مطیع اللہ جان کو اغوا کاروں نے کس کے حوالے کیا اور کیا کہا؟

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی گھر واپسی کی کہانی کی دلچسپ تفصیل ثابت کرتی ہے کہ انہیں کسی سرکاری خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اغوا کیا تھا اور آپریشن کے دوران اغوا کاروں کو پولیس کمانڈوز کا جعلی یونیفارم پہنایا گیا تاکہ الزام کسی اور پر آئے اور بھائی لوگ بچ جائیں۔
22 جولائی کے روز سپریم کورٹ میں مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کے ایک کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کے سامنے مطیع کے بھائی شاہد عباسی کا جو تحریری بیان پڑھ کر سنایا اس میں سینئر صحافی کے اغوا کے بعد رہائی کی دلچسپ کہانی سامنے آئی ہے۔ شاہد عباسی کے بیان کے مطابق مطیع کے اغوا کاروں نے انہیں فون کر کے فتح جنگ بلایا اور انکی شناختی دستاویزات دیکھنے کے بعد ان کے بھائی کو ان کے حوالے کیا۔ شاہد عباسی کے مطابق انہیں 21 جولائی کی رات ایک فون کال کر کے بتایا گیا کہ وہ اپنے بھائی مطیع اللہ کو فتح جھنگ کے علاقے قطب آباد سے آ کر لے جائیں۔ اس فون کال کے بعد وہ بتائے گے مقام پر پہنچے تو اغوا کاروں نے ان سے ان کی شناختی دستاویز طلب کیں اور پھر چند سوال بھی کیے۔ اس موقع پر 20 سے 25 منٹ کی تفتیش کے بعد اغواکاروں نے مطیع اللہ کو ان کے بھائی کے حوالے کر دیا۔
ظاہر ہے اس طرح کا طریقہ کار کوئی جرائم پیشہ لوگ نہیں بلکہ ایجنسیاں اپناتی ہیں۔ مطیع اللہ جان نے بی بی سی کو اپنے اغوا کی جو کہانی بیان کی ہے اس کے مطابق انہیں اغوا کرنے کے فورا بعد ہتھکڑی لگا دی گئی جبکہ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔ اس دوران انھیں کسی دفتر بھی لے جایا گیا تھا جبکہ اغوا کار انھیں بولنے کا موقع نہیں دے رہے تھے اور انھیں مسلسل اپنا منھ بند رکھنے کا کہتے رہے۔ مطیع اللہ جان کے مطابق وہ مکمل تفصیلات تو پولیس کو اپنے بیان میں بتائیں گے کہ انھیں اس واقعے کے ذریعے کیا بات سمجھانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اس واقعے کا تعلق سپریم کورٹ میں اپنے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے بھی جوڑتے ہیں۔ مطیع اللہ نے بی بی سی کو یہ دلچسپ بات بھی بتائی کہ ان کے اغوا کاروں نے اُن سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان کے خیال میں انھیں کس نے اغوا کیا ہے۔ اس سوال پر مطیع اللہ جان کے مطابق وہ ہنس پڑے۔ تاہم ان کے بھائی نے ان افراد کو بتایا کہ اس بارے میں انھیں کچھ بھی معلوم نہیں۔
مطیع اللہ کے مطابق اغوا کے بعد کے 12 گھنٹوں کے دوران انھیں کھانا وغیرہ تو نہیں دیا گیا تاہم جب انھوں نے پانی مانگا تو گاڑی روک کر ان کو پانی ضرور پیش کیا جاتا رہا۔ مطیع اللہ جان کا فون نمبر تو اغوا کاروں کے پاس پہلے سے موجود تھا مگر انھوں نے اغوا سے پہلے یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ وہ اس وقت اکیلے ہیں، ان کے ایک بھائی کو کال کی اور یہ کہا کہ ایک ادارے کے ایک اہم عہدیدار توہین عدالت مقدمے کے سلسلے میں مطیع اللہ جان سے بات کرنا چاہتے ہیں لہذا ان کا فون نمبر دے دیں۔ اس کے بعد مطیع اللہ جان کو کراچی کے ایک نمبر سے کال بھی موصول ہوئی اور ابھی اس کال پر بات ہو ہی رہی تھی کہ مطیع اللہ جان کو اغوا کاروں نے آ کر قابو کر لیا۔ شاید اس فون نمبر سے ہی ان کی ٹریکنگ کر کے ان کی موجودگی کے مقام کا پتہ کیا گیا اور یہ ٹریکنگ سسٹم صرف خفیہ ایجنسیوں کے پاس ہوتا ہے۔
