معلومات تک رسائی کے قانون پر عمل کیوں نہیں ہو پا رہا؟


’قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کمزور تو پھنس جاتے ہیں مگر طاقتور اس کو توڑ کر گزر جاتے ہیں۔‘
یہ قول چھٹی صدی قبل مسیح کے ایک شہزادے انکارسس سے منسوب ہے مگر یہ نئے پاکستان پر صادق آتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی طرح 2017 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک قانون بنایا جسے ’معلومات تک رسائی کے حق‘ کا نام دیا گیا جو وفاقی حکومت کی تمام پبلک باڈیز پر نافذ العمل ہے، جس کے تحت پاکستان کا کوئی بھی شہری درخواست دے کر متعلقہ اداروں سے براہ راست کوئی بھی معلومات لے سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ لطیفہ گردانا جائے کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ سینیٹ اس قانون سے مبرا ہے۔ گویا جس ادارے نے قانون بنایا وہ خود ہی کہتا ہے کہ وہ اس قانون سے بالاتر ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک درخواست گزار نے مئی 2019 مین پاکستان انفارمیشن کمیشن کو خط لکھا کہ اس نے 10 اپریل 2019 کو سیکریٹری سینیٹ کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ وہ سینیٹ کے تمام ملازمین کی تفصیلات فراہم کریں جن میں یہ درج ہو کہ ان کی تنخواہ اور مراعات، خالی آسامیوں اور ڈیلی ویجز ملازمین کی تعداد کتنی ہے۔ جب سیکریٹری صاحب نے دس دنوں کے اندر جواب نہیں دیا تو سائل نے پاکستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل کر دی۔ کمیشن نے سینیٹ کو دو بار خط لکھ کر پوچھا کہ قانون کی رو سے وہ یہ جوابات دینے کے پابند ہیں اس لیے وہ وضاحت کریں یا جواب دیں۔ لیکن جب کوئی جواب نہیں آیا تو کمیشن نے سینیٹ کے نمائندے کو خط لکھ کر 22 اکتوبر 2019 کو سماعت کے لیے طلب کر لیا۔ لیکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کمیشن کو پھر ایک تفصیلی خط لکھ دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ ایک حساس ادارہ ہے جس کی معلومات افشا نہیں کی جا سکتیں۔ اس کے ساتھ ہی سینیٹ کے پبلک انفارمیشن آفیسر نے کمیشن کو تحریر کیا کہ قواعد کے تحت چیئرمین سینیٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سینیٹ کا کچھ یا تمام ریکارڈ کلاسیفائیڈ قرار دے سکیں۔ اس لیے چیئرمین سینیٹ نے حکم دیا ہے کہ سینیٹ کے ملازمین کی معلومات بھی کلاسیفائیڈ کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔
یہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کا حال ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین اپنے ملازمین کی تعداد اور وہاں خالی آسامیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کو بھی خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ جب پارلیمنٹ کا اپنے ہی بنائے ہوئے قانون پر عمل در آمد کا یہ حال ہو گا تو پھر باقی اداروں کو اس قانون کا پابند کیسے کیا جائے گا؟
یاد رہے کہ دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان نے بھی پبلک باڈیز کے بارے میں شہریوں کو ہر قسم کی معلومات فراہم کرنے کے لیے 2017 میں یہ قانون بنایا تھا۔ اس کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی پبلک باڈی کے بارے میں کوئی سوال ہو تو وہ متعلقہ ادارے سے ایک درخواست کے ذریعے پوچھ سکے گا۔ اگر اسے دس دن کے اندر جواب نہیں دیا جاتا تو وہ 30 دن کے اندر پاکستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے جس پر کمیشن 60 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔
اس قانون کے تحت کچھ معلومات کو استثنیٰ حاصل ہے جن میں ایسی معلومات شامل ہیں جو پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کریں۔ یا پھر ایسی معلومات جو کسی جرم کا باعث بنتی ہوں یا کسی انکوائری کی تفتیش کو متاثر کرتی ہوں۔ یہ معلومات اگر کسی مخبر کی نشاندہی کرتی ہوں۔ ملک کی سکیورٹی یا کسی کی نجی معلومات کو بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایسی معاشی معلومات جن کے قبل از وقت افشا سے نقصان کا خدشہ ہو۔ پاکستان کا دفاع، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اثر پذیری کو نقصان کا خدشہ ہو تو وہ معلومات بھی نہیں دی جا سکتیں۔ یا پھر ایسی معلومات جو کسی فرد کی آزادی، صحت اور تحفظ کو خطرے میں ڈالتی ہوں۔ زیر سماعت کیس متاثر ہونے کا خطرہ ہو۔ تاہم یہ تمام معلومات عرصہ 20 سال کے بعد پبلک کی جا سکتی ہیں۔
لیکن اس قانون پر عمل در آمد کروانے کے راستے میں پاکستان میں کئی چیلنجز ہیں؟ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے قیام یعنی سات نومبر 2018 سے لے کر 30 جون 2021 تک کمیشن کو 1174 اپیلیں موصول ہوئیں۔ واضح رہے کہ اپیل تب کی جاتی ہے جب متعلقہ محکمہ یا ادارہ کسی شہری کو جواب نہیں دیتے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ اور وزارت قانون جیسے ادارے بھی لوگوں کو معلومات کی رسائی کے قانون کے راستےمیں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
جب پاکستان انفارمیشن کمیشن کے چیف کمشنر اور سابق وفاقی سیکریٹری وزارت اطلاعات اعظم خان سے کمیشن کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا اصل چیلنج سسٹم سے 1923 کے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو نکالنا ہے جس کے پیچھے ہر ادارہ چھپ کر پناہ لے لیتا ہے خصوصا وزارت دفاع۔ لہازا اس قانون پر موثر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ررامیم۔کی جائیں اور پبلک باڈیز میں تعینات پبلک انفارمیشن آفیسرز شہریوں کے اس حق کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے جوابدہی کو یقینی بنائیں اور شہری بھی بلاخوف وخطر اپنے جاننے کے حق کو استعمال کریں۔

Back to top button