیں، اس سے بڑا ثبوت اور کسی کا ہو سکتا ہے، جنہوں نے یہ کہا کہ آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کو جیل سے باہر نہیں آنے دینا، انہوں نے کہا تھا کہ اپیل تو اس وقت آئے گی جب نیب کی عدالت کا فیصلہ آ جائے، کہا کہ نہیں نہیں، فیصلہ تو ہو چکا ہے، اب صرف یہ طے ہونا ہے کہ کتنے سال سزا دینی ہے،جج صاحب نے سزا دی نہیں ہے، سزا دلوائی گئی ہے، اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے، پھر یہ بھی کہا گیا کہ آپ نے ایسا نہ کیا تو ہماری تو دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی، اس ملک میں اتنے از خود نوٹس لیے جاتے ہیں، اس کا بھی ازخود نوٹس لو، پانچ سال سے نہ انصافی ہورہی ہے، ارشد ملک صاحب نے یہ کہا، اس پر سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ہمارا سر شرم سے جھک جانا چاہیے جو ارشد ملک کہہ گئے ہیں، کون نہیں جانتا ہے کہ یہ سب جھوٹے مقدمات تھے۔
قائد مسلم لیگ نواز شریف نے کہا کہ میری تاحیات نااہلی بھی سپریم کورٹ سے ہوئی ہے، اور آج کہا جا رہا ہے کہ یہ تو کالا فیصلہ اور ظلم ہے، تو پھر ازالہ ہونا چاہیے، یہ سب باتیں قوم تک پہنچی چاہئیں، میں اپنا رونا تو عوام تک پہنچاتا بھی نہیں ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ مسلسل پانچ سالوں سے یہ ظلم ہورہا ہے، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، پاکستان ایک معاشی قوت بننے جارہا تھا، جب میں وزیراعظم تھا تو ڈالر 100روپے کا تھا، سبزی، دال، گوشت اور روزمرہ استعمال کی چیزیں لوگوں کی پہنچ میں تھیں، ہم نے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا، پاکستان میں خوشحالی آ رہی تھی، لوگوں کو روزگار مل رہا تھا، ہم نے دہشت گردی کو ختم کیا تھا۔
انکا کہناتھا میں تو یہ خواب دیکھ رہا تھا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں بھی معاشی قوت بنے گا، ہماری خدمات ہر شعبے میں ہیں، ہم نے معاشی طور پر اور دفاعی طور پر بھی مضبوط کیا، پاکستان ایک ایسی ایٹمی طاقت بن گیا کہ جس پر کوئی دشمن حملہ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس وقت ہم نے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، ہم کسی کے پریشر میں نہیں آئے ، یہ جو کہتے ہیں کہ ایبسلوٹلی ناٹ، تم نے کیا کیا ہے، ہم نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا، ہمیں طشتری میں رکھ کر 5 ارب ڈالر پیش کیے گئے، ہم نے اس پر بھی ایبسلوٹلی ناٹ کہا، ہمیں نہیں چاہیے، آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام بھی ہم نے ختم کیا، اور انہیں کہا کہ آپ کا شکریہ ہم اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے ہیں، عمران خان نے ہمیں دوبارہ بیساکھیوں پر کھڑا کردیا۔
سابق وزیر اعظم نے کہاعمران خان نے ہمسایہ ممالک سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب کردیے، ہم نے پاکستان کی وہ خدمات کی ہیں، جو کبھی کسی نے کی ہی نہیں، اور اس بندے نے آ کر سب کچھ بگاڑ دیا، مجھے بیٹے سے تنخواہ نے لینے پر نکال دیا، مجھے کوئی بتائے کہ وزیراعظم کو نکالنے والی کوئی یہ وجہ ہے، اور ساری زندگی کے لیے نااہل، مجھے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے ہٹا دیا، یہ انتقام ہے، یہ کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہے، مجھ سے تو انتقام لے لیتے لیکن پاکستان سے انتقام لینے کا آپ کو کس نے کہا۔
نواز شریف نے ایک اور سوال پر کہا کہ مریم نوازنے بڑی بہادری کا ثبوت دیا ہے، جیسا ایک بہادر بیٹی اپنے باپ کا ساتھ دیتی ہے، مجھے مریم نواز پر فخر ہے، جس طرح یہ ثابت قدم رہیں اور ظلم کا سامنا کیا، ان کا بہت عمدہ کردار رہا ہے، میرے بھائی شہباز شریف اور پارٹی بھی ان کی معترف ہے۔
