مروت کی سعودی عرب پرالزام تراشیاں، PTIکی معافیاں

پی ٹی آئی کے منہ پھٹ اور بدتمیز رہنما شیر افضل مروت عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں سعودی عرب کے کردار کے الزام کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ جہاں ایک طرف عمرانڈوز نے ان کیخلاف میدان گرم کر رکھا ہے وہیں دوسری جانب تحریک انصاف نے ان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔تاہم تحریک انصاف کے علاوہ عام افراد بھی یہ سوال کر رہے ہیں کہ عمران خان کے منظور نظر ایک سینیئر رہنما کی جانب سے، دوست ممالک پر بے بنیاد الزام تراشی کی وجہ کیا ہے؟ایسے الزامات پاکستان کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اور کیا پارٹی کی جانب سے ایسے الزامات سے صرف اظہارِ لاتعلقی کر دینا کافی ہے؟

خیال رہے کہ بدھ کے روز پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے ایک مقامی نجی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے یا ’رجیم چینج میں امریکہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کا بھی ہاتھ تھا‘۔ انھوں نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عزم کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا تھا۔اس موقع پر میزبان کے ایک سوال کے جواب میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ’جو بائیڈن یہ چاہتے تھے اور سعودی عرب ہمیشہ سے ان کا بغل بچہ رہا ہے اور انھی کے اشاروں پر خطے میں ان کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔‘

یاد رہے یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب سعودی عرب کے وزیرِخارجہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر شیر افضل مروت کے بیان پر شدید تنقید جاری ہے، ان پر ہونے والی زیادہ تر تنقید پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ارسلان نامی ایک صارف نے لکھا ’کیا ضرورت تھی بیان دینے کی؟ بہت نقصان ہوا ہے اس بیان سے۔احمد وڑائچ نامی ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اپریل 2022 سے اپریل 2024 کے دوران دو سال میں عمران خان سمیت تحریک انصاف کے کسی لیڈر نے سعودی عرب کا کبھی بھی نام نہیں لیا، سوال یہ ہے کہ شیر افضل مروت کو یہ خیال کہاں سے آیا؟‘

ایک اور صارف نے لکھا ’گھڑی والا بیانیہ اور اب شیر افضل مروت کا سعودی عرب سے متعلق بیان دونوں ایک ہی بیانیے کی دو کڑیاں ہیں۔ مقصد صرف اور صرف عمران خان کی عالمی شہرت، مسلم ممالک کے سربراہان کے سامنے عمران خان کا قد کم کرنا اور حمایت ختم کرنا ہے۔‘سعودی عرب میں مقیم راسخ نامی صارف نے لکھا ’ایسے وقت میں جب دوست ملک سعودی عرب کے وزیر مشیر عین دورے پر موجود ہوں، اور اقتصادی امور سے لیکر دفاعی امور تک معاملات زیر بحث آرہے ہوں، اور درمیان میں اٹھ کر شیر افضل مروت اسی ملک کے بارے میں فضول بات کر بیٹھے تو یہ نہایت افسوسناک رویہ ہے۔‘

ادھر پاکستان تحریکِ انصاف نے شیر افضل مروت کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ان کی ’ذاتی رائے‘ قرار دیا ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب کے بارے میں نہ تو عمران خان اور نہ ہی پی ٹی آئی ایسی کوئی رائے رکھتے ہیں۔‘یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہے کہ ایک سینیئر رہنما کی جانب سے ایسے الزامات پی ٹی آئی کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں؟

صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کا ماننا ہے کہ ’جو نقصان ہونا تھا ہو چکا ہے، اب پی ٹی آئی جنتا مرضی لاتعلقی کا اظہار کر لے سعودی تو یہ نہیں دیکھیں گے کہ شیر افضل مروت کتنی سولو فلائٹس لیتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اہم بات یہ ہے کہ یہ بات اس وقت آن ائیر کہی گئی جب سعودی عرب کا ایک انتہائی اہم وفد پاکستان آیا ہوا تھا۔ شیر افضل مروت نے ولی عہد محمد بن سلمان کے متعلق آن ائیر بہت حقارت بھری زبان استعمال کرتے ہوئے ان کے لیے ’بائیڈن کی سائیڈ کک‘ جیسے الفاظ استعمال کیے۔‘نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ سعودی عرب تو اس پر برا مانے گا ہی مگر ان کی رائے ہے کہ ’اس وفد کو پاکستان لانے کے لیے سول و فوجی قیادت جو دن رات محنت کر رہی تھی، وہ اسے اپنی کوششوں کو برباد کرنے کے مترادف سمجھیں گے اور ان کا رویہ تحریکِ انصاف سے سخت گیر ہو جائے گا جس کی مثال کل اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران ملی ہے، جہاں دیواریں وغیرہ کھڑی کی گئی اور خود عمران خان بھی غصے میں آ گئے۔‘ان کا کہنا ہے کہ وہ شیر افضل کے بیان کو کل کے اڈیالہ جیل والے واقعے سے لنک دیکھ رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس نے ’ناصرف سیاسی بلکہ فوجی قیادت کو بھی تحریکِ انصاف کے بارے میں مشتعل کیا ہے کہ یہ کس قسم کے بیانات دے کر ہماری ساری محنت پر پانی پھیر رہے ہیں۔‘ شیر افضل مروت کا یہ بیان پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی کرے گا۔

اس حوالے سے صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ ان کی ذاتی رائے ہے ’یعنی وہ اپنے بات پر قائم ہیں اور پارٹی ان سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے مگر ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔‘ان کا کہنا ہے ’پی ٹی آئی کو یا تو شیر افضل مروت کے بیانات کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا یا انھیں اس ذمہ داری سے ہٹانا ہو گا۔‘ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کا اظہار لاتعلقی کرنا بتا رہا ہے کہ ’انھیں نقصان کا خدشہ ہے‘ تاہم اس طرح کی صورتحال میں ’محض لاتعلقی کا اظہار کافی نہیں کیونکہ وہ ایک ذمہ داری والے عہدے پر فائز ہیں اور ایسا خدشہ تو موجود ہے کہ کل پھر ایسی کوئی بات کر سکتے ہیں۔‘

Back to top button