مطیع اللہ جان کے اغواکاروں کو بے نقاب کرنے کو کوئی تیار نہیں

اسلام آباد کے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغواکار صاف بچتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کی کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں جس کی بنیادی وجہ حکومتی ایجنسیوں اور اداروں کا تحقیقات کے حوالے سے عدم تعاون ہے۔ سپریم کورٹ میں 5 اگست 2020 کو جمع کروائی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق مطیع اللہ جان کے اغوا کے بعد پولیس حکام نے وفاقی وزارت دفاع، انٹیلی جنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلی جنس، ملٹری انٹیلی جنس، نادرا اور اسلام آباد سیف سٹی والوں سے اس واقعے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال کسی بھی ادارے کی طرف سے تحقیقاتی ٹیم کو
کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ لہذا پولیس ابھی تک اغوا کاروں کے حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنے میں ناکام ہے۔تاہم پولیس رپورٹ میں سپریم کورٹ کو باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سینیئر صحافی کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے تک لانے کی مخلصانہ کوششیں جاری ہیں۔
یہ اور بات کے پورا پاکستان مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کے بارے میں جانتا ہے۔ یہ کھوکھلی رپورٹ سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، آپریشنز نے جمع کروائی جو کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم یا سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کے سربراہ ہیں۔ شاید ان کی اتنی ہی ذمہ داری تھی کہ وہ 15 دن گزار کر سپریم کورٹ کو آگاہ کریں کہ اسلام آباد پولیس اغوا کاروں کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی اور انہوں نے اپنی یہ ذمہ داری بخوبی سرانجام دی۔
یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کو 21 جولائی 2020 کے روز اسلام آباد کے سیکٹر جی تھری سے پولیس وردیوں میں ملبوس آٹھ نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے تھے۔ تاہم شدید ردعمل کے بعد اسی رات ایک بجے کے قریب انہیں وفاقی دارالحکومت سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ کے قریب چھوڑ دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کے بارے میں رپورٹ جمع کروانے کے لئے پندرہ روز دیے تھے جو پورے ہونے پر ایک کھوکھلی رپورٹ جمع کروادی گئی ہے اور گونگلووں سے مٹی جھاڑ دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مطیع اللہ کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے کے لیے متعدد حکومتی محکموں سے مانگی گئی تھی لیکن ضروری معلومات کا تاحال انتظار ہے، جو تحقیقات آگے بڑھانے کے لیے ضروری اور مددگار ثابت ہوں گی۔ رپورٹ کے مطابق اغوا کے واقعہ کے فوراً بعد اسلام آباد کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس انوسٹی گیشن کو جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کرنے کا کہا گیا تھا تاکہ مبینہ اغوا کاروں کی شناخت کی جا سکے تاہم اس پر تاحال کام جاری ہے۔ یعنی جیو فینسنگ کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی ٹھوس کام نھیں کیا گیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اسی طرح متعلقہ ایجنسی سے مطیع اللہ کے موبائل فون کی کال ڈیٹیل ریکارڈ رپورٹ تیار کرنے کا بھی کہا گیا مگر تحقیقاتی ٹیم کو ابھی تک یہ رپورٹ بھی موصول نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ میں جمع شدہ پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کو واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی درخواست بھی بھیجی گئی تھی، تاہم تحقیقاتی ٹیم تقریباً دو ہفتے بعد بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کا انتظار کر رہی ہے۔
اسی طرح 24 جولائی کو تحقیقاتی ٹیم نے اغوا کاروں کی شناخت کے لیے نادرا کو سی سی ٹی وی فوٹیج بھیجی تا کہ اغوا کاروں کے چہرے شناخت کئے جا سکیں لیکن یہ کام بھی تاحال نامکمل ہے کیوںکہ نادرا حکام فوٹیج میں نظر آنے والے افراد کی ابھی تک شناخت نہیں کر پائے۔
مطیع اللہ جان کو اغوا کاروں نے جہاں چھوڑا تھا وہاں سے پولیس نے ان کی آنکھوں پر باندھی گئی کالی پٹی اور منہ پر لگی ٹیپ بھی برآمد کی اور دونوں اشیا فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ محکمے کو بھیجی گئیں۔ تاہم یہ فارنزک رپورٹ بھی ابھی تک مکمل نہیں ہو پائی ہے۔‘ اسلام آباد پولیس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے، اس لیے اب ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بھی اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق مطیع اللہ کے مبینہ اغوا کے بعد وفاقی وزارت دفاع، انٹیلیجنس بیورو، آئی ایس آئی، ایم آئی اور دوسرے کئی محکموں اور اداروں سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تاحال ان اداروں کی طرف سے کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹ میں شامل اپنے بیان میں مطیع اللہ جان کا کہنا ہے اغوا کار ان کے ہر سوال پر پشتو میں جواب دیتے ہوئے کہتے ’ٹائم نشتا‘ یعنی اب وقت ختم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد وہ جس سکیورٹی چیک پوسٹ پر پہنچے وہاں فوجی افسران نے انھیں پانی اور کھانے کا پوچھا اور ویگو ڈالے پر گھر واپسی کی آفر بھی کی۔ جس پر مطیع نے کہا کہ ’آپ کا شکریہ، میرے بھائی مجھے یہاں سے لینے آ رہے ہیں۔‘مطیع اللہ جان کے مطابق میرے بھائی سے ضروری پوچھ گچھ کے بعد ان فوجی افسران نے مجھے ان کے حوالے کر دیا جو مجھے واپس گھر لے کر آئے۔
مطیع اللہ جان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے مقدمے کا براہ راست تعلق ان کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری توہین عدالت کے مقدمے سے ہے کیوںکہ انھیں اس مقدمے کی پیشی سے ایک دن قبل اغوا کر کے منہ بند رکھنے کا پیغام دیا گیا۔ یاد رہے کہ مطیع اللہ جان نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کے عدالتی فیصلے پر کوئی تبصرہ کیا تھا جس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ مطیع کے اغوا کے حوالے سے تحقیقات میں اداروں کے عدم تعاون پر اسلام آباد پولیس کی سرزنش کرتی ہے یا اداروں کے ذمہ داروں کی لیکن ایک بات طے ہے کہ مطیع اللہ جان کے اغواکار اس مرتبہ بھی صاف بچ جائیں گے جیسا کہ ماضی میں سلیم شہزاد کے قتل اور حامد میر پر قاتلانہ حملے کے کیسوں میں ہوا ہے۔
