مطیع اللہ کے ساتھ جو ہوا کل ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اغوا کے بعد بازیاب ہونے والے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔۔ بلاول بھٹو نے مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بیباک صھافی سے اظہار یکجہتی کیا اور ان کی جرات کو سلام پیش کیا۔
بلاول نے اس موقع پر سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا اور تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہر دور میں میڈیا کی آزادی کیلئے لڑی ہے، ہم جمہوریت اور پریس کی آزادی پر ایسے حملے قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جو صحافی حکومت پرتنقید کرے اسے نوکری سے نکلوادینا افسوسناک ہے، مطیع اللہ جان کا واقعہ ہمارے آئین اور انسانی حقوق کے خلاف ہے، جب تک آئین اور انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہوگا مسائل حل نہیں ہوں گے۔
بلاول نے کہا کہ آپ مطیع اللہ جان کی بات پسند نہیں کرتے لیکن آپ اس سے اس کا بات کرنے کا حق نہیں چھین سکتے، ہم جمہوریت اور پریس کی آزادی پر ایسے حملے قبول نہیں کرتے، اگر آج یہ مطیع اللہ جان کے ساتھ ہوسکتا ہے کل یہ آپ کے اور میرے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ بلاول نے کہا کہ جس طرح مطیع کے بیٹے نے ٹی وی پر بات کی ہم سب حیران ہیں۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آزاری اظہار رائے کا ہی نہیں بلکہ جمہوریت کا بھی ہے، مقابلہ سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کے درمیان ہے، میں بلاول بھٹو کا مشکور ہوں کہ وہ اظہار یکجہتی کے لئے میرے گھر تشریف لائے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے تمام صحافتی تنظیموں سمیت ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے لئے آواز بلند کی۔
خیال رہے کہ 21 جولائی کو مسلح افراد نے دن دیہاڑے صحافی مطیع اللہ جان کو اغوا اسلام آباد سے کیا تھا اور 12 گھنٹے بعد اسلام آباد سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ کے علاقے میں چھوڑا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button