مردم شماری کے حتمی نتائج تک بلدیاتی حلقہ بندیاں نہ کی جائیں

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے الیکشن کمیشن سے چھٹی مردم شماری 2017 کے حتمی نتائج کی اشاعت تک سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کردیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 13 اپریل کو ‘سندھ میں آئندہ مقامی حکومت کے انتخابات کے انعقاد کے لیے یونین کونسل، یونین کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی کے وارڈ اور میونسپل کمیٹی کی حلقہ بندیوں’ سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا تھا۔2015 کے بلدیاتی انتخابات 1998 کی مردم شماری کے مطابق منعقد ہوئے تھے جب کہ رواں برس اگست میں سندھ کی مقامی حکومت اپنی 4 سالہ مدت پوری کرنے جارہی ہے جس کےلیے ای سی پی نے چھٹی مردم شماری بنیاد پر حلقہ بندیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
ای سی پی موجودہ بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات کو ممکن بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان نے 2017 کی مردم شماری کے عبوری نتائج کے تحت حلقہ بندیوں کے ای سی پی کے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایم کیو ایم کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے باب تین کے سیکشن 17(2) کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خط لکھ چکے ہیں کہ ‘کمیشن مردم شماری کے نتائج کے باقاعدہ اعلان کے بعد حلقہ بندیاں کرے گا’۔ خط کی نقل میں انہوں نے ای سی پی کویاد دہانی کروائی ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے 25 اگست 2017 کو عبوری نتائج کا اعلان کیا تھا اور مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری کے حمتی نتائج اب تک شائع نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے تمام صوبوں، وفاقی دارالحکومت اور فاٹا کو قومی اسمبلی کی نشستیں مختص کرنے کے لیے 24 ویں ترمیم منظور کی تھی۔ وفاقی وزیر آئی ٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما امین الحق نے کا کہنا ہے کہ یہ استثنیٰ ایک وقت کےلیے تھا اور اب حلقہ بندیاں حتمی نتائج کی بنیاد پر ہونے چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے خط کے جواب میں ای سی پی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے جس میں 2017 کی مردم شماری کے حتمی نتائج کی اشاعت تک حلقہ بندیوں کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے خط میں کہا گیا ہے کہ کوووڈ-19 کی صورت حال میں حلقہ بندیوں کا عمل سندھ اور پاکستان کے عوام کی صحت کے مفاد میں نہیں ہے۔
خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور دیگر کئی جماعتوں نے مردم شماری 2017 کے عبوری نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کراچی کے لاکھوں شہری غائب ہیں کیوں کہ انہیں مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان اتحاد بنانے کےلیے جس مفاہمتی یاد داشت میں دستخط کیے گئے تھے اس میں بھی پہلا نکتہ کراچی کی مردم شماری پر تھا۔
اس میں کہا گیا تھا کہ کراچی کی مردم شماری کے حوالے سے قومی اسمبلی میں قرار داد منظور کرلی جائے گی اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے مطابق فوری طور پر عمل درآمد ہوگا۔
دسمبر 2019 میں سندھ اسمبلی میں بھی متفقہ قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت 2017 کے عبوری نتائج کی تصدیق کےلیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروائے۔
