مشرق وسطیٰ کشیدگی: چار مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک آج اسلام آباد میں ہوگی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے، جنہیں عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی پاکستان کے کردار کا اعتراف کر چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں آج اسلام آباد میں چار اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہو گا۔

گزشتہ شب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

اس سے قبل ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی آمد بھی متوقع ہے۔ یہ چار فریقی مشاورتی اجلاس 29 اور 30 مارچ کو منعقد ہوگا، جس میں خطے میں تقریباً ایک ماہ سے جاری کشیدگی کو کم کرنے پر غور کیا جائے گا۔

اگرچہ یہ اجلاس اسلام آباد میں ہو رہا ہے، تاہم پاکستانی حکام مسلسل ایرانی قیادت سے بھی رابطے میں ہیں۔ حال ہی میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جس کے مطابق ایران نے مزید 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کو اسحاق ڈار نے مثبت اور حوصلہ افزا قرار دیا۔

اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ باہمی مشاورت کے بعد شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔ اسحاق ڈار کے مطابق یہ ملاقات اصل میں ترکیہ میں طے تھی، تاہم مصروفیات کے باعث اسے اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خلوص نیت کے ساتھ تنازع کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے اور دوست ممالک بھی اس میں تعاون کر رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کی ثالثی بارے پاکستان خاموش کیوں ہے ؟

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فیصل بن فرحان، ہاکان فیدان اور بدر عبدالعاطی اس اہم اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں علاقائی امن، کشیدگی میں کمی اور تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

ادھر گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک طویل ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوئی، جس میں موجودہ صورتحال اور امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی اور جاں بحق افراد کے لیے دعائیں کیں۔ انہوں نے ایران کو امریکا، خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔

ایرانی صدر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشترکہ اقدامات سے کشیدگی میں کمی آئے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور اعتماد سازی ناگزیر ہیں، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Back to top button