معاشی استحکام کیلئے آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط میں نرمی کا مطالبہ

کرونا وائرس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.4 فیصد اور افراط زر 11 سے 12 فیصد کے قریب رہنے کی پیش گوئی کی ہے دوسری طرف معاشی شرح نمو میں بہتری لانے اور معاشی اعشاریوں کی بہتری کیلئے معاشی ماہرین نے حکومت سے آئی ایم ایف سے مزید مالی امداد کے حصول کی بجائے پہلے سے جاری پروگرام کی شرائط نرم کروانے کیلئے عملی اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
معاشی مارین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث ملکی معیشت زوال پذیر ہے ان حالات میں حکومت جاری مالی پروگرام کی شرائط پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی مالیاتے ادارے سے شرائط نرم کرواکرعوام کو بجلی‘گیس‘تیل اورایل پی جی سستے داموں مہیا کرسکتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑا ریلیف ہوگا. ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قرض کی شرائط نرم کروانا نہ صرف ممکن ہے بلکہ پاکستان کے لیے ناگزیر بھی ہے کیونکہ ملکی معیشت کو کورونا کی وجہ سے جس طرح کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنا ممکن نہیں ہو گا.ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے تین سے چار فیصد کے درمیان شرح سود پر 6 ارب ڈالر کا قرضہ جولائی 2019 میں منظور کیا تھا یہ قرض قسطوں کی صورت میں تین سال کے عرصے میں پاکستان کو ادا کیا جانا ہے اس قرضے کی مکمل وصولی کے 22 مہینے کے بعد اس کے واپس لوٹانے کا عمل شروع ہو گا.آئی ایم ایف نے قرض کے ساتھ کڑی شرائط عائد کرتے ہوئے سٹیٹ بنک کو شرح سود کو بلند رکھنے اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا پابند کر رکھا ہے۔ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پورا پاکستان اس وقت تقریباً لاک ڈاﺅن میں جا چکا ہے معمولات زندگی کے رک جانے سے ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو بھی بریک لگ چکی ہے معیشت کا پہیہ اس وقت تقریباً رک چکا ہے اور ان حالات میں ملک کے اقتصادی اہداف کا حصول مشکل ہو چکا ہے.ایسی صورتحال میں پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر مالیت کے توسیعی فنڈ کے معاہدے پر نظر ثانی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں. حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ آئی ایم ایف سے اس معاہدے کے لیے نئی شرائط طے کرے پاکستان میں معاشی امور کے ماہرین بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کے لیے نئی شرائط کی تجاویز حکومت کو دے رہے ہیں.دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلنے اور ہزاروں انسانی جانوں کے ضائع ہونے اور مزید کے خدشے کے باعث آئی ایم ایف نے اس وبا سے متاثرہ ممالک کے لیے مالیاتی امداد کا اعلان کیا ہے پاکستان نے بھی آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں ہنگامی امداد کی درخواست کی جس کے جواب میں آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹینا لی جورجیوا نے ہنگامی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی ہے.تاہم معاشی ماہرین توسیعی فنڈ سہولت کے معاہدے پر نئی شرائط کی تجاویز دے رہے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان سخت مالیاتی نگرانی میں آیا اور ملک میں گیس، تیل، بجلی وغیرہ کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا جس نے پاکستان میں مہنگائی کی بلند ترین لہر کو جنم دیا. ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے توسیعی فنڈ سہولت کے معاہدے کی نئی شرائطِ سے متعلق مذاکرات اس وقت کیے جا سکتے ہیں ان کے مطابق عام حالات میں تو ایسا ممکن نہیں ہوتا تاہم غیر معمولی حالات میں آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں بات چیت کی جا سکتی ہے کورونا وائرس نے ملک میں غیر معمولی حالات پیدا کر دیے ہیں جن کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں. ان حالات میں آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط کو ایک سال تک معطل کرنے کے لیے حکومت آئی ایم ایف سے درخواست کرسکتی ہے.انہوں نے واضح کیا کہ اس سے پروگرام معطل نہیں ہو گا بلکہ ٹیکس وصولی کے اہداف اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ جیسی شرائط معطل ہوں گی جس سے تنزلی کی طرف جاتی معیشت کو سہارا ملے گا۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان کو اگلے مالی سال میں موجودہ مالی سال کے ٹیکس ٹارگٹ سے ایک ہزار ارب اضافی محصولات اکٹھے کرنے ہیں ان حالات میں پاکستان موجودہ مالی سال میں 4400 ارب کے محصولات بڑی مشکل سے جمع کر پائے گا تو اگلے مالی سال میں آئی ایم ایف شرائط کے تحت 6300 ارب کی محصولات کا ہدف ایک غیر حقیقی ہدف ہو گا.انہوں نے تجویز کیا کہ اس ہدف کو 5000 ارب روپے رکھا جائے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے نئی شرائط طے کی جائیں جبکہ عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جائے تاکہ ان کی زندگی میں تھوڑی آسودگی آ سکے۔
