مسلم لیگ نون نے الیکشن کی بساط پر اپنے سرکردہ ساتھی کیوں قربان کئے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ نارووال سے دانیال عزیز اور فیصل آباد سے طلال چودھری کو مسلم لیگ نون کا ٹکٹ نہ ملنا جبکہ ٹیکسلا سے غلام سرور خان کو ٹکٹ مل جانا ہمیں یاد دلاتا ھے کہ بادشاہ کسی کا ’’سگا‘‘ نہیں ہوتا۔ ’’قربانی دینے والے‘‘ بوقت ضرورت شطرنج کے پیادوں کی طرح ’’مروا‘‘ دئے جاتے ہیں۔ یہ ہرگز تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ جاتی امرا میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو زمینی حقائق کا علم نہیں، انہیں مگر یہ اعتماد ہے کہ خفیہ رابطوں کے ذریعے جو ’’بندوبست‘‘ طے ہوا ہے وہ فروری 2024ء کے انتخاب کو محض ایک ’’رسم‘‘ کی صورت فراہم کرے گا۔ اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ اکتوبر2021ء سے یہ تاثر ابھرنا شروع ہوا کہ عمران حکومت کی ’’سیم پیج‘‘ سے جدائی کے بعد مسلم لیگ (نون) سے ایک بار پھر مقتدر کہلاتی قوتوں کے روابط بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ان رابطوں کا نتیجہ ہمیں اپریل 2022ء میں شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کی صورت دیکھنے کو ملا۔ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے نام پر مذکورہ حکومت نے عوام کو مہنگائی کے سیلاب کے سپرد کردیا۔ناقابل برداشت مہنگائی کے باوجود مگر تحریک انصاف عوام کو بھرپور مزاحمت کے لئے اکسانہیں پائی۔ عمران خان نے جذباتی تقاریر سے اپنے حامیوں کو ’’انقلاب‘‘ برپا کرنے کو روایتی اور سوشل میڈیا کے جارحانہ استعمال سے بارہا اکسایا۔ سڑکوں پر لیکن وہ ماحول نہیں بن پایا جو 1968ء اور 1977ء کی حکومت مخالف تحاریک میں ہمارے تمام بڑے شہروں میں چھایا ہوا تھا۔ تحریک انصاف بلکہ 2007ء میں شروع ہوئی ’’عدلیہ بحالی تحریک‘‘ والاکا مزاحمتی ماحول بھی تشکیل نہیں دے پائی۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی اسی ناکامی کے باعث بہت شدت سے تاثر پھیل رہا ہے کہ نواز شریف کو چوتھی بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھانے کا ’’بندوبست‘‘ ہوچکا ہے۔خفیہ رابطوں کے ذریعے مقتدر کہلاتی قوتوں اور مسلم لیگ (نون) کے سرکردہ رہ نما ئوں کے مابین مبینہ طورپر جو بندوبست طے ہوا ہے اب اس پر عملددرآمد کا وقت ہے۔ طویل سوچ بچار کے بعد بالآخر بدھ کی رات پاکستان مسلم لیگ (نون) نے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ ’’اپنے‘‘ لوگوں کا چنائو کرتے ہوئے چند اہم ترین نام نظرانداز کردئے گئے ہیٹا دانیال عزیز کا نام اس ضمن میں نمایاں ترین رہا۔ نارووال اور شکر گڑھ کی مقامی سیاست کے حوالے سے وہ ا حسن اقبال کے ’’شریک‘‘ ہیں۔ ان کے مابین ٹھنی جنگ میں شریف خاندان احسن اقبال کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا۔ وہ دانیال عزیز بھلادیا گیا ہے جو پانامہ دستاویزات کی بنیاد پر نواز شریف کو رگیدتی سپریم کورٹ کو مسلسل للکارتا رہا۔ بالآخر اسے ’’توہین عدالت کا مجرم‘‘ٹھہرا کر پانچ سال کے لئے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا۔دانیال کے ساتھ ہوا سلوک انگریزی کا وہ محاورہ یاد دلاتا ہے جو اصرار کرتا ہے کہ بادشاہ کے کوئی رشتے دار نہیں ہوتے۔ وہ کسی کا بھی ’’سگا‘‘ نہیں ہوتا۔ ’’قربانی دینے والے‘‘ بوقت ضرورت شطرنج کے پیادوں کی طرح ’’مروا‘‘ دئے جاتے ہیں۔
نصرت جاوید کے مطابق دانیال عزیز کے ساتھ ہوئے سلوک کے بعد ٹیکسلا کے بارے میں مسلم (نون) کے فیصلے سے بھی لوگ بہت حیران ہیں ۔قومی اسمبلی کی نشست کا ٹکٹ وہاں عمران حکومت کے وزیر غلام سرور خان کے فرزند کو ملا ہے۔ غلام سرور خان نے عمران حکومت کے دوران بجلی،گیس ا ور ہوا بازی وغیرہ کا وزیر ہوتے ہوئے وطن عزیز کے لئے مختلف نوع بحران پیدا کئے تھے۔نہایت رعونت سے اگرچہ اپنے کئے کا دفاع کرتے رہے۔ عمران خان بھی موصوف کی مسلسل پشت پناہی فرماتے رہے۔ان کی حکومت پر لیکن جب کڑا وقت آیا تو موصوف ’’لوٹے‘‘ ہوگئے۔عمران خان سے جدائی نے مگر انہیں نواز شریف کے دربار میں وقار فراہم کردیا۔ ان کے فرزند اب مسلم لیگ (نون) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کی کوشش کریں گے۔ غلام سرور خان کا تحریک انصاف سے وفا نبھانے میں ناکام رہنا ٹیکسلا کے عوام کی بھاری بھر کم تعداد کو پسند نہیں آیا۔ وہاں کے لوگ بیرسٹر عقیل نامی ایک مسلم لیگی کارکن کے لئے مسلم لیگ (نون) کے ٹکٹ کی توقع باندھے ہوئے تھے۔ اس علاقے سے قومی اسمبلی کی نشست کے لئے شریف خاندان کے 1985ء سے 2018ء تک مسلسل قریب رہے چودھری نثار علی خان بھی ’’آزاد‘‘ حیثیت میں میدان میں اترے ہیں۔ غلام سرور خان کے فرزند کو ملا ٹکٹ مسلم لیگ (نون) کے بے تحاشہ مقامی کارکنوں کو شدت سے اکسائے گا کہ وہ طیش میں آکر اپنا ووٹ چودھری نثار کو منتقل کردیں۔ یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ جاتی امرا میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو ٹیکسلا کے زمینی حقائق کا علم نہیں۔ غلام سرور خان کی بے وفائی کو سراہنا مگر ان کی مجبوری تھی۔
آخر میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کو اسوقت یہ اعتماد ہے کہ خفیہ رابطوں کے ذریعے جو ’’بندوبست‘‘ طے ہوا ہے وہ فروری 2024ء کے انتخاب کو محض ایک ’’رسم‘‘ کی صورت فراہم کرے گا۔ مسلم لیگ (نون) کا ٹکٹ ہی لوگوں کو قومی اسمبلی میں پہنچانے کے لئے کافی ہوگا۔ تحریک انصاف کی طرح اسے بھی اپنے ذہن میں سوچنے والے سیاسی کارکن نہیں بلکہ ’’کھمبے‘‘ درکار ہیں۔یعنی بادشاہوں کے دربار میں سرجھکائے ایسے مصاحبین جو محض ’’باادب ہوشیار‘‘ کی پکارسننے کے عادی ہوتے ہیں ۔
