مسلم لیگ ن کا شہباز شریف سے آن کیمرہ نیب تفتیش کا مطالبہ

سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے آن کیمرہ نیب تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کی شہباز شریف سے تفتیش کیمرے لگاکر عوام کو دکھائی جائے. انھوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے حکومتی ناکامیاں سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں جبکہ ان نالائقیوں کی وجہ سے پاکستانی قوم کو مزید چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب اور مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پہلے حکومت سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا لیکن آج لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے شرح اموات بڑھ چکی ہے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ بیماری کا سامنا کریں یا پھر بھوک کو برداشت کریں، کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات مناسب نہیں، ان فیصلوں پرقومی اسمبلی کے اجلاس میں بحث ہونی چاہیے۔سابق وزیراعظم نے شہباز شریف کی قومی احتساب بیورو (نیب) میں طلبی کے نوٹس کے حوالے سے کہا کہ نیب نے شہبازشریف کو طلب کیا، وہ کینسر کے مریض ہیں، ایسی کیا عجلت ہے کہ نیب انتظار نہیں کرسکتا؟انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے شہباز شریف پر کئی مقدمات بنائے لیکن کسی میں کچھ نہیں ملا، شہباز شریف سے نیب نے جتنی ضرورت تھی تحقیقات کی ہیں اور انہوں نے نیب کے مانگنے پر تمام دستاویزات مہیا کی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے ساتھ جو ہورہا ہے، یہ بدنیتی اور نالائقی ہے جو حکومت کی گھٹیا سوچ کی عکاس ہے، نیب نے 22 تاریخ کو شہباز شریف کو بلاکرجوتفتیش کرنی ہے وہ کیمرے لگاکر عوام کو دکھائی جائے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اس کے سدباب کیلئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمرانوں کے رونے نہیں بلکہ کام کرنے کا وقت ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کی ٹائیگر فورس کو سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا، یہ کرپشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کو چینی اور آٹا سکینڈل نظر نہیں آتا، یہ معمولی باتیں نہیں ہیں۔ نیب اور ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ملک نہیں چل سکتا۔ سیاست اور ملکی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اگر یہی رویہ رہا تو کون اس ملک میں انویسٹمنٹ اور کون سیاست کرے گا؟انہوں نے کہا کہ ہم جیل سے نہیں گھبراتے۔ آج شہباز شریف کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نالائقی، بدنیتی اور گھٹیا سوچ ہے، ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ نے نیب بارے جو کچھ ریمارکس دیئے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکمران جھوٹے کیس بنا کر اپوزیشن کو دبانے میں مصروف ہیں۔ شہباز شریف کوصاف پانی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس سے کچھ نہ ملا تو آشیانہ کیس بنانے کی کوشش کی گئی۔ نیب نے پھر نوٹس جاری کردیا ایسی کیا عجلت ہے؟ اپوزیشن لیڈر میڈیکل ایشوز کی وجہ سے آئسولیشن میں ہیں۔ دوسری جانب حمزہ شہباز کو 90 دن حراست میں ہو گئے لیکن کوئی پتا نہیں کہ ان کیخلاف کیا کیس ہے؟ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ مجھ پر کرپشن ثابت کریں میں ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ دوں گا لیکن دو سال ہونے کو ہے طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک صاحب شہزاد اکبر ہیں، کون ہیں کس ملک سے آئے ہیں پس منظر کیا ہے اور معلوم کرلیں کہ ان کا تعلق نیب سے ہے یا نہیں، انہوں نے ٹی وی پر آکر بارہا کہا کہ پنجاب حکومت نے 56 کمپنیاں بنائیں اور بڑی کرپشن ہوئی ہے’۔شاہد خاقان عباسی نے شہزاد اکبر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ بات جب ختم ہوگئی تو پھر برطانوی صحافی کو پیسے دے کر لے آئے جس نے ڈیلی میل میں لکھا کہ برطانوی حکومت کے ادارے کے کام میں کرپشن ہوئی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘برطانوی حکومت نے اتوار کے روز بیان جاری کیا کہ اس حوالے سے کوئی کرپشن نہیں ہوئی اور یہ وزیراعظم کا معاون خصوصی ہے جو نیب کے حوالے سے بیان دیتا ہے، الزامات لگاتا ہے اور پاکستان کی ہتک کرواتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے لندن میں ان کے خلاف کیس کیا اس کے بعد شہباز شریف کی بیٹی کے گھر میں چھاپے مارے گئے اور میڈیا کو بیان دیا گیا کہ ہمیں کرپشن کے حوالے سے بہت سا مواد ملا لیکن کئی مہینے گزرنے کے باوجود کیا ہوا خداجانے کچھ معلوم نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران جھوٹے کیسز بنانے اور حکومتی مشینری استعمال کرکے اپوزیشن کو دبانے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 22 اپریل کو پھر طلب کرلیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کے آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس پر نیب نے اعلامیے میں کہا ہے کہ شہباز شریف نیب کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، عدم تعاون پر قانونی راستہ اپنانے کا حق موجود ہے۔
نیب اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو لاہور میں سابق وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں جاری تحقیقات کے حوالے سے انہیں 17 اپریل کو ذاتی حیثیت میں نیب انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی جس کے لئے ادارے کی پالیسی کے تحت انہیں باقاعدہ مفصل سوالنامہ بھی ارسال کیا گیا تھا، نیب لاہور کو مذکورہ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ان سے مفصل و جامع جوابات درکار ہیں کیونکہ ان کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں تاہم قومی ادارے کو انکی جانب سے تحقیقات میں تاحال عدم تعاون کا سامنا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ نیب لاہور میں 17 اپریل کو پیش نہ ہونے اور کرونا وباء کا عذر پیش کرنے کی صورت میں نیب لاہور کیجانب سے انہیں دوبارہ 22 اپریل کو نیب تفتیشی ٹیم کے روبرو پیش ہونے کا نوٹس ارسال کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button