مریم نواز نے نیب اور حکومت کو بیک فٹ پر کیسے دھکیلا؟

26 مارچ کو ہنگامہ آرائی کے خطرے کی پیش نظر نیب کی جانب سے ن لیگی رہنما مریم نواز کی پیشی ایک مرتبہ پھر منسوخ کئے جانے کو لیگی حلقوں نے نیب اور حکومت دونوں کی شکست قرار دیا ہے کیونکہ یہ دوسری مرتبہ ہے جب مریم نواز نے نیب کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔
نیب لاہور کے دفتر کو ریڈ زون ڈیکلیئر کرنے اور رینجرز تعینات کروانے کے باوجود مریم کی پیشی منسوخ ہونے پر حکومت نے الزام لگایا یے کہ نواز شریف کی صاحبزادی سرکاری اداروں پر چڑھائی کر رہی ہیں۔ تاہم مریم کا مؤقف ہے کہ جب نیب جیسے ادارے میرٹ پر چلنے کی بجائے حکومت کے ٹٹو بنتے ہوئے اسکے انتقامی ایجنڈے کے تحت اپوزیشن سیاستدانوں کا استحصال کریں گے تو انہیں ایسا ہی جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ نیب کی جانب سے مریم نواز کو 26 مارچ کو اس لئے بلوایا تھا کیونکہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے اسی دن لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا تھا جو کہ 16 مارچ کو منسوخ کر دیا گیا۔ نیب نے مریم نواز کی پیشی پر نیب ہیڈکوارٹر لاہور کو ریڈ زون قرار دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی تھی کہ مریم کو اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان کے ہمراہ نیب آفس آنے سے روکا جائے۔ مگر نیب کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی جس کے بعد نیب نے عزت بچانے کے لیے 26 مارچ کی پیشی کرونا کی آڑ میں منسوخ کر دی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیب کے اس اقدام سے حکومت اور احتساب کے عمل کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اور یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ مریم کے خلاف کیسز بے بنیاد ہیں اور انہیں صرف سیاسی طور پر متحرک ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ قومی احتساب بیورو کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے کہ مریم نواز کو پیشی پر بلانے کے بعد ان کی جانب سے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے باعث لان کی پیشی کو منسوخ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ نیب نے مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس اور اراضی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کے کیس میں طلب کر رکھا تھا۔ چوہدری شوگر ملز کیس میں بیورو نے مریم نواز کو گزشتہ سات ماہ سے طلب نہیں کیا تھا۔ انہیں آخری بار اگست 2020 میں طلب کیا گیا تھا، لیکن نیب دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی جھڑپ کے باعث یہ پیشی ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گئی تھی۔
مریم نے دو گھنٹے تک نیب دفتر کے باہر اپنی پیشی کے لیے انتظار کیا لیکن پھر قومی احتساب بیورو نے انکی پیشی منسوخ کر دی۔ اب 25 مارچ کی شام نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسکا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مریم نواز کی 26 مارچ کو پیشی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے ملک میں کورونا وبا کی تیسری لہر کے حوالے سے جاری ہدایات کا جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیب نے مریم نواز کو اس سے قبل بھی پیشی کے لیے طلب کیا تھا لیکن تب نیب لاہور کی عمارت پر دانستہ طور پر پتھراؤ کیا گیا جو نیب تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے جبکہ ملزمان کے خلاف اس غیر قانونی برتاؤ کی ایف آئی آر بھی متعلقہ تھانے میں درج ہے۔
