مشترکہ اجلاس میں قانون سازی، اپوزیشن کا شیرازہ بکھرنے لگا

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دینے پراپوزیشن کا شیرازہ بکھرنے لگا.معیت علمائے اسلام کے بعد نیشنل پارٹی نے بھی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جس کے بعد اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اورآل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں. ج
مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دیا جس پر اپوزیشن میں پھوٹ پڑگئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے بعد نیشنل پارٹی نے بھی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر کبیر کا کہنا ہے کہ پہلے حکومتیں دو پارٹی سسٹم پر بنتی تھیں لیکن اب اپوزیشن بھی 2 پارٹی سسٹم پرمشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں بڑی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بغیرمشاورت فیصلہ سازی اور لین دین کرتی ہیں، ان کے اقدامات کے باعث بدنام پوری اپوزیشن ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلز کی منظوری کے دوران بڑی جماعتوں کے کردار سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی ناراض ہیں۔مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کےدوران جمعیت علمائے اسلام کی قیادت سےمعذرت کی ہے لیکن اس کے باوجود اپوزیشن میں اختلافات برقرار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button