مطیع جان اغوا کیس: سپریم کورٹ کا پولیس رپورٹ پراظہاربرہمی

مطیع اللہ جان اغوااز خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 4 ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی.
عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے صحافی مطیع اللہ جان کے مبینہ توہین عدالت ٹوئٹس پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی، جہاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اسلام آباد عامر ذوالفقار پیش ہوئے۔
.چیف جسٹس گلزرا احمد نے آئی جی اسلام آباد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی تفتیش کی گئی کس نے تفتیش کی ہے, آئی جی صاحب آپکی ٹیم کو تفتیش کرنا ہی نہیں آتا. انھوں نے مزید کہا کہ تفتیش میں تو ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے،اسلام آباد پولیس بابوں کی طرح لیٹر بازی کر رہی ہے. انھوں نے مزید کہا کہ پولیس کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تفتیش کرنا نہیں آتی,پولیس نے ابھی تک کرائم سین کا نقشہ ہی نہیں بنایا، صرف کرسی گرم نہیں کرتے کام کرنا ہوتا ہے,اسلام آباد پولیس بابوں کی طرح لیٹر بازی کر رہی ہے
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئی جی صاحب کس زمانے میں بیٹھے ہوئے ہیں؟ لیٹر بازی کا کیا مقصد ہےپولیس کی جانب سے معلومات کیوں اکٹھی نہیں کی گئیں؟دس منٹ بھی نکل گئے تو ثبوت ضائع ہو جاتے ہیں.چیف جسٹس نے ڈی آئی جی آپریشنز پر بھی شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جس ادارے سے معلومات لینی ہیں وہاں جا کر بیٹھ جائیں،افسر کرسی گرم کرنے کے لئے نہیں بھاگ دوڑ کرنا ہوتی ہے. چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے خود کچھ سیکھا نہ سکھا سکتے ہیں، پولیس کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تفتیش کرنا نہیں آتی، آئی جی صاحب آپ پولیس کو جدید طریقوں سے تفتیش کرنا سکھانا ہی نہیں چاہتے، ہر کیس میں تفتیش کا یہی حال ہے۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ پولیس کی رپورٹ میں نے بھی پڑھی اور میں بھی اس رپورٹ سے مطمئن نہیں،اس رپورٹ کے بعد نادرا اور ایف آئی اے سمیت تمام اداروں کو تفتیش کیلئے ساتھ ملایا ہے.جواب جمع کرانے کیلئے مطیع اللہ جان نے مہلت مانگتے ہوئے کہا عید کی چھٹیوں اور پولیس تفتیش کی وجہ سے جواب تیار نہیں کر سکا. جس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ جواب میں جتنی تاخیر آپ کریں گے اس کا نقصان آپ کو ہو سکتا ہے۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو 4 ہفتوں میں دوبارہ تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا,مطیع اللہ جان کو بھی وکیل کرنے کیلئے 4 ہفتے کی مہلت دے دی گئی.کیس کی سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی.
علاوہ ازیں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسر شپ عائد ہے تاہم میڈیا کی آزادی کی جدوجہد کے لیے اہم لمحہ آن پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے صحافی اکھٹے ہیں اور معرکہ کن جنگ کے لیے تیار ہیں۔پولیس کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے وہ بولے کہ مطیع اللہ کیس میں پولیس رپورٹ مذاق ہے، پولیس میں جرات نہیں کہ اداروں سے واقعات کی تفصیل لے سکے۔ساتھ ہی ناصر زیدی نے بتایا کہ پی ایف یو جے نے مطیع اللہ جان کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے، یہ نوٹس ایک ٹوئٹ پر لیا گیا ہے اور اس کے فیصلے سے سوشل میڈیا کا مستقبل جڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، پی ایف یو جے کا مؤقف ہے کہ اس معاملے پر فیصلے سے پہلے آرٹیکل 19 پر ہمیں بھی سنا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے پر مطیع اللہ جان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مطیع اللہ جان اغوا پر تحقیقاتی صحافیوں کی کمیٹی بنا دی ہے۔ناصر زیدی کے مطابق پی ایف یو جے کی اظہار رائے کی آزادی، جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی کے لیے طویل جدوجہد ہے اور یہ جدوجہد آگے بھی جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کو 21 جولائی 2020 کے روز اسلام آباد کے سیکٹر جی تھری سے پولیس وردیوں میں ملبوس آٹھ نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے تھے۔ تاہم شدید ردعمل کے بعد اسی رات ایک بجے کے قریب انہیں وفاقی دارالحکومت سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ کے قریب چھوڑ دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کے بارے میں رپورٹ جمع کروانے کے لئے پندرہ روز دیے تھے جو پورے ہونے پر ایک کھوکھلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی.
اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کی کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں جس کی بنیادی وجہ حکومتی ایجنسیوں اور اداروں کا تحقیقات کے حوالے سے عدم تعاون ہے۔ سپریم کورٹ میں 5 اگست 2020 کو جمع کروائی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق مطیع اللہ جان کے اغوا کے بعد پولیس حکام نے وفاقی وزارت دفاع، انٹیلی جنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلی جنس، ملٹری انٹیلی جنس، نادرا اور اسلام آباد سیف سٹی والوں سے اس واقعے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال کسی بھی ادارے کی طرف سے تحقیقاتی ٹیم کوکسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ لہذا پولیس ابھی تک اغوا کاروں کے حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنے میں ناکام ہے۔تاہم پولیس رپورٹ میں سپریم کورٹ کو باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سینیئر صحافی کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے تک لانے کی مخلصانہ کوششیں جاری ہیں۔
سپریم کورٹ میں جمع کی گئی رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ مطیع اللہ کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے کے لیے متعدد حکومتی محکموں سے مانگی گئی تھی لیکن ضروری معلومات کا تاحال انتظار ہے، جو تحقیقات آگے بڑھانے کے لیے ضروری اور مددگار ثابت ہوں گی۔ رپورٹ کے مطابق اغوا کے واقعہ کے فوراً بعد اسلام آباد کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس انوسٹی گیشن کو جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کرنے کا کہا گیا تھا تاکہ مبینہ اغوا کاروں کی شناخت کی جا سکے تاہم اس پر تاحال کام جاری ہے۔ یعنی جیو فینسنگ کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی ٹھوس کام نھیں کیا گیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اسی طرح متعلقہ ایجنسی سے مطیع اللہ کے موبائل فون کی کال ڈیٹیل ریکارڈ رپورٹ تیار کرنے کا بھی کہا گیا مگر تحقیقاتی ٹیم کو ابھی تک یہ رپورٹ بھی موصول نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ میں جمع شدہ پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کو واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی درخواست بھی بھیجی گئی تھی، تاہم تحقیقاتی ٹیم تقریباً دو ہفتے بعد بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کا انتظار کر رہی ہے۔
اسی طرح 24 جولائی کو تحقیقاتی ٹیم نے اغوا کاروں کی شناخت کے لیے نادرا کو سی سی ٹی وی فوٹیج بھیجی تا کہ اغوا کاروں کے چہرے شناخت کئے جا سکیں لیکن یہ کام بھی تاحال نامکمل ہے کیوںکہ نادرا حکام فوٹیج میں نظر آنے والے افراد کی ابھی تک شناخت نہیں کر پائے۔
مطیع اللہ جان کو اغوا کاروں نے جہاں چھوڑا تھا وہاں سے پولیس نے ان کی آنکھوں پر باندھی گئی کالی پٹی اور منہ پر لگی ٹیپ بھی برآمد کی اور دونوں اشیا فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ محکمے کو بھیجی گئیں۔ تاہم یہ فارنزک رپورٹ بھی ابھی تک مکمل نہیں ہو پائی ہے۔‘ اسلام آباد پولیس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے، اس لیے اب ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بھی اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق مطیع اللہ کے مبینہ اغوا کے بعد وفاقی وزارت دفاع، انٹیلیجنس بیورو، آئی ایس آئی، ایم آئی اور دوسرے کئی محکموں اور اداروں سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تاحال ان اداروں کی طرف سے کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
