مشتبہ لائسنس: پی آئی اےکا141 پائلٹس گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ

قومی ائیر لائن (پی آئی اے) نے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر فوری طور پر 141 پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا ہے.
ترجمان پی آئی اے کے مطابق سی ای او ائیر مارشل ارشد ملک نے پی آئی اے کے پائلٹس کو گراؤنڈ کے جانے سے متعلق وزارت ہوا بازی کو آگاہ کردیا۔
ہوابازی ڈویژن کے ترجمان عبدالستار کھوکر کے مطابق پی آئی کو 141 پائلٹس کے ناموں کی فہرست ارسال کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ ان کے لائسنس اور دیگر ڈاکیومنٹیشن سے متعلق ابہام موجود ہے لہٰذا اس معاملے کی چھان بین کی جائے۔عبدالستار کھوکر نے بتایا کہ ہفتے کو قومی ایئرلائن کی جانب سے جوابی مراسلہ موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ فراہم کردہ لسٹ میں موجود 17 پائلٹس کو پی آئی اے نے پہلے ہی جہاز اڑانے سے روکا ہوا تھا جبکہ مشتبہ اسناد والے مزید تمام پائلٹس کو بھی جہاز اڑانے سے روک دیا گیا ہے۔جن پائلٹس کو گراؤنڈ کیا گیا ہے انہیں اب سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنی صفائی دینا ہوگی، اگر وہ اتھارٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ہوابازی ڈویژن کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان میں آپریٹ کرنے والی نجی ایئرلائنز سیرین ایئر اور ایئر بلیو کو بھی اس حوالے سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ سیرین ایئر کے 10 اور ایئر بلیو کے نو پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہیں۔
پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے تمام سفیروں کو خط لکھ کر ائیرلائن کے اقدامات سے آگاہ بھی کیا ہے۔ خط میں مشتبہ پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے اور اصل لائسنسز کے حامل پائلٹس کے پروازیں بدستور آپریٹ کرنے کا بتایا گیا ہے۔ ایوی ایشن فہرستوں کے مطابق پی آئی اے، سرین اورایئربلو کے اوسطاً ایک تہائی ہواباز مشتبہ لائسنس کے حامل ہیں، ایوی ایشن ڈویژن کی جاری فہرست میں متعدد غلطیوں کی موجودگی کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔پی آئی اے کے 141 کی فہرست میں ڈیڑھ سال قبل معطل کئے گئے 17 ہواباز بھی شامل ہیں۔ فہرست میں ایسے پائلٹس کے نام بھی شامل جو مستند لائسنسز کے حامل ہیں، تمام تر تفصیلات کی دستیابی کے باوجود متعدد پائلٹس کا پرسنل نمبر ہی موجود نہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارت ہوا بازی کی طرف سےجاری فہرست میں پالپا کے سینئر عہدیداران بشمول ترجمان پالپا کیپٹن قاسم قادر بھی شامل ہیں جب کہ پنجگور حادثے میں جہاز کے کپتان یحیی سندھیلا بھی شامل ہیں، پنجگور حادثے کے بعد سے مشتبہ لائسنس کا اسکینڈل سامنے آیا۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ کچھ لابیز پی آئی اے کا یورپ اور شمالی امریکا کا آپریشن بند کرانے کیلئے سرگرم ہیں اور اسی لئے اس طرح کے سکینڈلز کو اچھالا جا رہا ہے.
WhatsApp Image 2020 06 27 at 1.15.07 PM
دوسری طرف غیر ملکی ایئرلائنز نے بھی پاکستانی پائلٹس وملازمین کے خلاف کارروائی کا آغازکردیا ہے۔ذرائع کے مطابق مشتبہ پائلٹس لائسنس کے معاملے سے متعلق غیرملکی ایئرلائنزنے بھی پاکستانی ملازمین کے خلاف کارروائی کا آغازکردیا ہے۔ غیرملکی ایئرلائنزکی جانب سے کارروائیاں وزارتِ ہوابازی کی جاری فہرست کو بنیاد بناکرکی گئی ہیں۔
کویت ایئرویزنے 7 پاکستانی پائلٹس اور56 انجینئرزکو گراؤنڈ کردیا، قطر، اومان ایئراور ویتنام ایئرمیں موجود پاکستانی پائلٹس، انجئنیرز، گراؤنڈ ہینڈلنگ اسٹاف کی فہرستیں تیارکرلی گئی ہیں۔ فہرست میں موجود ناموں کوپاکستانی اتھارٹیزکی رپورٹ موصول ہونے تک مبینہ طورپرگراؤنڈ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پائلٹس کے جعلی ڈگریوں اور لائسنس کا معاملہ اس سے پہلے بھی کئی بار سامنے آ چکا ہے، لیکن پچھلے ماہ کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ وزیرِ ہوابازی غلام سرور خان کی جانب سے پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا۔پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی جعلی ڈگری کے حامل پائلٹس کے جہاز اڑانے کے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو دو ہفتے میں اس حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کا کہا ہے۔پائلٹس کی جعلی ڈگریوں اور اسناد کا معاملہ پہلی دفعہ 2018 میں سامنے آیا تھا جب پنجگور ایئرپورٹ پز قومی ایئرلائن کا اے ٹی آر طیارہ پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے رن وے سے اتر گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button