مریم کی پیشی نے مردہ نون لیگ میں نئی روح پھونک دی

11 اگست کے روز مریم نواز کی نیب لاہور میں پیشی کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی نے نون لیگ کے مردہ جسم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ قومی احتساب بیورو نے مریم نواز کو بلایا تو تھا ڈرانے اور دھمکانے کے لیے لیکن مدعا الٹا پڑ گیا اور واقعات نے ایسی صورت اختیار کی کہ الٹا نیب کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
نیب کے لاہور دفتر کے باہر نون لیگ اور پولیس کے مابین جھڑپوں، ہنگامے، لاٹھی چارج، آنسو گیس چلائے جانے اور گرفتاریوں کے بعد نیب مریم نواز کی پیشی کو منسوخ کرنے پر مجبور یو گیا لیکن نیب کی جانب سے مریم نواز کو طلب کیے جانے کے عمل نے نون لیگ کو ایک موقع فراہم کیا کہ وہ ٹھہری ہوئی ملکی سیاست کے پانیوں میں ایک ہلچل برپا کردیں۔ اس پیشی نے مریم نواز کو یہ موقع بھی فراہم کر دیا کہ وہ دوبارہ سے عوام کے سامنے آئیں اور حکومت کو چارج شیٹ کردیں۔
اگرچہ مریم نواز کی نیب پیشی پر لیگی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ کی وجہ سے وہ نیب حکام کے سامنے پیش نہ ہوسکیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے جلوس کی صورت میں نیب جاکر سیاسی طاقت کا جو مظاہرہ کیا، وہ کامیاب رہا اور اس نے نون لیگ کی عوامی طاقت دکھانے کا مقصد پورا کر دیا۔ نیب کے نوٹس اور حکومت کے احکامات پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج نے بھی مریم کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ سوئی ہوئی نون لیگ کی عوامی طاقت کو پھرسے جگا اور دکھا سکیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اراضی کیس میں نیب کو مطمئن نہ کرنے کی صورت میں مریم کی گرفتاری کا امکان بھی تھا لیکن مریم نے سیاسی داؤ پیچ لڑا کر لیگی کارکنوں کو اس طریقے سے متحرک کیا کہ وہ نہ صرف پیشی سے بچ گئیں بلکہ الٹا نیب اور حکومت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ ان حالات میں اب حکومت کو یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ اگلی دفعہ بھی نیب نے مریم کو بلایا تو اسی طرح کی ہنگامہ آرائی ہو گی جس سے نون لیگ کو سیاسی طور پر فائدہ ہوگا۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ نیب کی جانب سے بلائے جانے کے عمل نے مریم نواز شریف کو سیاسی طور پر متحرک کر دیا ہے۔
یاد ریے کہ 11 اگست کو قومی احتساب بیورویا نیب لاہورکے باہر ہنگامہ آرائی کے باعث مریم نواز کی اراضی ریفرنس میں پیشی منسوخ کرنا پڑی۔ مریم نیب کے لاہور دفتر کے باہر ڈیڑھ گھنٹہ تک موجود رہیں جہاں انہوں نے تقریر بھی کی اور نیب والوں سے کہا کہ میں آپ کے دفتر کے باہر موجود ہوں مجھے اندر بلایا جائے اور مجھ سے تفتیش کی جائے۔ تاہم اس دوران نیب نے ایک پریس ریلیز جاری کردی جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ مریم نواز کو دوبارہ طلب کیا جائے گا اور آج کی پیشی کینسل کر دی گئی ہے۔
نیب اعلامیے کے باوجود مریم نواز نیب آفس کے باہر موجود رہیں اور انہوں نے کہا کہ میں آج ہی جواب دے کر جاﺅں گی۔ مریم نواز نے کہا کہ نیب نے مجھ سے سوال کیا ہے تو جواب بھی سنے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے میری گاڑی پر پتھراﺅ کیا اور بلٹ پروف گاری کا شیشہ بھی توڑ دیا جو قابل مذمت ہے۔ مریم نے کہا مجھے نقصان پہنچانے کے لیے نیب آفس بلایا گیا، اب میں واپس نہیں جاؤں گی اور نیب کے بنیاد الزامات کاجواب دے کرجاﺅں گی۔
مریم نواز نے حکومت اور نیب نیازی گٹھ جوڑ کو ایک برائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مسلم لیگ ن، نواز شریف اور مریم نواز سے اتنا ڈرتے ہیں تو پھر مریم نواز کو بلاتے کیوں ہیں؟ واضح رہے کہ مریم نواز قافلے کی صورت میں نیب دفتر پہنچی تھیں۔ مریم نواز کا قافلہ جیسے ہی نیب دفترکے باہر پہنچا تو لیگی کارکنان نے نیب آفس میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں روکا اوریوں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ پولیس کی جانب سے پتھراؤ کرنے والے لیگی کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور علاقہ میدان جنگ بن گیا۔
مریم کی نیب پیشی اور پھر پریس کانفرنس سے یہ لگتا ہے کہ مریم نے اس واقعے کو سیاسی میدان میں واپسی کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہ مزید چپ نہیں رہیں گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم پچھلے چھ ماہ سے بالکل خاموش تھی اور کسی قسم کی کوئی بیان بازی یا سیاسی سرگرمیاں بھی نہیں کررہی تھی لیکن نیب کی جانب سے انہیں تفتیش کے لیے بلائے جانے کے فیصلے نے انہیں یہ موقع فراہم کیا کہ وہ خود کو سیاسی طور پر دوبارہ متحرک کریں اور حکومت کو چیلنج کریں۔ اسکے علاوہ حکومتی احکامات پر ن لیگ کے کارکنوں پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج نے بھی مریم کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی جماعت کی سوئی ہوئی عوامی طاقت کو پھر سے جگا اور دکھا سکیں۔
اس واقعے کے بعد مریم نواز نے بھرپور پریس کانفرنس بھی کی اور حکومت اور نیب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح اعلان کیا کہ مسلم لیگ ن کا ایک ہی بیانیہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اس بیانیے کے ذریعے اپنےحصے کا کام کردیا ہے اور اب ہمیں عوام کو ساتھ ملا کر عوام پر ٹھونسی گئی حکومت سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔
یاد رہے کہ مریم نواز کیخلاف چوہدری شوگرملز کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور وہ اس میں ضمانت پر رہا ہیں نیب کا مؤقف ہے کہ مریم نے چوہدری شوگر ملز کے جعلی اکاﺅنٹس چلانے میں اہم کردار ادا کیا اور نیب ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں اور انہیں 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے مگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی سزا معطل کر رکھی ہے۔ حکومت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈال رکھا ہے اور ان کا پاسپورٹ بھی لاہور ہائی کورٹ کے پاس بطور ضمانت رکھوایا گیا ہے۔
تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 11 اگست کے روز مریم کی نیب دفتر میں پیشی پر ہونے والی ہنگامہ آرائی نے نون لیگ کے مردہ جسم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔
