مختاراں مائی کی ٹی وی ڈرامے میں ڈرامائی انٹری

گینگ ریپ کے خلاف بنائی گئی روبینہ اشرف کی مشہور ڈرامہ سیریل ”رسوائی“ کی آخری قسط میں مختاراں مائی کی ڈرامائی انٹری نے کہانی میں جان ڈال دی۔ مختاراں مائی کی طرح ڈرامہ "رسوائی” کی ہیروئین سمیرا بھی گینگ ریپ ہونے کے بعد ظالموں کے خلاف ڈٹ گئی اور پھر مختاراں مائی کی طرح انہیں انکے انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہوئی۔
روبینہ اشرف نے اپنے ڈرامے میں لڑکیوں کے خلاف گینگ ریپ جیسا حساس موضوع بڑی عمدگی سے اٹھایا۔ انکی سہیلی اور معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی کورنٹین سے ایک ویڈیو پیغام میں اپنی دوست روبینہ کی کوشش کو سراہا ہے۔ بقول بشریٰ انصاری پرانا پروفیشنل پرانا ہی ہوتا ہے، خواہ وہ ایکٹر ہو یا ڈائریکٹر، جب وہ کام کرتا ہے تو اسکا کام نظر آتا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی دو خاندانوں کے گرد گھومتی ہے، جن کے بچوں کے آپس میں رشتے طے ہیں۔ ثنا جاوید نے اس میں ڈاکٹر سمیرا اورمیکال ذوالفقار نے کمرشل پائلٹ کیپٹن سلمان کا کردار نبھایا ہے جبکہ ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں محمد احمد نے سمیرا کے والد محمود، عثمان پیرزادہ نے سلمان کے والد خان، سیمی راحیل نے سمیرا کی والدہ ذکیہ، اسرا غزل نے سلمان کی والدہ سلمیٰ، اسامہ طاہر نے سمیرا کے بھائی حمزہ، عدنان جعفر نے ڈاکٹر فیروز اور روبینہ اشرف کی بیٹی منیٰ طارق نے سلمان کی بہن وردہ کا کردار ادا کیا ہے۔ کہانی کے مطابق ڈاکٹر سمیرا کو اس کے باپ کی موجودگی میں چند اوباش لڑکے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ثنا کچھ دیر کے بعد گھر تو واپس آ جاتی ہے مگر اس کی ذہنی حالت انتہائی مخدوش ہوتی ہے۔ جیسے ہی وہ ہوش میں آتی ہے تو اپنے گھر والوں سے کہتی ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتے۔
گھر والے بدنامی کے خوف سے اسے ایسا کرنے سے روکتے ہیں، حمزہ اگرچہ سمیرا سے متفق ہے مگر والدین کے کہنے پر خاموش ہو جاتا ہے۔ اسی دوران سمیرا کی سلمان اور حمزہ کی وردہ سے شادی ہو جاتی ہے۔ سلمان جو سمیرا سے بے انتہا محبت کرتا تھا، اسے قبول نہیں کر پاتا۔ وہ نہ صرف سمیرا کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا ہے بلکہ اپنی ایک کولیگ سے دوسری شادی بھی کر لیتا ہے۔ سمیرا گھر واپس آ جاتی ہے اور ایک بار پھر اپنا کیس کھلواتی ہے، اس کا خیال ہے کہ جب تک ان مجرموں کو سزا نہیں ملتی، وہ نارمل زندگی میں واپس نہیں جا سکتی۔ اس مرتبہ سمیرا کا بھائی حمزہ ہی نہیں اس کا کولیگ ڈاکٹر فیروز بھی اس کا ساتھ دیتا ہے۔ مجرم چونکہ بااثر ہیں، اس لئے پولیس بھی ان کے سامن ے بے بس ہے۔ اس دوران کیپٹن سلمان کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے اور سب مل کر مجرموں کو کیفرِکردار تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور یوں سمیرا سرخرا ہو جاتی ہے۔
تاہم ”رسوائی“ کی آخری قسط میں مختاراں مائی کی ڈرامائی انٹری نے کہانی میں جان ڈال دی۔ مختاراں مائی کو سمیرا کو گلے لگا کر مبارکباد دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جون 2002 میں، جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی مختاراں مائی کو مقامی پنچایت کے ایک ظالمانہ فیصلے کی نذر ہو گئی تھیں اور انھیں چھہ افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ مختاراں مائی بھی انصاف کے حصول کے لئے ڈٹ گئی تھی، کئی سال کی انتھک کوششوں کے بعد مختاراں مائی کو انصاف ملا اور وہ مظلوم عورتوں کے خلاف ایک سمبل کے طور پر ابھریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button