معاونین کو عہدوں سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیراعظم کے دہری شہریت والے معاونین خصوصی کو عہدوں سے ہٹانے کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ وزیراعظم کے معاونین دہری شہریت نہیں رکھ سکتے؟، وزیراعظم کو جب عوام منتخب کرتے ہیں تو ان پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں، وہ اگر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کےلئے کسی کی مدد لے تو اس میں کیا حرج ہے؟ اگر انہیں اتنا اختیار بھی نہ دیں کہ وہ کسی کو معاون رکھے تو کیسے نظام چلے گا؟ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آئین کے آڑٹیکل 93 کی تحت وزیراعظم کو صرف 5 مشیران رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 93 مشیروں سے متعلق ہے، معاونین خصوصی سے متعلق نہیں ہے، آئین میں یہ دکھائیں جس جگہ لکھا ہے کہ معاونین دہری شہریت نہیں رکھ سکتے، تاہم عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ جب سے معاونین خصوصی کی دوہری شہریت کا معاملہ منظرعام پر آئی ہے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز دو معاونین خصوصی نے اپنے استعفیٰ جمع کروا دیئے تھے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا بھی عہدے سے مستعفیٰ ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر پاکستان آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پوری تندہی اور ایمانداری سے کام کیا۔
واضح رہے کہ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا تانیہ ایدروس عہدے سے مستعفیٰ ہوگئی ہیں تانیہ ایدروس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میری دہری شہریت پر تنقید کی گئی جس کی وجہ سے ڈیجیٹل پاکستان کا مشن مکمل نہیں ہو سکے گا، میں عہدے سے استعفیٰ دے رہی ہوں لیکن وزیراعظم عمران خان کے مشن پر بطور پاکستانی کام کرتی رہوں گی۔
تانیہ ایدروس کو وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے ڈیجٹیل میڈیا تعینات کیا تھا جس پر اعتماد کر اظہار کرتے ہوئے ان کی جانب سے کہا گیاتھا کہ تانیہ ایدروس پاکستان میں دیجیٹل میڈیا کی بہتری کے لئے کام کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان پروگرام میں تانیہ ایدروس کی شمولت پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔
بتایا گیا کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کی بنیاد ایک ایسے ادارے کے نام پر رکھی گئی تھی جو کسی قسم کا کوئی منافع نہیں لے گی اور نہ ہی وہ حکومت پر بوجھ بنے گی، لیکن اسے سکیورٹی ایکسچینچ کمیشن کے سیکشن 42 کے نام پر رجسٹر کیا گیا ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا گیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان کو جن لوگوں کے نام پر رجسٹر کیا گیا ہے ان میں تانیہ ایدروس کے علاوہ جہانگیر ترین اور آن لائن ٹیکسی سروس کریم کے سی ای او مدثر الیاس کا نام بھی شامل ہے۔
