اہم اتحادی جماعتوں کی وزیر اعظم کے عشائیے میں عدم شرکت

حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے والی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل اور عمران خان سے ناراض ق لیگ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دئیے گئے عشائیے میں شریک نہ ہوئیں۔شیخ رشید بیماری کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اور قاف لیگی قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے سے کپتان کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے جبکہ اپوزیشن کی طرف سے بجٹ کو مسترد کرنے کے بعد اتحادی جماعتوں کی ناراضی کی وجہ سے حکومت کیلئے بجٹ کی منظوری مشکل دکھائی دیتی ہے.
ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم ترین اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو منانے کیلئے حکومتی رابطے بھی کسی کام نہ آئے۔ سپیکر اسد قیصر نے پہلے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ سے ملاقات کی پھر چودھری پرویز الہیٰ کو فون بھی کیا اور عشائیے میں شرکت کی دعوت دی۔ پرویز الہیٰ نے اسد قیصر کو جواب دیا جب آپ عشائیہ دیں گے تب ضرور آئیں گے۔
جمہوری وطن پارٹی کی طرف سے پہلے عشائیے میں شرکت سے انکار کیا گیا تاہم حکومتی قیادت کے رابطے کے بعد جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی نے وزیراعظم کے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے سے یوٹرن لے لیا اور عشائیے میں شریک ہوئی. قبل ازیں جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی نے وزیراعظم کے عشائیے میں جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ہم سے کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوتے، حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ وزیراعظم ابھی بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے حکم جاری کر دیں، ہم ساتھ دیں گے۔شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا نے عشائیے میں شرکت کیلئے رابطہ کیا تھا تاہم ان کو بتا دیا ہے کہ جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا کریں۔ بلوچستان کے جتنے بھی مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، ایک بھی حل نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی، صحت، تعلیم اور ڈیرہ بگٹی کے بے گھر لوگوں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ جب ہمارے مسائل ہی حل نہیں ہو رہے تو عشائیے میں جا کر کیا کریں گے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نےوزیراعظم کے عشائیے میں شرکت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں آرام کرنا چاہتا ہوں، طبیعت خرابی کے باعث حکومتی عشائیے میں شرکت نہیں کرسکوں گا.مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے عشائیہ میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں مگر عشائیہ میں شریک نہیں ہورہے۔ترجمان ق لیگ کے مطابق وفاقی حکومت نے قیادت سے رابطہ کرکے عشائیہ میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے تاہم پارٹی رہنماؤں کی مصروفیات کی بنا پر عشائیہ میں شریک نہیں ہورہے، ، بجٹ کی منظوری کے تمام عمل میں حکومت کو ووٹ دے رہے ہیں۔ اتحادیوں کومناتےمناتے حکومت کےاپنےایم این ایز بھی ناراض ہو گئے۔۔پی ٹی آئی کے12ایم این اے وزیراعظم کےعشائیےمیں شریک نہیں ہوئے.
خیال رہے کہ قبل ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل بھی وزیراعظم کے عشائیہ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ بی این پی مینگل کے سربراہ اخترمینگل کا کہنا تھا کہ عشائیہ اتحادیوں کو دیا گیا ہے اور اب ہم اتحادی نہیں رہے، جب اتحادی نہیں رہے تو عشائیے میں شرکت کیوں کریں۔
عشایے میں اتحادی جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان ،ڈی جی اے اور جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی نے شرکت کی. وزیراعظم عمران خان نے عشائیہ سے قبل اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کیں جس میں تحفظات اور شکوے دور کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔ وزیراعظم نے اتحادیوں کو حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیا اور حکومتی امور میں ساتھ لے کر چلنے کی یقین دہانی کروائی۔
وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال، میر خالد مگسی اور سردار اسرار ترین سمیت دیگر شریک ہوئے۔ اس ملاقات میں بجٹ منظوری اور بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ ہے۔ بلوچستان کی احساس محرومی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کورونا صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے۔
بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم وفد نے بھی ملاقات کی۔ ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی سربراہی کی۔ وفاقی وزیر امین الحق سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔اس ملاقات میں کراچی اور حیدر آباد میں ترقیاتی منصوبوں اور کے فور منصوبے میں پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔ ایم کیو ایم نے کراچی، حیدر آباد اور میر پور خاص کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ جی ڈی اے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا اور رکن اسمبلی سائرہ بانو شریک تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران سے رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی اور غلام بی بی بھروانہ کی بھی ملاقات ہوئی۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے۔ واضح رہے وزیر اعظم نے آج بجٹ کی منظوری اور سیاسی صورت حال پر اعتماد میں لینے کے لیے حکومتی اور اتحادی اراکین کو بنی گالہ میں عشائیے پر مدعو کیا تھا. عشائیے میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حکومتی اور اتحادی اراکین کو حکومتی پالیسی سے متعلق اعتماد میں لیا گیا۔عشائیے کا مقصد بجٹ منظوری کے لیے ارکان کی ایوان میں حاضری یقینی بنانا تھا جبکہ عشائیے میں بجٹ منظوری کے لیے حکومتی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی۔
