مریم نواز بارے بکواس کرنے پر عمران کی عوامی چھترول

ملتان کے جلسے میں مریم نواز شریف کے بارے میں بیہودہ اور لچر گفتگو کرنے پر بد زبان عمران خان کو عوامی چھترول کا سامنا ہے اور ان پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ ملتان جلسے کے دوران عمران خان نے تہذیب کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے،یہ کہہ ڈالا کہ ‘مریم دیکھو تھورا دھیان کرو، تم اپنی تقریروں میں جس جوش اور جنون سے بار بار میرا نام لیتی ہو اس پر تمھارا شوہر ہی تم سے ناراض نہ ہو جائے۔
عمران خان کے بیان کی جہاں سیاسی قیادت اور عوامی حلقوں نے شدید مذمت کی ہے وہیں سوشل میڈیا صارفین بھی ایس بیہودہ گفتگو پر عمران خان پر لعن طعن کر رہے ہیں۔ مریم کے والد نواز شریف نے عمران خان کو تہذیب اور اخلاق سے عاری انسان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شخص کی ذہنی پستی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جو قوم کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے بارے میں واحیات بکواس کرے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی عمران پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت میں اس حد تک آگے نہیں جانا چاہیے کہ ماؤں اور بہنوں پر رقیق حملے شروع کر دیے جائیں۔
جن عزت داروں کے گھروں میں مائیں بہنیں ہوں وہ اس طرح کی زبان نہیں استعمال کرتے، خدارا اس سیاست میں اتنے نیچے نہ گر جائیں، مائیں بہنیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ یہی پیغام بی بی شہید چھوڑ کر گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاش اب کوئی معزز جج چیف جسٹس کو پرسنل آبزرویشن کا خط لکھے اور وہ اس پر از خود نوٹس لیں ، عمران کی تقریر پر ردعمل میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’بیٹی مریم نواز کے خلاف قابل افسوس زبان درازی پر پوری قوم خاص طور پر خواتین پرزور مذمت کریں۔ کم ظرفی کے اظہار سے ملک وقوم کے خلاف آپ کے جرائم چھپ نہیں سکتے۔ شہباز نے ایک الگ ٹویٹ میں لکھا کہ ’عمران نیازی تاریخ کا پہلا شخص ہے جو ایک جماعت کے سربراہ کے طور پر بدتہذیبی کی اس پاتال میں جا گرا ہے۔ قوم بنانے نکلے تھے اور قوم کے اخلاق کو ہی بگاڑ دیا۔‘
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے عمران خان کے اس بیان پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ ٹوئٹر پر اس وقت ملتان جلسے کے علاوہ ٹاپ ٹرینڈز میں عمران خان کے خلاف ٹرینڈ کا اضافہ ہو چکا ہے اور مریم نواز بھی ٹاپ ٹرینڈ میں ہے۔ جن لوگوں نے سوشل میڈیا پر عمران خان کے ان جملوں کو لکھا دیکھا وہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی عمران خان نے ایسا ہی کہا۔ فوزیہ بھٹی لکھتی ہیں `کیا انھوں نے اصل میں ایسا کہا، مطلب اصل میں، یہ بھیانک ہے بہت زیادہ مایوس کن۔‘ فوزیہ بھٹی نے یہ ٹویٹ صحافی مبشر زیدی کی ٹویٹ کے جواب میں تھی جن کا کہنا تھا کہ ’اس ملک میں مردوں کا آخری ہتھیار عورت کی تذلیل کرنا ہے۔
عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے مریم نواز کے حوالے سے عمران خان کے الفاظ پر لکھا `مجھے اس بات پر شدید شرمندگی ہے کہ میں کبھی ایسے گھٹیا آدمی سے منسلک تھی۔‘ اقرارالحسن نے لکھا `اب یہ حد سے تجاوز ہے۔‘ تاہم ایجنسیوں کے ٹاؤٹ نما صحافی صدیق جان نے ٹویٹ کی کہ ’جس جس نے بشری بی بی پر ہونے والے نیچ اور گھٹیا حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی وہ آج بھی مذمت نہ کرے۔ انھوں نے عمران خان کو اپنی ایک ٹویٹ میں صلاح دی کہ وہ بالکل معافی مت مانگیں۔
ایک صارف عامر اعوان نے خود کو عمران خان کا حامی کہتے ہوئے لکھا کہ `عمران کو یہ بات زیب نہیں دیتی۔ وہ ہمارا لیڈر ہے، کوئی سٹیج ڈرامے کا کردار نہیں کہ جگتیں مارے۔‘ سماجی کارکن عمار علی جان نے لکھا ’جس شخص نے مریم کے بارے میں صنفی ریمارکس دیے ہیں وہی ہیں جنھوں نے کہا کہ مرد جو روبوٹ نہیں وہ بے فحاشی سے جنسی طور پر ترغیب ملے گی۔ آپ عمران خان کو یو ٹرن کا ماسٹر کہہ سکتے ہیں لیکن عورت کی تخصیک پر ان کے خیالات گزرے برسوں میں مسلسل سامنے آئے ہیں۔‘ عالیہ چغتائی نے عمران خان کے الفاظ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جو لوگ عمران خان کے بیان کا دفاع کر رہے ہیں انھیں واقعی اپنے آپ کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ ایک اور صارف عالیہ بھٹی نے لکھا کہ عمران جیسے بدزبان اور بے حیا شخص کو یا تو کچلہ دے کر مار دینا چاہئے یا اس کی زبان کاٹ کر تیزاب کے ڈرم میں ڈال دینی چاہیے۔
