مریم نواز کی ضمانت پر دلائل مکمل ، فیصلہ کل سنایا جائیگا

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز کیس میں درخواست ضمانت پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا، جسے کل (یکم نومبر) کو سنایا جائے گا۔
نیب کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب نے قانون کے مطابق مریم نواز کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے اور مریم نواز کا کیس غیر معمولی حالات میں نہیں آتا۔ان کا کہنا تھا کہ 19 فروری 2018 کو مریم نواز کے خلاف انکوائری کا آغاز ہوا، دسمبر 2018 میں انکوائری کو تحقیقات میں بدل دیا گیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ چوہدری شوگر ملز جعلی اکاونٹس چلانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ، لہٰذا نیب قانون کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے پوچھا کہ کیا مریم نواز شریف بھی کسی ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ مریم نواز نیب کے ایک ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں اور انہیں 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے مریم نواز کی سزا معطل کر رکھی ہے۔
جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پہلے سے زیر سماعت ریفرنس میں ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی اجازت دی تھی نا کہ نئے ریفرنس کی۔اس پر وکیل نے کہا کہ انکم ٹیکس ریٹرن کے ریکارڈ کے مطابق مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، مریم نواز نے کئی سال ٹیکس ریٹرن جمع بھی نہیں کرائیں جبکہ مریم نواز کو کروڑوں روپے بطور تحائف ملے۔
دوران سماعت نیب کی جانب سے مریم نواز کی ایس ٹی آر (خفیہ ٹرانزیکشنز) کی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ چوہدری شوگر مل کے نام پر جعلی اکاونٹس کھول کر قرض لیا گیا اور ادا بھی کیا گیا۔وکیل کی پیش کردہ رپورٹ پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد لگ رہا ہے کہ ٹرانزیکشنز نواز شریف کے اکاونٹس سے ہوئی ہیں، مریم کا لنک نظر نہیں آرہا،آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہم مریم نواز کا کیس سن رہے ہیں نواز شریف کا نہیں۔
اس پر وکیل نے کہا کہ مریم نواز چوہدری شوگر ملز کی سی ای او اور شیئر ہولڈر رہی ہیں، مریم نواز سے پوچھا گیا کہ چوہدری شوگر میں ان کے 47 فیصد شیئرز ہیں، بتائیں کہاں سے آئے ہیں۔وکیل نے کہا کہ مریم نواز اپنے جواب کے ذریعے نیب کو مطمئن نہ کر سکیں، مریم نواز کی گرفتاری کے لیے جاری کیے گئے وارنٹس میں 4 الزامات لگائے گئے، مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے زائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے لاکھوں ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوائے، شمیم شوگر مل کو بنانے کے لیے مریم نواز کے پاس فنڈز کہاں سے آئے مریم نواز یہ بتانے میں ناکام رہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ چوہدری شوگر ملز کے اکاونٹس سے شمیم شوگر مل کے اکاونٹ میں بھاری رقم ٹرانسفر کی گئی۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 84 لاکھ ڈالرز یوسف عباس کو دبئی سے بھجوائے گئے جبکہ دبئی میں ان کا کوئی کاروبار نہیں، یوسف عباس نے یہ پیسے چوہدری شوگر مل میں منتقل کر دیئے، اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے پوچھا کہ پیسے آئے یا بھجوائے گئے اس میں کرپشن کا کیا عنصر ہے، کیا ملک میں کاروبار کے لیے پیسہ لانا جرم ہے۔اس پر وکیل نے کہا کہ مریم نواز نے منی لانڈرنگ میں اہم کردار ادا کیا، چوہدری شوگر ملز کے بینک اکاونٹس سے مریم نواز کے ذاتی اکاونٹ میں بڑی رقم بھجوائی گئی۔
بعد ازاں نیب کے وکیل نے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد عدالت عالیہ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا جسے کل سنایا جائے گا۔ گزشتہ روز سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیے تھے اور کہا تھا کہ نیب نے ان کی موکلہ پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا جھوٹا الزام لگایا جبکہ مریم نواز ایک خاتون ہیں، اس بنیاد پر بھی ان کی ضمانت ہونی چاہئے۔
24 اکتوبر کو مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لیے ایک اور متفرق درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے نیب سے جواب مانگا تھا تاہم 25 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب جواب جمع نہیں کروا پایا تھا جس کے بعد عدالت نے مریم نواز کی درخواست ضمانت سے متعلق دونوں درخواستوں پر سماعت کو ملتوی کر دیا تھا۔اگلے روز نیب کی جانب جواب جمع کروایا گیا تھا جس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ عدالت میں دائر درخواست میں مریم نواز نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ملک کے 3 مرتبہ منتخب وزیراعظم کی بیٹی ہیں، نیب کی جانب سے ان پر جھوٹا کیس بنایا گیا ہے جبکہ نیب کمپنیز ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں کر سکتا۔مریم نواز نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں ان کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دیا جائے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔
