مریم نواز نے گیارہ اگست کو نیب کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے گیارہ اگست کو نیب کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے گیارہ اگست کو نیب کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کرلی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے قومی احتساب بیورو( نیب)کی جانب سے طلبی کے نوٹس پر خود پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق مریم نواز نے نیب کی جانب سے اراضی کیس کی تحقیقات کےلیے 11اگست کو طلبی کے نوٹس کے بعد اپنے والد سمیت خاندان کے دیگر افراد، پارٹی کی سینئر قیادت اور وکلاء سے تفصیلی مشاورت کی جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ مریم نواز خود نیب کے سامنے پیش ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے قافلے میں جاتی امراء رائیونڈ سے نیب آفس ٹھوکر نیاز بیگ پہنچیں گی۔ مریم نواز کی نیب دفتر میں موجودگی تک رہنما اور کارکنان نیب کے دفتر کے باہر موجود رہیں گے اور ان کی واپسی پر جاتی امراء تک ساتھ آئیں گے ۔نیب نے مریم نواز کو 11 اگست کو دن 11 بجے طلب کیا ہوا ہے، نیب مریم نواز سی200 کنال اراضی کے حوالے تحقیقات کر رہا ہے اور انہیں تمام دستاویزات ساتھ لانے کے لئے کہا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کو تمام دستاویزات گیارہ اگست کو ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق رائیونڈاراضی کیس میں مریم نوازکے بعد نوازشریف اوردادی شمیم بیگم کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ مریم نوازپر رائیونڈ میں خلاف قانون اراضی سستے داموں خریدنے کا الزام ہے۔ نیب نیمریم نوازسے ایک ہزار 440 کنال اراضی پرجواب طلب کررکھا ہے۔ نائب صدر ن لیگ سے پوچھا گیا کہ زمین خریدنے کےلیے رقم کہاں سے آئی۔ اراضی کی خریداری پر کتنا ٹیکس اور کتنی ڈیوٹی دی۔ ایک ہزار 400 کنال میں سے اگر کوئی زمین فروخت کی گئی تواس کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔ بتایا جائے حاصل کی گئی زمین کس مقصد کےلیے استعمال کی جارہی ہے۔
خیال رہے کہ مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور وہ اس میں ضمانت پر رہا ہیں۔ نیب کا موقف ہے کہ ن لیگی رہنما نے چوہدری شوگر ملز کے جعلی اکاونٹس چلانے میں اہم کردار ادا کیا اور نیب ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔مریم نواز ایون فیلڈ(لندن فلیٹس) ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں اور انہیں 7 سال قید کی سزا دی گئی مگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر رکھی ہے۔ حکومت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈال رکھا ہے اور ان کا پاسپورٹ بھی لاہور ہائی کورٹ کے پاس جمع ہے۔
