مزار قائد اور فیصل مسجد میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے والے پکڑے گئے

کراچی میں مزار قائد اور پھر فیصل مسجد اسلام آباد میں نقاب پوش خاتون کی ڈانس کرتی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے گروہ کو اس کے سرغنہ اور مرکزی ملزم اسد سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ٹک ٹاک کا بخار اب گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، سرکاری دفاتر، عوامی مقامات پارکس اور باغات سے ہوتا ہوا مزارات اور مساجد تک جا پہنچا ہے۔ حال ہی میں کراچی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر نقاب میں ملبوس خاتون کی ڈانس کرتی ویڈیو اور پھر اسی خاتون کی اسلام آباد میں فیصل مسجد کے باہر ڈانس کرتی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید کی زد میں آئی تھی۔ سوشل میڈیا پر خاتون کی اس حرکت کو باعث شرم اور باعث افسوس قرار دیا گیا۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ خاتون کو کم ازکم بانی پاکستان کے مزار اور پھر مسجد کی حرمت کا خیال کرنا چاہیے تھا۔ تاہم کچھ لوگوں نے مزار قائد اور فیصل مسجد کی انتظامیہ کو قصور وار قرار دیا جنہوں نے اسطرح کی قابل اعتراض ویڈیوز بنانے کی اجازت دی۔
نقاب پوش خاتون کے ڈانس پر عوام کی شدید تنقید کے بعد کراچی پولیس حرکت میں آئی اور قائد اعظم کے مزار پر مبینہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے گروہ کو سرغنہ اسد سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم کراچی اور اسلام آباد میں نقاب پہن کر ڈانس کرنے والی لڑکی عدم شناخت پر تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہے اور گرفتار گروہ کے سرغنہ سے اس کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ مزار قائد کے سامنے سنگ مرمر سے بنے فرش پر رقص کرتی لڑکی اور فیصل مسجد کے باہر رقص کرتی لڑکی نے نقاب اوڑھ رکھا ہے اور شکل نظر نہیں آ رہی۔ سفید لباس میں ملبوس نقاب پوش لڑکی کی مزار قائد کے احاطے میں ٹک ٹاک کے دوران محو رقص عکس بند کی جانے والی ویڈیوزمیں مختلف گانے بھی سنائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کی فلم بندی کے دوران عقب میں شہری بھی موجود تھے۔ فیصل مسجد کے باہر رقص کرتی لڑکی گلابی کپڑوں میں ملبوس ہے اور اس نے بھی نقاب اوڑھ رکھا ہے۔