نیب کے بیان میں کہا گیا کہ نیب قانون کی شق 31 (اے) کی رو سے نیب کی تحقیقات میں عدم تعاون کا مظاہرہ کرنے، ان میں رخنہ ڈالنے یا گمراہ کرنے کی صورت میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے، نیب کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ سب قانونی اختیارات ہونے کے باوجود نیب کی جانب سے تاحال انتہائی صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ نیب نے کہا کہ مریم نواز کو دوسری بار 26 مارچ کو نیب تفتیشی ٹیموں کے روبرو پیش ہونے کے لیے نوٹس ارسال کیے، تاہم این سی او سی کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مفاد عامہ کے پیش نظر اصولی فیصلہ کیا گیا ہے کہ مریم نواز کی نیب لاہور میں پیشی ملتوی کردی جائے اور نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
نیب کی پیشی منسوخ کئے جانے پر مریم نواز نے کہا کہ نیب ایک پولیٹکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے، جو عمران خان کے کہنے پر چلتا ہے اور اسے جب مدد درکار ہوتی ہے وہ سامنے آجاتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ نیب کے پیچھے اصل چہرہ عمران اور اس کی جعلی حکومت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب کسی بھی نام نہاد احتسابی ادارے کے لیے تر نوالہ ثابت نہیں ہوں گی۔ میں نے پہلے بھی سلیکٹرز کو پیچھے دھکیلا تھا اور آئندہ بھی ان کو اسی طرح پیچھے کی طرف دھکیلتی رہوں گی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ جتنا ظلم نیب نے کرنا تھا، جتنا انتقام لینا تھا، وہ سب ہوچکا اور اب ظالم اور ظلم دونوں کے مٹنے کے دن قریب آچکے ہیں۔
نیب کو مخاطب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ‘ تمہارا انتقام کا دور گزرگیا، تمہارا مکروہ چہرہ لوگوں نے پہچان لیا یے، تم جتنی مرضی پریس ریلیز جاری کر لو لیکن پوری دنیا جانتی ہے کہ تم ایک سیاسی اور انتقامی ادارہ ہو اور جب جب تمہارا مالک عمران خان مشکل میں آتا ہے، تم اس کی مدد کے لیے پہنچتے ہو۔ لیکن یاد رکھو اب یہ ہتھکنڈے مزید نہیں چل سکیں گے اور ناکام ہو ںگئے۔ مریم نواز نے کہا کہ مجھے 48 دن نیب میں رکھا اور وہاں میرے ساتھ کیا سلوک ہوا یہ میں عوام کے سامنے لاؤں گی تاکہ نیب کا بھیانک چہرہ قوم کے سامنے آسکے۔ انہوں نے نیب سے سوال کیا کہ ڈیڑھ سال بعد ایسی کیا ضرورت پیش آگئی کہ میرے جھوٹے کیس کو دوبارہ کھول دیا گیا جب کہ میرے اثاثے بھی وہی ہیں اور مجھ پر کوئی الزامات بھی نہیں ہیں، انہوں نے نیب چییرمین سے پوچھا کہ اچانک انہیں 26 مارچ کے لیے ہی مریم نواز کو نوٹس دینے کی کیا ضرورت پیش آگئی جبکہ اسی روز لانگ مارچ طے تھا۔
مریم نے یاد دلایا کہ نیب نے انکی ضمانت منسوخی کی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اداروں کے خلاف بول رہی ہیں لہذا ان کی ضمانت منسوخ کی جانی چاہیے۔ انہوں نے پوچھا کہ اداروں کے خلاف بیان بازی کا چوکیدار نیب کو کس نے اور کب بنایا ہے، انہوں نے نیب چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر آئین و قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نیب اور عمران خان کو بتادینا چاہتی ہوں کہ اب نیب کی دھمکی کو نواز شریف، مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف استعمال نہیں کرنا کیونکہ ہم نہ تمہاری نیب سے ڈرتے ہیں، نہ جیلوں سے اور نہ ہی انتقام سے ڈرتے ہیں۔ مریم نے کہا کہ اگر یہ پیشی کورونا کی وجہ سے ملتوی کی گئی ہے تو پھر آج ‘سلیکٹڈ’ کرونا میں مبتلا ہونے کے باوجود ایک اجلاس کی صدارت کیوں کر رہا تھا۔
