مسجد نبوی کا واقعہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا


وزیراعظم شہباز شریف کے وفد کے ساتھ مسجد نبوی میں پیش آنے والے بدتمیزی کے واقعے کی ملک بھر میں مذمت جاری ہے لیکن اس حرکت کے ماسٹر مائنڈ سابق وزیراعظم عمران خان ابھی تک خاموش ہیں اور کوئی ردعمل نہیں دے رہے۔ اس دوران اب ایسے شواہد سامنے آچکے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ پوری منصوبہ بندی سے کیا گیا اور لندن اور پاکستان سے خصوصی طور پر لوگوں کو سعودی عرب بھجوایا گیا جنہوں نے مسجد نبوی میں نعرے بازی اور بدتمیزی کی۔ اس حوالے سے شیخ رشید احمد اور ان کے بھتیجے کی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں جن میں وہ واقعہ ہونے سے پہلے ہی بتا رہے ہیں کہ شہباز شریف کے وفد کے ساتھ سعودی عرب میں کیا سلوک کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے قریبی ساتھی اور ان کے سابق مشیر صاحبزادہ جہانگیر چیکو دو درجن سے زائد افراد کا خصوصی وفد لے کر لندن سے دو روز پہلے ہی سعودی عرب پہنچے تھے تا کہ یہ افسوسناک واردات ڈالی جا سکے۔ جہانگیر چیکو تحریک انصاف برطانیہ اور یورپ کے فوکل پرسن ہیں اور عمران خان کے لیے فنڈ ریزنگ کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ موصوف کی گرفتاری کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی زیر گردش ہیں۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف جب اپنے وفد کے ہمراہ مسجد نبوی ﷺ میں حاضری کیلئے پہنچے تو تحریک انصاف کے یوتھیوں کا ہجوم اکھٹا ہو گیا جنہوں نے خانہ خدا کا تقدس پامال کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔ اس دوران ہجوم نے مریم اورنگزیب کو گھیرنے کی کوشش بھی کی اور شاہ زین بگٹی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جو مریم کو ہجوم سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس ساری ہنگامہ آرائی کے دوران یوتھیے اپنے موبائل فونز سے مسلسل ویڈیوز بھی بناتے رہے جو واقعے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر وائرل کردی گئیں۔ یہ ویڈیوز وائرل ہوئیں تو عقل اور شعور رکھنے والے پاکستانیوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے، اس میں ملوث افراد کو فی الفور گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
عمران خان کا مسجد نبویﷺ میں پاکستان کے حکومتی وفد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد پہلا ٹوئٹ سامنے آ گیا ہے، تاہم یہ ٹوئٹ اس افسوسناک واقعے پر ردّ عمل دینے سے متعلق نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کی مذمت نہیں کی ہے۔
عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں یوم القدس کے موقع پر قابض اسرائیلی افواج کے تشدد اور ظلم کے خلاف فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہر رمضان میں ہم مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے قابل مذمت حملوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، جو مسلمانوں کے لیے تیسرے مقدس ترین مقام ہے۔
دوسری جانب مسجد نبوی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی وسیع پیمانے پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ مسجد نبوی ﷺ میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے پر سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ قومی کرکٹرز کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے گزشتہ روز مسجد نبوی ﷺ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہونے کے بعد پہلی بار گیا تو خانہ کعبہ کو دیکھ کر چیخ نکل گئی تھی، روضہ رسول ﷺپر گیا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے، یہ وہ جگہیں ہیں جہاں پہنچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ محمد یوسف نے کہا کہ روضہ رسول ﷺ پر جو کچھ ہوا وہ دیکھ کر اے اللہ میں پوری امت کی طرف سے تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔
سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے کہا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں آواز بلند کرنے کی بھی ممانعت ہے مگر ہم اپنی سیاسی دشمنیاں نبھانے کے لیے حرم کی حرمت تک بھول گئے۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ ریاست مدینہ کے تقدس سے بھی منکر ہو گئے، نعرے لگانے والوں کی پہچان تو ہو جائے گی لیکن پاکستان کی شناخت کو آج ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر محمود اشرفی کی جانب سے بھی ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلمانوں کا مقصد 27 رمضان المبارک کو گندے نعرے لگانے اور الزامات لگانے کے بجائے مسجد نبویﷺ میں سربسجود ہونا اور اپنی آوازیں پست کرنا ہے۔ ٹوئٹر پر سیاست دانوں اور مذہبی اسکالرز نے واقعے کی مذمت کی اور اس کا الزام تحریک انصاف پر عائد کیا۔ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد نبوی میں احتجاج کی صورت میں جو حرم شریف کی پامالی کی گئی اسکی اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہے۔

Back to top button