محمد علی سدپارہ کے زندہ ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں


معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ اپنے دو غیر ملکی ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو پہاڑی کے جس حصے میں 8000 میٹر کی بلندی پر آخری دفعہ پائے گے تھے وہاں 24 گھنٹے سے زائد کسی انسان کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ محمد علی سدپارہ کو لا پتہ ہوئے اب 48 گھنٹے سے زائد کا وقت ہو چکا ہے۔
سطح سمندر سے 8611 میٹر کی بلندی پر واقع کے ٹو کا یہ علاقہ ’بوٹل نیک‘ کے نام سے مشہور ہے اور کوہ پیماؤں کی اصطلاح میں اسے ’ڈیتھ زون‘ یا موت کی گھاٹی کہا جاتا ہے۔ یہاں نیند یا زیادہ دیر رکنے کا مطلب موت ہے۔ اسی لیے کیمپ فور میں پہنچنے والے کوہ پیما سوتے نہیں ہیں۔ بس کچھ دیر سستا کر چوٹی پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور تقریباً 16 سے 18 گھنٹوں کے دورانیے میں چوٹی سر کرکے ڈیتھ زون سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوہ پیما اس ڈیتھ زون میں 16 سے 24 گھنٹے تک زندہ رہ سکتے ہیں اور انہیں خصوصی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ڈیتھ زون میں اس سے زیادہ وقت نہ گزاریں۔
آپ نے ’ایورسٹ‘ فلم کا وہ منظر تو دیکھا ہو گا جس میں نیوزی لینڈ کے گائیڈ اور کوہ پیما اینڈی ہیرس کے دماغ میں اچانک ہذیانی خیالات آنے لگتے ہیں اور وہ اپنے کپڑے اور گئیر سب اتار پھینکتا ہے اور موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ ہیرس دراصل ’ہائی پوکسیا‘ کا شکار ہو گے تھے کیونکہ سطح زمیں سے اتنی اونچائی پر آکسیجن کی کمی انسانی دماغ اور جسم کو مفلوج کر دیتی ہے۔ کے ٹو، جہاں بلند چوٹیوں کو تسخیر کرنے والے کوہ پیماؤں کے دلوں میں ’ایڈونچر‘ یا مہم جوئی کے جذبات جگاتی ہے وہیں یہ چوٹی دنیا کی سب سے بلند چوٹی اکاونٹ ایورسٹ سے بھی زیادہ خوفناک سمجھی جاتی ہے۔ اس چوٹی کو سر کرنے کی جستجو کرنے والے ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کے ٹو پر اموات کی شرح 30 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ پر یہی شرح چار فیصد ہے۔
دنیا کے اس دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا 5 فروری کے روز سے بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہے۔ ان کی تلاش میں جانے والے آرمی ہیلی کاپٹروں نے 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی ہے لیکن ابھی تک کوہ ہیماؤں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ تقہم ریسکیو مشن ابھی جاری ہے۔
تاہم پاکستان میں سوشل میڈیا سے لے کر کوہ پیمائی سے دلچسپی رکھنے والوں حتیٰ کہ عام افراد تک سبھی اب یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ اتنے گھنٹے گزر جانے کے باوجود 8000 میٹر کی بلندی پر ان تین کوہ پیماؤں کے زندہ رہنے کا اب کتنا امکان باقی ہے؟ یاد ریے کہ کے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے صرف دو سو میٹر کم ہے۔ لیکن موسم سرما میں یہاں پر حالات جان لیوا ہو جاتے ہیں. اس کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ڈیتھ زون کیا ہوتا ہے اور اور کوہ پیما ڈیتھ زون میں کتنے گھنٹوں تک زندہ رہ سکتے ہیں؟ اور اتنی اونچائی پر رہنے سے انسانی دماغ اور جسم پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم سطح سمندر سے 2100 میٹر تک کی بُلندی پر رہنے کے لیے بنا ہے۔ اور اس سے زیادہ بلندی پر انسانی جسم میں آکسیجن کی سچوریشن تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور جسم میں منفی اثرات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے اونچے پہاڑوں پر جانے سے قبل کوہ پیما کئی ہفتوں تک ایکلیماٹائزیشن یعنی جسم کو ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا عمل کرتے ہیں تاکہ ان کا دماغ آکسیجن کی سپلائی کے مطابق آہستہ آہستہ ماحول کے حساب سے کام کرنے لگے۔ کوہ پیمائی کے ماہرین کے مطابق کے ٹو پر عموماً کیمپ ون (یعنی 6000 میٹر کی بلندی) کے بعد کوہ پیما خطرناک زون میں داخل ہو جاتے ہیں اور ان میں آکسیجن کی کمی کے منفی اثرات بھی نمُودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کئی کوہ پیما ہائی ایلٹیٹیوٹ پلمونرئی انیڈما یا ہائی ایلٹیٹیوٹ سیریبل انیڈما کا شکار ہو جاتے ہیں جو زیادہ تر اموات کی وجہ بنتا ہے۔
