مریم نواز اور گورنر پنجاب آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

پنجاب حکومت کی جانب سے آزاد آوازوں کو دبانے کیلئے صحافیوں کی مشاورت کے بغیر منظور کئے جانے والے ہتک عزت بل پر نون لیگ کی حکومت اور پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب آمنے سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔ نو منتخب گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے اسمبلی میں کثرت رائے سے پاس کردہ ہتک عزت بل کو بغیر منظوری کے واپس پنجاب اسمبلی میں بھجوانے کا عندیہ دے دیا ہے ۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ ہتک عزت بل حرف آخر نہیں اس پر صحافتی تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز سے بات ہونی چاہئے، اس بل کو مزید بہتر بنانا چاہیے۔

سینئر صحافی حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا مزید کہنا تھا کہ ہتک عزت بل پر ملک میں طوفان برپا ہے بل پر سوچنے کی ضرورت ہے، ہتک عزت بل پر بات چیت ہو اور اس کو مزید بہتر بنایاجائے، میری ضرورت ہوئی تو میں بھی اس عمل میں شامل ہوسکتا ہوں، ہتک عزت قانون میں جلدی نہیں کرنی چاہئے تھی، قانون مشاورت سے لایا جاتا تو اچھا ہوتا،ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر جس پر جو مرضی الزام لگادیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ امید ہے ہتک عزت بل کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، بل پڑھنے کے بعد اپنی قانونی ٹیم کو دوں گا وہ بھی اسے دیکھیں گے، امکان ہے میں پنجاب حکومت کو ہتک عزت بل پر نظرثانی کا کہوں گا، امید ہے اتفاق رائے ہوجائے گا لیکن اگر صوبائی اسمبلی سے بل واپس آیا تو اٹھارہویں ترمیم کے تحت برداشت کرنا پڑے گا، خواہش ہے بل پر طاقتور حلقے، صحافتی تنظیمیں اور اسٹیک ہولڈرز دوبارہ بات کریں۔ سردار سلیم حیدر کا مزید کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھانے میں اپنا کردار ضرور ادا کرینگے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے ہتک عزت بل پر پاکستان پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے عملا راہیں جدا کررکھی ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی نے ہتک عزت قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے پر ن لیگ سے راہیں جدا کیں اور بل کی منظوری کے وقت بھی پیپلزپارٹی کے تمام ممبران اسمبلی ایوان سے غیر حاضر رہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی کے مطابق حکومت نے ہتک عزت بل کے معاملے پر ہم سے مشاورت کی اور نہ ہی کچھ بتایا، پیپلز پارٹی کھبی بھی اس بل کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔انہوں نے کہا کہ ہتک بل کی منظوری کے روز تمام ارکان کو ایوان سے غیر حاضر رہنے کا کہا گیا تھا، بل کی منظوری کے روز پیپلز پارٹی کا کوئی رکن صوبائی اسمبلی ایوان میں موجود نہیں تھا۔علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ میڈیا کی آزادی کے ساتھ کھڑی ہے اور اس جدوجہد میں ہر دور میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے ہتک عزت بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر کے اسے منظور کروایا ہے جس پر صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ہتک عزت کا قانون کسی صحافی کے خلاف نہیں بلکہ جھوٹ بول کر لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے والوں کے خلاف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام صحافتی تنظیمیں اپنے تحفظات لکھ کر انہیں دیں ان کے جائز ایشوز کو تسلیم کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے: ’یہ قانون اس لیے لایا جا رہا ہے تاکہ ڈالر اور سستی شہرت کمانے کے لیے لوگوں کی پگڑیاں نہ اچھالی جائیں۔ ہتک عزت کا قانون لانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پرانے ڈیفیمیشن لا میں کوئی کیس ایک نوٹس سے آگے نہیں جا سکا۔‘

خیال رہے کہ ہتک عزت بل کے تحت اخبار، ٹی وی، سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر کوئی بھی خبر شیئر کرنے پر ہتک عزت بل کے تحت کارروائی ہوگی جس پر تیس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی جائے گی، اس حوالے سے خصوصی عدالتیں تشکیل دی جائیں گی جو 6 ماہ میں فیصلہ سنائیں گی۔بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا۔ جس کے تحت پھیلائی جانے والی جھوٹی اور غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا۔ بل کا یوٹیوب، ٹک ٹاک، ایکس/ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی اطلاق ہوگا۔کسی شخص کی ذاتی زندگی اور عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کیلئے پھیلائی جانے والی خبروں پر قانون کے تحت کارروائی ہوگی، ہتک عزت کے کیسز کیلئے خصوصی ٹربیونلز قائم ہوں گے جو چھ ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

Back to top button