مسجد وزیر خان میں شوٹنگ کیخلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

لاہور کی مسجد وزیر خان میں فلم انار کلی کی شوٹنگ کے دوران ساؤنڈ سسٹم لگا کر سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کرنے کے خلاف تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی.
116339771 913257885852456 4634363073177243806 n
تحریک التوا کار مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی سنبل مالک حیسن نے جمع کرائی. پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک التواکار میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اندرون شہر لاہور مسجد وزیر خان میں 28جولائی کو انارکلی فلم کی شوٹنگ کی گئی۔دوران شوٹنگ ساؤنڈ سسٹم لگا کر مسجد میں سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کی گئی۔ ویڈیو میں واضح طور پر مذکورہ واقعہ دیکھا جا سکتا ہے جس میں مسجد کے تقدس کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں۔ متن میں مزید کہا گیا ہے کہ جس جگہ امام مسجد امامت کرواتا ہے اور موذن اذان دیتا ہے وہاں پر میوزک اور ڈانس کی محفلیں کروانے سے نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوا بلکہ دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔ اس عمل کی تمام مسلمان شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔تحریک التوء میں استدعا کی گئی ہے کہ اس گھناؤنے اور شیطانی عمل میں شامل لوگوں کو قانون کے کہٹرے میں کھڑا کرکے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ ریاست مدینہ کی دعوے دار حکومت ایسے اقدام پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔مسجد کا تقدس پامال کرنے کی وجہ سے عوام اور پوری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ تشویش و اضطراب پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 28 جولائی کو پاکستانی فلم انار کلی’ میں شامل نکاح کے ایک سین کی شوٹنگ لاہور میں واقع تاریخی مسجد وزیر خان میں ہوئی، جس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کافی تنقید و تبصرے کیے جارہے ہیں۔ مسجد میں ہونے والی اس شوٹنگ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئیں، جن میں مسجد کے اندر اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید ایک گانے پر بظاہر رقص کرتے ہوئے نظر آئے۔اداکارہ صبا قمر نے بھی انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی تھی، جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا تھا: ‘قبول ہے۔’
https://www.instagram.com/p/CDUchNqBSZ2/?utm_source=ig_embed
سوشل میڈیا پر تو اس عمل کی خوب مذمت کی ہی گئی، لیکن سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی سنبل مالک نے اس شوٹنگ کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ‘مسجد کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔’
دوسری جانب مسجد میں شوٹنگ کی اجازت دینے والے محکمہ اوقاف نے مسجد میں رقص کی ویڈیو کو ‘جعلسازی’ قرار دے دیا ہے. محکمہ اوقاف کے ترجمان کے مطابق فلم ‘انار کلی’ میں شامل ایک نکاح کے سین کو مسجد وزیر خان میں ریکارڈ کرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا: ‘ہمارے قوانین کے تحت فلموں کے سین کو مسجد میں عکس بند کرنے کی اجازت ہے، تاہم اس میں قواعد وضوابط واضح ہیں جن کے مطابق کسی بھی اوقاف کے زیر انتظام مسجد میں قابل اعتراض لباس پہننا یا رقص کرنا منع ہے۔’ انھوں نے مزید بتایا کہ ‘فلم میں شامل اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے نکاح کی تقریب کا سیٹ مسجد وزیر خان میں لگا کر سادہ ریکارڈنگ کی گئی۔ اس دوران نہ گانا چلایا گیا اور نہ ہی رقص ہوا، لیکن اس تقریب کی تصاویر کو جوڑ کر اور اس میں گانا شامل کرکے بعض افراد نے اسے گانے کی ویڈیو ظاہر کیا اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسجد میں امام مسجد کے منبر کے سامنے رقص کیا گیا اور گانا ریکارڈ ہوا ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘ہماری مانیٹرنگ ٹیم وہاں موجود تھی۔ یہ ایک دن کی ریکارڈنگ تھی، لہذا یہ ممکن ہی نہیں کہ مسجد میں گانے یا رقص کی ویڈیو ریکارڈ ہوسکے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سوشل میڈیا پر یہ مہم کیوں چلائی جارہی ہے۔’
WhatsApp Image 2020 08 08 at 2.05.58 AM

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button