ایسے میں آکسیجن کی کمی کے ساتھ ، نبض تیز ہو جاتی ہے، خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ خراب حالت میں کوہ پیماؤں کے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے اور وہ ہائی ایلٹیٹیوٹ سیریبل انیڈما کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انھیں خون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھانسی آنے لگتی ہے اور ان کا نظام تنفس بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں بیشتر کوہ پیماؤں کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، انھیں عجیب ہذیانی خیالات آتے ہیں اور وہ پھر وہی کرتے ہیں جو ’ایورسٹ‘ فلم میں اینڈی ہیرس نے کیا۔
چین اور پاکستان کے درمیان حائل آسمان سے باتیں کرتی ہوئی چوٹیوں پر مشتمل قراقرم پہاڑی سلسلے کی اس چوٹی پر حالات اتنے غیر موافق ہیں کہ اسے ایک طویل عرصے سے ’خونخوار چوٹی‘ کہا جاتا ہے. سطح سمندر سے 8611 میٹر کی بلندی پر واقع کے ٹو کا ’بوٹل نیک‘ کے نام سے مشہور مقام تقریباً 8000 میٹر سے شروع ہوتا ہے اور کوہ پیماؤں کی اصطلاح میں اسے ’ڈیتھ زون‘ یا موت کی گھاٹی کہا جاتا ہے جہاں بقا کے چیلنجوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ یہاں کوہ پیماؤں کو جان لیوا قدرتی موسم کے ساتھ نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کے اندر بھی ایک لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔ ڈیتھ زون میں جہاں ایک غلط قدم کا مطلب سیدھا ہزاروں فٹ گہری کھائی یا گلیشیر میں گر کر موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے وہیں اس اونچائی پر آکسیجن کی مزید کمی سے سنگین اثرات رونما ہوتے ہیں اور انسانی دماغ کا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ ڈیتھ زون میں انسانوں کو سانس لینے کے لیے درکار آکسیجن کی کمی سے جہاں ’آلٹیٹیوٹ سک نیس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں وہیں اتنی بلندی پر تیز ہوائیں بھی کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں پر انتہائی کم درجہ حرارت بھی جسم کے کسی بھی حصے میں فراسٹ بائٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ اتنی بلندی پر انسانی جسم کو پیش آنے والے طبی مسائل کے حوالے سے کی گئی تحقیق کے مطابق یہاں تک چڑھنے والے کوہ پیما شدید سر درد، متلی، برین ہیمرج، ہیلوسینیشن یا نظر کا دھوکا وغیرہ جیسے طبی حالات سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔ ڈیتھ زون میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور یہاں آپ مخصوص وقت سے زیادہ نہیں گزار سکتے ہیں۔ اور یہاں نیند یا زیادہ دیر رکنے کا مطلب موت ہے۔
اگرچہ 48 گھنٹے سے زیادہ کسی کوہ پیما کے 8000 میٹر سے اونچائی پر زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن ڈیتھ زون میں سب سے زیادہ وقت گزارنے کا ریکارڈ نیپال کے پیمبا گلجئین شرپا کے پاس ہے جو سنہ 2008 میں دو کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے 90 گھنٹے تک کے ٹو کے ڈیتھ زون میں رہے اور خوش قسمتی سے زندہ بچ نکلے۔ لہذا سوال یہ یے کہ کیا محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھی بھی اتنے خوش قمسمت ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تو آنے والے چند گھنٹے ہی دیں گے لیکن ہماری دعا ہے کہ پاکستان کے یہ صفِ اول کے کوہ پیما اپنے ساتھیوں سمیت زندہ سلامت واپس لوٹ آئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button