معدے میں تیزابیت سے نجات کے لیے بہترین غذائیں کونسی؟

عام طور پر لوگوں کو کھانے کے اوقات میں بہت زیادہ وقفہ، بہت زیادہ مرچ مصالحے والی غذائیں یا چائے کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے معدے میں تیزابیت کی شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معدے میں تیزابیت کا مسئلہ کسی کو کسی بھی وقت لاحق ہوسکتا ہے جس کے دوران انسان کو معدے میں گیس اور سینے میں جلن جیسی شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدارزیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعدایسڈٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور ہو انھیں ایسڈٹی کی شکایت رہتی ہے جس کے باعث انھیں گیسٹروکامرض لاحق ہونے کاخطرہ رہتاہے۔
لیکن اگرغذاکاصحیح انتخاب کیاجائے تو تیزابیت سے بچاجاسکتاہے۔کچھ غذائیں ایسی ہیں جوتیزابیت سے فوری نجات میں مدد بھی دیتی ہیں۔
کیلے معدے میں تیزابیت کے لیے قدرت کا بہترین تحفہ ہیں، پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ یہ پھل تیزابیت کے خلاف موثر ثابت ہوتا ہے، اگر آپ اکثر تیزابیت کا شکار رہتے ہیں تو روزانہ ایک کیلا کھانا عادت بنالیں، سینے میں جلن کا احساس ہو تو بھی اسے کھالیں۔
دارچینی مصالحہ معدے کی تیزابیت کے خلاف کام کرتا ہے اور معدے کی صحت ہاضمے اور غذا کو جذب کرنے میں مدد دے کر کرتا ہے۔ معدے میں تیزابیت کو دور کرنے کے لیے دار چینی کی چائے مفید ثابت ہوتی ہے۔
چھاچھ یا کچی لسی کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو معدے میں تیزابیت کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتی ہے، زیادہ مرچ مصالحے والا کھانا یا بہت زیادہ مقدار میں کھانے کے بعد ایک گلاس چھاچھ میں کچھ مقدار میں کالی مرچ پاﺅڈر یا زیرے کا سفوف ملا کرپینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
ناریل کا پانی جسم میں تیزابیت کی سطح کو معمول پر لانے کے ساتھ ساتھ معدے کو تیزابیت کے اثر سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
ٹھنڈا دودھ معدے میں موجود سیال کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے، دودھ کیلشیئم سے بھرپور ہوتا ہے جو معدے میں تیزابیت کی اضافی مقدار کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، یہ معدے میں تیزابیت سے نجات کی سب سے سادہ اور موثر طریقہ ہے، بس دودھ کا ٹھنڈا گلاس لیں اور پی لیں۔
اگر اکثر معدے میں تیزابیت کی شکایت رہتی ہو تو ہر کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف کو کھالیں، سونف کی چائے بھی غذائی نالی کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ بدہضمی اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچنا بھی ممکن ہوتا ہے۔
الائچی کھانے کی عادت نظام ہاضمہ کو متحرک کرتی ہے اور پیٹ کے درد سے ریلیف بھی ملتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ معدے میں تیزابیت کی اضافی مقدار کے نقصان دہ اثرات سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ اگر تیزابیت کی شکایت ہو تو 2 الائچی لیں اور اسے کچل کر پانی میں ابال لیں، اسے ٹھنڈا کریں اور پی لیں، فوری ریلیف ملے گا۔
گڑ میں میگنیشم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو آنتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے نظام ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد کچھ مقدار میں غر کھالینا معدے کو تیزابیت اور گرمی سے بچاتا ہے۔ایسڈٹی یعنی تیزابیت دنیابھرمیں ہونے
تیزابیت میں ادرک کااستعمال بہترین مانا جاتا ہے۔ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹ اوراینٹی انفلیمنٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تیزابیت کے ساتھ یہ سینے کی جلن ،بدہضمی اورپیٹ کے دیگرامراض میں بھی مفید مانا جاتا ہے۔
ہرے پتوں کی سبزیاں جیسے پالک ،پودینا،دھنیا،میتھی،کیلے،بندگوبھی وغیرہ کو اگراپنی روزمرہ غذاکاحصہ بنالیاجائے تو تیزابیت کی شکایت سے چھٹکاراپایاجاسکتاہے۔ تیزابیت کامسئلہ ہوتاہی غذاکے غلط استعمال کے سبب ہے ۔ اگرغذاکامتوازن استعمال کیاجائے تو اس مسئلے سے بچاجاسکتاہے۔
جب بھی سینے میں جلن اورایسڈٹی کی شکایت ہوتو ایک پیالہ ٹھنڈادہی استعمال کریں۔دہی کھانے کے بعد آپ خود حیران رہ جائیں گے کہ کتنی جلدی آپ کی طبیعت میں بہتری آتی ہے۔دہی میں کیلایاخربوزہ شامل کرکے آپ اس کی افادیت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔دہی کی غذائیت مسئلہ کوختم کرکے آپ کوتوانائی بھی فراہم کرتی ہے۔
ناشتے میں جوکادلیہ تیزابیت کاشکارافراد کے لئے بہترین آپشن ہے۔اس میں موجود فائبر اپھارہ اورواٹرریٹنشن کوکنٹرول کرنے میں مدد کرتاہے۔یہ پیٹ میں موجود اضافی ایسڈ کوجذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔اس مسئلہ کے لئے کچھ اورفائبرسے لبریز غذائیں جیسے گندم اورچاول کی پروڈکٹ بھی فائدہ مند رہتی ہیں۔
خربوزہ ایک الکلائن پھل ہے۔ایسڈٹی کی شکایت میں آپ اسے ٹھنڈا کر کے لے سکتے ہیں۔یہ پیٹ کے لئے نہایت مفید پھل ہے۔اس کے استعمال سے منٹوں میں آرام آتاہے۔گرمی میں ہونے والی پانی کی کمی کودورکرکے پیٹ کوصحت مند رکھتاہے۔
چیونگم چبانے سے چند ہی سیکنڈو ں میں آپ محسوس کریں گے کہ ایسڈٹی کی علامات میں کمی واقع ہوئی ہے۔چیونگم سے سلیواکی پیداوارمیں اضافہ ہوتاہے جس کی وجہ سے تیزابیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔
