مسجد نبوی واقعے کی منصوبہ بندی عمران نے کی

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اونگزیب نے کہا ہے کہ مسجد نبوی واقعہ کی پوری پلاننگ اور منصوبہ بندی عمران خان کے حکم پر ہوئی، میں وہاں موجود تھی، میں نے خود دیکھا کہ یہ لوگ اشارے کر کر کے نعرے لگوا رہے تھے، گالیاں نکلوا رہے تھے، میرے پیچھے آنے کا کہہ کر وڈیوز بنوا رہے تھے ،اس مقام کی بے حرمتی کرنا ان کے سر پڑ گیا، جب یہ لوگ مجھے وہاں گالیاں دلوا رہے تھے میں نے وہاں بھی ان کے لیے ہدایت کی دعا کی۔
مریم اورنگزیب کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ یہ ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار تھے، یہ اپنی گندی ذہنیت کا گند اٹھا کر مسجد نبوی لے گئے، انہوں نے وہاں لوگوں کو اکسایا، لوگوں کو اشتعال دلایا، آپ نے مسجد نبوی میں ایک خاتون کو گالیاں پڑوائیں، اس مقدس مقام کو آپ نے اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔عمران خان کے 4 لوگ تو لوگوں کو اکسا کر راتوں رات لندن چلے گئے مگر غریب لوگ سعودی عرب میں عمران خان کی وجہ سے گرفتار ہوچکے ہیں، ان کے پاسپورٹ کینسل ہو رہے ہیں، وہ لوگ قانون کے شکنجے میں ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہاانہوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ ان کی ذہنیت ہی یہ ہے، عمران خان نے ریاست مدینہ کا نام لے کر ملک میں تباہی کی،مسجد نبوی کی تاریخ میں اس طرح کا بے حرمتی کا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا، انہوں نے پلاننگ کے تحت وزیراعظم کی موجودگی کی اطلاع پر لوگوں کو وہاں بھیجا، میں نے خود دیکھا کہ پلاننگ کے تحت اس مقصد کے لیے مختلف بلاکس میں لوگوں کو تعینات کیا گیا تھا اور افطار اور نماز کے وقت یہ بے حرمتی کی گئی۔
انہوں نے کہاعمران خان نے اپنے دور حکومت میں مخالفین کے خلا ف بے بنیاد کیسز بنائے، انہیں سزائے موت کی چکیوں میں رکھا گیا، انسداد منشیات کا ادارہ بھی ہمارے رہنماؤں کے پیچھے لگا دیا گیا، عمران خان گزشتہ 4 سال سے قوم سے جھوٹ بول رہے ہیں،تمام ریاستی اداروں کو استعمال کرنے کے باوجود ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں کرسکے، 4 سال میں پاکستان کی کسی عدالت میں ایک دھیلے کی کرپشن کا شائبہ تک نہیں ملا۔
وفاقی وزیر نے کہا عمران خان نے قوم کے 4 قیمتی سال سیاسی مخالفین کے خلاف بد ترین انتقامی کارروائیوں میں ضائع کردیے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کامیاب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پاکستان کے عوام نے اپنے نمائندوں کے ذریعے نا اہل، نا لائق ٹولے کو پارلیمنٹ سے باہر پھینکا، عمران خان اور ان کا کرپٹ ٹولہ آئین شکنی کرکے مرکز اور پنجاب میں اقتدار کی کرسی سے چمٹا رہنا چاہتا تھا کیونکہ ان کو اپنی کرپشن کے ثبوت سامنے آنے کا خوف تھا۔
انہوں نے کہاآج عمران خان کہتے ہیں کہ فرح خان کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں تھااس لیے ان کے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا، میں پوچھتی ہوں کہ مریم نواز کے پاس کونسا عہدہ تھا، ان کے خلاف کیوں انتقامی کارروائی کی گئی، ان کو کیوں جیل میں رکھا گیا،بقول عمران خان آج فرح گوگی بہت معصوم ہے، وہ پنجاب میں عمران خان کی فرنٹ پرسن تھی، فرح گوگی کے اثاثوں میں گزشتہ 4 سال کے دوران اربوں کا اضافہ ہوا ہے، رشوت لے کر پنجاب میں تقررو تبادلے، تعیناتیاں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جاتے تھے،اسی لیے عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایاکیونکہ وہ جانتے تھے کہ عثمان بزدار گونگے اور بہرے ہیں اور اس لیے فرح گوگی کو پنجاب میں پلانٹ کیا گیا۔
انکا کہنا تھا وزیراعظم ہاؤس میں شہزاد اکبر کی زیر نگرانی ایسٹ ریکوری یونٹ نہیں بلکہ ایسٹ میکنگ یونٹ بنایا گیا تھا، آج کدھر ہیں وہ شہزاد اکبر جو تمہارے فرنٹ مین تھے، عمران خان وہ واحد وزیراعظم تھے جنہوں نے توشہ خانہ کے تحائف فروخت کیے، دوست ممالک سے ملنے والے تحفے ان ہی ملکوں میں بیچے گئے جہاں سے وہ موصول ہوئے تھے، ان تحائف کو اپنے رکھنے کے لیے عمران خان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پہلے 20فیصد رقم ادا کی، پھر تحائف رکھنے کی شرح کو 50 فیصد تک بڑھایا، 3 کروڑ میں خریدی گئی چیزوں کو آگے کئی گنا اضافے کے ساتھ فروخت کیا گیا، توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کے لیے وہ پیسے فرح گوگی اور شہزاد اکبر نے عمران خان کو دیے۔ عمران خان نے ملوں سے پیسے کھا کر چینی اور آٹے کے اسکینڈل بنائے، یہ تھے عمران خان اور ان کی حکومت کے کرتوت۔
مریم اورنگزیب نے کہا پی ٹی آئی چیئرمین وزیراعظم ہاؤس سے بم پروف گاڑی بھی ساتھ لے گئے، اور آج تک اس کی مرمت کے اخراجات بھی پاکستان کے عوام کے پیسےسے کی جا رہی ہے، عمران خان جاتے جاتے ایک پسٹل بھی اپنے ساتھ لے گئے اور اس کو توشہ خانہ میں ڈیکلیئر بھی نہیں کیا گیا، یہ کچھ چیزیں سامنے آئیں ہیں ، ابھی اور بھی بہت سی چیزیں ثبوتوں کے ساتھ سامنے آئیں گی، ابھی آپ نے توشہ خانہ کی ان چیزوں کا حساب دینا ہے جو ڈکلیئر نہیں کیں،پوری ریاستی مشینری کو استعمال کرکے بھی نواز شریف، شہباز شریف سمیت کسی رہنما کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا۔
انہوں نے کہاآج پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری، غربت عمران خان کی وجہ سے ہے، ایک کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ گھر کدھر ہیں، عمران خان آج بھی دوسروں پر الزامات لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عوام باہر نکلیں، عوام باہر نکلیں گے، پاکستان کے عوام آپ کے گلوں میں جوتوں کے ہارپہنائیں گے، عمران خان نے اپنے 4 سالہ دور اقتدار میں تمام مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کیے، ان کے ساتھ لڑائیاں کی، ان کے سربراہان کے دل خراب کیے، خارجہ پالیسی کے معاملات پر بھی اپنی منفی ذہنیت کا مظاہرہ کیا اور آج جب شہباز شریف کو سعودی عرب میں گارڈ آف آنر دیا گیا تو ان کو مرچیں لگ رہی ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا عمران خان پریشان ہیں کہ ڈھائی ہفتے میں شہباز شریف کو دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان فون پر مبارکبادیں دے رہے ہیں، ڈھائی ہفتے میں آٹا، چینی، گھی سستا ہوا ہے تو ڈیڑھ سال میں کیا ہوگا،پہلی بار سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی طرف جارہے ہیں،آج ملک میں مہنگائی کی جو صورتحال ہے وہ اس آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے ہے جس پر عمران خان کے دستخط ہیں، ان کی نالائقی اور نا اہلی کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کو کم کرنے کے لیے شہباز شریف دن رات کوششیں کر رہے ہیں۔

Back to top button