مدارس کو سیدھا کرنے والے خود سیدھے ہو جائیں

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نے کہا کہ مدارس کو نام نہاد قومی دھارے میں لانے اور انہیں سیدھا کرنے کے منصوبے بنانے والوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ خود سیدھے ہوجائیں۔
جے یو آئی کے زیر اہتمام آزادی مارچ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم لوگ مدارس کو کسی ایرے غیرے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے اور
مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے نام پر انہیں سیدھا کرنے کی دھمکیاں دینے والوں کو میں مشورہ دوں گا کہ وہ خود سیدھے ہوجائیں اور اسلامی دھارے میں آ جائیں۔
مولانا نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے اور حکمرانوں کو اپنی عیاشیوں سے ہی فرصت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کچھ روز قبل بیان دیا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی ڈوبتی ہوئی سیاست کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ مدارس اصلاحات سے خوفزدہ ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ اگر مدارس میں اصلاحات ہو گئیں تو وہ مدارس کے طلباء کو سیاسی مقاصد کے کیے استعمال نہیں کر سکیں گے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کشمیر کی جنگ ہم لڑ رہے ہیں، تقریر پر خوشیاں منانے والے تو یو ٹرن کے ماہر ہیں۔جے یو آئی ( ایف) کے سربراہ نے آزادی مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔
خیال رہے کہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنماوں کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مولانا کو معلوم ہونا چاہیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر حکومتی موقف کی کامیابی کے بعد وہ مذہبی کارڈ کا غلط استعمال نہیں کرسکیں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس نے اتفاق کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) سے حکومت مخالف ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے بھاری رقم وصول کی ہے۔
عمران خان نے مذید کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ مدرسوں کے طلبا ہمارے اپنے بچے ہیں لیکن انہیں مولانا فضل الرحمٰن جیسے لوگوں کی جانب سے گمراہ کیا جارہا ہے۔
