مریم حکومت نے چیف جسٹس عالیہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے

 

لاہور ہائی کورٹ کی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے پراپرٹی اونرشپ قانون کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز بیک فٹ پر چلی گئی ہیں اور یہ اطلاع آ رہی ہے کہ وہ پراپرٹی اونرشپ قانون میں ترامیم پر رضامند ہو گئی ہیں۔ مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز سے بطور ٹربیونل خدمات لی جائیں گی۔ قبضے کی درخواستیں بھیجنے کا اختیار ٹربیونل میں تعینات سول جج کو حاصل ہوگا۔ ٹربیونل کے عبوری حکم کیخلاف بھی ہائیکورٹ سے رجوع کیا جاسکے گا،ذرائع کے مطابق پراپرٹی اونرشپ قانون میں ترامیم کی فریقین کی منظوری کے بعد عدلیہ اور مریم نوازحکومت میں ٹکراؤ کا تاثر ختم ہو جائیگا۔

یاد رہے کہ مریم نواز کی پنجاب حکومت کا لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم سے میچ اس وقت پڑا تھا جب انھوں نے مریم نواز حکومت کاقبضہ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کو قانونی تحفظ دینے کے لیے نافذ نافذ کردہ پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس معطل کر دیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ نے نہ صرف اس پر عملدرآمد روک دیا بلکہ اس کے تحت دیے گئے تمام قبضے بھی واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نہایت سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قانون نافذ رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے چیف سیکریٹری پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے جاتی امرا کے مکینوں کی زمین پر دعوی کر دیا تو ڈپٹی کمشنر اس کے حق میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔  مریم نواز نے اس عدالتی فیصلے کو حکومت کے انتظامی اختیارات کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھتے ہوئے سخت رد عمل دیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکا کہنا تھا یہ قانون عوامی منتخب اسمبلی نے برسوں اور دہائیوں سے ستائے گئے لاکھوں شہریوں کے تحفظ کے لیے بنایا تھا تاکہ انہیں طاقتور لینڈ مافیا سے نجات مل سکے۔ تاہم لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اس قانون کی معطلی سے قبضہ مافیا کو فائدہ ہوگا اور عوام اسے قبضہ مافیا کی پشت پناہی سمجھیں گے۔ جہاں مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو قبضہ گروپوں کی پشت پناہی سے تعبیر کیا وہیں اس فیصلے کے بعد چیف جسٹس عالیہ نیلم کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم بھی شروع ہو گئی، تاہم اس کے برعکس قانونی برادری کھل کر چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ یہاں تک کہ حکومت نواز سمجھے جانے والے وکلا کے انڈیپنڈنٹ گروپ نے بھی چیف جسٹس کے عبوری حکم کا دفاع کیا۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف آنے والی درجنوں درخواستوں کے بعد اس پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا۔ پنجاب حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لئے اعلیٰ سطح کی قانونی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے عدلیہ اور وکلا کے اعتراضات کے مطابق قانون میں ترامیم تیار کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت اس معاملے پر ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامند ہوگئی ہے۔ جس سے آنے والے دنوں میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تناؤ میں کمی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز سے بطور ٹربیونل خدمات لی جائیں گی۔ قبضے سے متعلق ضلعی کمیٹیوں کو درخواستیں بھیجنے کا اختیار سول جج کو دیا جائے گا جبکہ زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے قائم حکومتی کمیٹی براہ راست زیر التوا کیسز پر فیصلہ نہیں کر سکے گی۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے حکمنامے کے بعد پنجاب حکومت نے پراپرٹی آرڈیننس کے تحت سلب کئے گئے عدلیہ کے اختیارات واپس کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم کے تحت پراپرٹی اونر شپ قانون کے تحت درخواست سنے جانے کا فیصلہ سول جج کرے گا۔ ان ترامیم کے بعد ایسے کیسز جو پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان میں درخواست گزاروں نے ناجائز قبضہ کیے جانے کو درخواست کا حصہ بنایا ہے ،ایسی درخواستوں کو ضلعی کمیٹیوں کے پاس بھیجنے کا اختیار سول جج کے پاس ہوگا۔ یعنی درخواست براہ راست انتظامی کمیٹی کو نہیں دی جا سکے گی۔ اس سے قبل کمیٹی کے کنوینر کو درخواست دائر کرکے سول عدالت کو کیس کمیٹی کو واپس بھیجنے کا کہا گیا تھا جبکہ نئی ترمیم کے مطابق دونوں میں سے ایک فریق خود سول عدالت میں کیس کمیٹی کے پاس بھیجنے کی درخواست کرے گا جس کے بعد سول جج کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کیس کو کمیٹی کے پاس بھیجے گا یا نہیں۔ اس کے علاوہ حکومت ٹربیونلز کے لئے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کی خدمات لے گی اس سے پہلے ٹربیونلز کی سربراہی ریٹائرڈ ججز کو دی گئی تھی۔

ایکٹ میں ترمیم کے بعد ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل کو ختم کردیا جائے گا ۔ جبکہ ٹربیونل کے عبوری حکم کے خلاف بھی ہائیکورٹ سے رجوع کیا جاسکے گا۔ اس سے پہلے قانون میں ہائیکورٹ کو یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس اعلیٰ سطح کی قانونی کمیٹی کی سربراہی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کر رہے ہیں جبکہ کمیٹی میں سیکرٹری قانون پنجاب اور دیگر ماہرین شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی ترامیم میں عدلیہ اور وکلا تنظیموں کو بھی آن بورڈ لیا جا رہا ہے۔ مسودے کو جلد حتمی شکل دے کر پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدلیہ کے اعتراضات پر نئی مجوزہ ترامیم میں جوڈیشل ریویو شامل کر کے پنجاب حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان ترامیم کی تمام فریقین سے منظوری کے بعد عدلیہ اور حکومت کے مابین کشمکش کا تاثر ختم ہو جائے گا۔

Back to top button