پائلٹس کےمشکوک لائسنس، پالپا کا جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ

پاکستان ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن یعنی پالپا نے پائلٹس کے ‘مشکوک’ لائسنس کے معاملے میں چیف جسٹس آف پاکستان سےجوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیاہے. دوسری طرف پائلٹس کے مشکوک لائسنس کی حکومتی فہرست میں کئی غلطیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے. ذرائع کے مطابق فہرست میں شامل 39 پائلٹس اب پی آئی اے کا حصہ ہی نہیں جبکہ کئی پائلٹس کے نام، ایمپلائی نمبر، سی اے اے ریفرنس نمبر بھی غلط درج ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فہرست میں انتقال کرنے جانے والے اور ریٹائر پائلٹس کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں جب کہ حکومتی فہرست میں 4 پائلٹس ایسے بھی ہیں جن کے لائسنس ہائیکورٹ درست قرار دے چکی ہے۔
واضح رہے کہ یورپی یونین کے کسی ممکنہ اقدام پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے غیر ملکی مشنز اور عالمی ریگولیٹری اور حفاظتی اداروں کو خط لکھ کر انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نے مسافروں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور 105 پائلٹوں کے ناجائز طریقوں سے لائسنس حاصل کرنے کے شبہ پر انہیں گراؤنڈ کردیا ہے۔
اس حوالے سے پی آئی اےحکام کا کہنا ہے کہ اس نے مشکوک لائسنس رکھنے والے مجموعی طور پر 141 پائلٹوں کے خلاف کارروائی کی ہے ان میں سے 105 ادارے میں خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ باقی پائلٹ یا تو ریٹائر ہوچکے تھے یا استعفی دے چکے تھے۔اس فہرست میں 2016 کے اس حویلیاں حادثے کے طیارے کے پائلٹ اور معاون پائلٹ کے نام بھی شامل ہیں جس میں معروف نعت خواں جنید جمشید سمیت تمام 47 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔اسی وجہ سے اس دستاویز پر سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے کہ وزارت ایوی ایشن نے ریٹائرڈ، استعفیٰ دینے اور ہلاک ہونے والے پائلٹس کو الگ کیے بغیر بظاہر اسے جلد بازی میں تیار کیا ہے۔ چند پائلٹ جن کے نام 265 پائلٹس کی ایک اور فہرست میں شامل ہے ’ان کے ٹیسٹ کے نتائج جعلی بنائے جانے پر‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ انہیں بدنام کرنے پر متعلقہ حکام کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔
تاہم پی آئی اے کے ترجمان عبد اللہ حفیظ نے بتایا کہ’یورپی یونین میں ایک مضبوط حریف گروپ پی آئی اے کی یورپ کے لیے پرواز پر پابندی عائد کرنے کے لیے متحرک ہے وہیں قومی ایئرلائن نے اپنے مسافروں کی حفاظت سے متعلق سب سے سخت ترین اقدامات اٹھائے ہیں اور 105 پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہونے پر انہیں گراؤنڈ کردیا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ایسے 141 پائلٹس میں سے 29 ریٹائر ہوچکے ہیں جبکہ 5 نے استعفیٰ دے دیا تھا، ’مشکوک لائسنس والے ریٹائرڈ پائلٹ پی آئی اے کے طیاروں کو اڑا نہیں سکیں گے‘۔عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر ملکی مشنز کے تمام سربراہان، بین الاقوامی ایوی ایشن کے ریگولیٹرز اور سیفٹی مانیٹرنگ ایجنسیوں کو بھی ایک خط ارسال کرکے انہیں حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، جس میں مشکوک اسناد کے ساتھ پائلٹس کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔
یہ خط پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے لکھا جس میں انہوں نے یقین دلایا کہ ایئر لائن تمام بین الاقوامی ایوی ایشن سیفٹی پر ریگولیٹری معیارات کے مطابق عمل کرے گی۔پی آئی اے کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا چند خلیجی ایئر لائنز نے پاکستانی پائلٹس کو طیارے اڑانے سے روکا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف افواہیں ہیں‘۔ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ پی آئی اے اس معاملے پر ہدف بن گئی ہے جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پائلٹس کو لائسنس جاری کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ ‘پی آئی اے کو سی اے اے کی اس غلطی کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘۔
ادھر وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے مطابق حکومت نے مختلف کمرشل ایئر لائنز، فلائنگ کلب اور چارٹر کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ قابلیت کی تحقیقات/فرانزک تجزیے مکمل ہونے تک 262 پائلٹس کو گراؤنڈ کردے۔انہوں نے کہا کہ ’پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کے اقدام سے عالمی خدشات کو دور کرنے میں مدد ملے گی‘۔
علاوہ ازیں ایک پائلٹ خالد تنویر احمد خان نے بتایا کہ وہ پی آئی اے کے لیے 25 سالہ خدمات کے بعد 2014 میں ریٹائر ہوئے تھے اور ان کے کیریئر کا صاف اور محفوظ ریکارڈ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں سی اے اے کی جانب سے پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز میں خدمات انجام دینے والے جعلی لائسنس رکھنے والوں کے بارے میں جاری کردہ فہرست میں اپنا نام دیکھ کر حیرت زدہ ہوں، اس فہرست میں بہت سارے ریٹائرڈ پائلٹ شامل ہیں جو پچھلے چند سالوں کے دوران ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے اور وہ اپنے اہل خانہ اور معاشرے میں قابل احترام ریٹائرڈ زندگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے، ان کی نامزدگی کو بغیر کسی جانچ پڑتال کے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جاری کرنے سے ہم اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے حلقے میں ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ وہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں سی اے اے کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ میری تعلیمی ڈگریوں کی جانچ اور تصدیق کرے، میں نے اپنے دونوں فلائنگ لائسنس (سی پی ایل اور اے ٹی پی ایل) ذاتی صلاحیت میں سی اے اے کے امتحانی مراکز میں حاضر ہوکر حاصل کیے اور امتحان پاس کیا تھا، میں نے اپنی خدمات کے دوران سی اے اے کے تمام کورسز میں ٹاپ کیا تھا جن میں انگلینڈ اور سویڈن کے غیر ملکی کورسز بھی شامل تھے، تمام دستاویزات، سرٹیفکیٹ اور ریکارڈ دستیاب ہیں، میں سی اے اے سے کہتا ہوں کہ وہ میرا نام اس فہرست سے خارج کرے اوراس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کرے‘۔
دریں اثنا پاکستان ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ پائلٹس کے مبینہ جعلی لائسنسوں کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں۔پالپا کے صدر کیپٹن چوہدری سلمان نے کا کہنا تھا کہ ’کمیشن کو قابل افراد اور ایوی ایشن کے شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہونا چاہیے اور وہ ہم سے اپنی تحقیقات کا آغاز کرے۔انہوں نے کہا کہ ’پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے تمام پائلٹ اعلی عدلیہ کے حکم پر کسی بھی تحقیقات سے لیے خود کو پیش کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ پالپا پی آئی اے کے 141 پائلٹس کا دفاع نہیں کرنا چاہتی ہے جن کے نام مبینہ طور پر مشکوک لائسنس رکھنے والے 262 پائلٹس کی فہرست میں شامل ہیں، بالکہ پالکا پاکستان کی ایوی ایشن کی صنعت کی تکریم کے ساتھ ساتھ ملک اور پائلٹس کی عزت کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔
ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ پائلٹس کی فہرست کے بارے میں پالپا نے کہا کہ اس فہرست کا ایک بڑا حصہ ’مشکوک اور غیر حقیقت پسندانہ‘ تھا اور یہ ہمارے اداروں کی ناکامی اور ایک خاص گروپ کی منفی سوچ کی عکاسی کا ثبوت ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پالپا نے وزیر ایوی ایشن کے حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی فہرست کا ذکر کرکے وہ لوگوں اور اسٹیک ہولڈرز کی توجہ کراچی میں حالیہ پی کے 8303 حادثے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزارت ہوابازی نے 262 مشکوک پائلٹس کی فہرست جاری کی تھی جس پر وفاقی وزیر غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ 148مشکوک لائسنس کی لسٹ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز ( پی آئی اے) کو بھجوادی گئی ہے اور انہیں ہوابازی سے روک دیا گیا ہے۔
غلام سرور خان کے مطابق دیگر مشکوک لائسنس والے پائلٹس 100 سےزائد ہیں، ان کی تفصیلات بھی سول ایوی ایشن ویب سائٹ پر بھیج دی ہیں۔غلام سرورخان کا کہنا تھاکہ پی آئی اے میں 28 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوچکی ہیں، حالیہ دنوں میں 4 گھوسٹ پائلٹس فارغ کیے ہیں۔
پاکستان ائیرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) کے صدر کیپٹن چوہدری سلمان نے وفاقی وزیر برائے شہری ہوابازی غلام سرور خان کی جانب سے جاری مشتبہ لائسنس رکھنے والے پائلٹس کی فہرست کو بے بنیاد قراردے دیا تھا۔