تاہم اغوا ہوتے وقت مطیع اللہ جان نے مزاحمت کی اور اپنا فون سکول کے اندر پھینک دیا۔ مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی اہلیہ جو اس سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں، کو یہ پیغام دینے کے لیے کہ انھیں اغوا کیا جا رہا ہے، اپنا فون سکول کے اندر پھینک دیا تھا۔ سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اغوا کاروں میں سے ایک باوردی شخص گیٹ سے وہ موبائل مانگتا ہے اور سکول کی ایک ٹیچر فون اس شخص کو دے دیتی ہیں۔ مطیع اللہ کے مطابق اس نے اسوقت سنا کہ وہ شخص خوشی سے اپنے دوسرے ساتھیوں کو کہہ رہا ہوتا ہے کہ موبائل دوبارہ مل گیا اور اس کے بعد اغوا کاروں کا قافلہ وہاں سے نامعلوم مقام کی طرف چل پڑتا ہے۔
اس دوران مطیع اللہ جان کی اہلیہ بے خبر رہتی ہیں۔ وہاں موجود سکول کا عملہ بھی انھیں یہ نہیں بتاتا کہ اصل واقعہ کیا ہوا ہے تاہم بعد ازاں انھیں گاڑی کے اندر سے مطیع اللہ جان کا دوسرا موبائل فون مل گیا جس کے بعد انھوں نے اس کے ذریعے پولیس اور میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا کہ ان کے شوہر کو کوئی اغوا کر کے لے گیا ہے۔
تاہم اب جبکہ مطیع اللہ جان گھر واپس آ چکے ہیں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ان کو کس سرکاری خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اغوا کیا۔ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق اعلی عدالت کے حکم کے بعد پولیس نے مطیع اللہ جان کا تفصیلی بیان ریکارڈ کر لیا ہے اور اب پولیس اپنی تفتیش کو مزید آگے بڑھائے گی۔ ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق پولیس یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ جن لوگوں نے ان کو اغوا کیا وہ ان کو کہاں کہاں لے کر گئے اور پھر کس مقام سے ان کو رہا کیا گیا۔
یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کی بازیابی کے بعد سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ مطیع اللہ جان کو اغوا کرنے والے کون تھے اس بات کا پتا چلانے کے لیے اسلام آباد پولیس نے سی سی ٹی وی سے حاصل ہونے والی ویڈیو قومی شناختی ادارے، نادرا کو بھجوا دی ہے۔ پولیس نے نادرا سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کر کے دے تاکہ عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کرائی جا سکے۔ ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق مزید ویڈیو ثبوت حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے سی سی ٹی وی آفس سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ اس علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیں تاکہ جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں ان کی پہچان کی جا سکے۔ پولیس نے یہ ویڈیو فرانزک رپورٹ کے لیے لاہور بھجوا دی ہے تاکہ مزید معلومات اکھٹی کی جا سکیں۔ دو ہفتوں تک اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل اس واقعے کی مکمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔
دوسری طرف اپنی رہائی کے بعد مطیع اللہ جان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ ’میں خیریت سے واپس آگیا ہوں کیوں کہ خدا مجھ پر اور میرا اہلخانہ پر مہربان رہا۔ میں اپنے دوستوں، ملکی و غیر ملکی صحافتی تنظمیوں، سیاسی جماعتوں، سوشل میڈیا اور سماجی کارکنوں، وکلا تنظمیوں اور عدلیہ کا شکر گزار ہوں جن کے فوری ردعمل سے میری واپسی ممکن ہوئی۔
