محبت کی نشانی تاج محل میں ویرانیوں کے ڈیرے کیوں؟

سات بڑے عجائبات عالم میں شامل آگرہ میں واقع محبت کی نشانی تاج محل میں بالعموم سیاحوں کا ہجوم رہتا تھا، لیکن کرونا وائرس کی وبا کے سبب ان دنوں یہ تقریباً ویران پڑا ہے جس سے بھارت میں ٹورزم بزنس بری طرح متاثر ہوا ہے۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق آگرہ کے ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں مستقبل قریب میں تاج محل کے دوبارہ آباد ہونے کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ آگرہ کے ایک بزرگ ٹور گائیڈ کرشنا راٹھور کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی آمد بند ہونے کے بعد وہ مغل بادشاہ شاہ جہاں کی طرف سے اپنی بیوی کی یاد میں سترہویں صدی میں تعمیر کردہ تاج محل کی پرشکوہ عمارت کو ان دنوں خالی نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ حالانکہ کووڈ کی دوسری لہر کے بعد بھارت میں کرونا کے کیسز میں مسلسل کمی آرہی ہے اور لاک ڈاؤن میں نرمی بھی کی جا رہی ہے لیکن محبت کی اس یادگار کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹور آپریٹر راٹھور کا بڑے مایوس لہجے میں کہنا تھا کہ ”میں پچھلے کئی دنوں سے ہر روز صبح یہاں آتا ہوں۔ اس امید میں کہ شاید تاج محل دیکھنے والے کچھ لوگ یہاں آئے ہوں اور میں چند پیسے کما سکوں۔ لیکن مجھے ہر روز مایوس گھر لوٹنا پڑتا ہے۔”راٹھور سے قبل ان کے والد اور ان کے دادا بھی بطور ٹور گائیڈ ہی کام کیا کرتے تھے۔ حالات اتنے برے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بھارت کی سیاحت کی صنعت کو جس طرح نقصان پہنچا ہے اس کے مدنظر وہ کوئی دوسرا پیشہ اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔
تاج محل کودیکھنے کے لیے ہر برس تقریباً ستر سے اسی لاکھ کے سیاح آگرہ آتے ہیں۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2019 ء میں کم از کم سات لاکھ 37 ہزار غیر ملکی سیاح تاج محل دیکھنے آئے تھے۔ لیکن پچھلے پندرہ ماہ کے دوران، صرف ایک مختصر وقفے کو چھوڑ کر، بیشتر اوقات یہ تاریخی یادگار بند رہی۔ جس کی وجہ سے راٹھور جیسے تقریباً ڈھائی ہزار رجسٹرڈ ٹور گائیڈز کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
تاج محل میں ٹورگائیڈ کا کام کرنے والے بیشتر افراد ان دنوں غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہیں۔ پچھلے سات برسوں سے ٹور گائیڈ کا کام کرنے والے رفیق نے بتایا کہ میں نے اب آگرہ میں کچھ چھوٹے موٹے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بعض اوقات میں یومیہ مزدوری کے لیے آگرہ سے باہر بھی چلا جاتا ہوں۔ ٹور گائیڈ کا میرا کام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔”
مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر امر سنگھ راٹھور کا خیال ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی ٹورزم انڈسٹری کو معمول پر واپس آنے میں کم سے کم دو برس لگ جائیں گے۔انہوں نے کہا،”اس وبا نے سیاحت کی صنعت اور ہمارے ذریعہ معاش کو تباہ کر دیا ہے۔ لیکن اس غیر معمولی صورت حال کے باوجود ہمیں حکومت کی طرف سے کسی طرح کی مالی مدد نہیں ملی۔ حکومت کو کم سے کم دکانوں کے کرائے اور بجلی کے چارجز معاف کردینے چاہییں۔” ہوٹل اور ریستورانوں میں کام کرنے والے اور ٹور آپریٹروں کو بھی اپنا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ آگرہ میں ایک درجن سے زائد فائیو اسٹار اور چار سو کے قریب بجٹ ہوٹل ہیں جن میں تقریباً چار لاکھ افراد مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق پانچ سے سات لاکھ کے درمیان افراد سیاحت سیکٹر سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر وابستہ ہیں۔
تاج محل کے بند ہو جانے سے دست کاری کے سامان فروخت کرنے والے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پردیپ کمار نامی ایک دکاندار نے کہا،”ہمارا بہت کچھ انحصار سیاحوں کی آمد پر ہی ہے لیکن موجودہ صورت حال میں ہمیں کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ یہ حالت کب تک رہے گی۔” تاج محل کے تقریباً بیالیس ایکڑ پر مشتمل وسیع و عریض کمپلکس میں واقع دکانیں بھی ایک برس سے زیادہ عرصے سے بند ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو حکومت کی جانب سے کسی طرح کی مدد نہیں ملی ہے۔
آگرہ کے ضلع مجسٹریٹ پربھو سنگھ کا کہنا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس شہر کی معیشت تاج محل سے وابستہ ہے۔ ضرورت مند افراد کو راشن فراہم کرنے کے علاوہ کوئی دوسری خصوصی اسکیم موجود نہیں ہے۔” سنگھ تاہم کہتے ہیں ”انہیں امید ہے کہ تاج محل جلدہی کھل جائے گا لیکن یہ بھی بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ کے فیصلے پر منحصر ہے۔”
یاد رہے کہ گزشتہ برس چھ ماہ تک بند رہنے کے بعد ستمبر میں تاج محل، آگرہ قلعہ اور فتح پور سکری کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔ زیادہ آمدنی کے غرض سے آگرہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے گھریلو اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے تاریخی عمارتوں کی انٹری ٹکٹ کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعد میں اسے اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
ٹورسٹ گلڈ آف آگرہ کے نائب صدر راجیو سکسینہ کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے آگرہ شہر میں تجارت کئی برس پیچھے چلی گئی۔ سکسینہ کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ 2023ء سے پہلے حالات معمول پر آسکیں گے۔ اس وقت تک ہمارا بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہو گا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نہ تو مقامی انتظامیہ اور نہ ہی ریاستی حکومت لوگوں کی ضرورتوں پر کوئی توجہ دے رہی ہے یا کسی طرح کی مدد کر رہی ہے۔”سکسینہ کا کہنا تھا کہ کووڈ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے سبب اس شہر کو تقریباً پچاس ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ آگرہ کو دوبارہ اس کی رونق بحال کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا اور یہ کوئی آسان نہیں ہو گا۔”
