مفادات کی جنگ، کل کے دوست آج کے دشمن کیسے بنے؟

عام انتخابات کے بعد سیاسی انتشار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ کل کے دوست آج ایک دوسرے کے مد مقابل آ کھڑے ہوئے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتا۔ مفادات کے حوالے سے اتحادی بدلتے رہتے ہیں۔ کل کے دشمن آج دوست بن گئے۔ یہ پاکستان کی سیاست میں پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور آج بھی یہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن جہاں ماضی میں عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دے کر ان کا نام بھی سننا پسند نہیں کرتے تھے تاہم اب وہ پی ٹی آئی سے نہ صرف جپھیاں ڈال رہے ہیں بلکہ حلووں سے ان کی تواضع کرتے بھی نظر آ رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی سیاست میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز ایک بم شیل گرایا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لیے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے کہا تھا۔ مولانا کے اس بیان کو تحریک انصاف نے سراہا جبکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے اس دعوے کو حقائق کے برخلاف قرار دیا۔ابھی یہ بحث جاری تھی کہ مولانا فضل الرحمن نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنرل فیض حمید کا نام غلطی سے زبان پر آگیا تھا۔
سیاسی حلقے یہ سوال اٹھا رہے کہ جے یوآئی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن کے بدلتے تیور اور پھر پیچھے ہٹنے کے پیچھے مقاصد کیا ہیں۔ کیا مولانا نے تحریک انصاف سے قربتیں بڑھانے کا اشارہ دے کر یہ پیغام دیا کہ اگر انہیں اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھا گیا تو وہ کیا کر سکتے ہیں اور کہاں تک جا سکتے ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق جے یو آئی ف اور تحریک انصاف میں’ دوستی‘ آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ جے یو آئی اور تحریک انصاف دونوں کو ہی سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔تاہم پاکستانی سیاست میں اس کی مثالیں موجود ہیں کہ سیاست میں کل کے دشمن آج کے دوست بن گئے اور اقتدار میں ایک دوسرے کا دم بھرنے والے ایک دوسرے پر ’الزمات کے تیر‘ برساتے نظر آئے۔
بعض تجزیہ نگاروں کی رائے یہ بھی ہے کہ مولانا زیادہ دیر اقتدار سے دور نہیں رہ سکتے۔ مولانا کے بدلتے تیور کا صلہ بعض انتخابی نتائج حق میں آنے سے ملنے لگا ہے۔ پھر مولانا نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے اور اپنے پرانے اتحادیوں کے پاس واپس جانے کا اشارہ دیا ہے۔لگتا یہی ہے کہ جے یوآئی ف اور تحریک انصاف کی قربتیں محض ’سیاسی منگنی‘ تک رہیں گے اور بریک اپ ہو جائے گا کیونکہ دونوں کے ایک درمیان ایک تلخ ماضی بڑی رکاوٹ بنے گا پھر جے یو آئی کا موقف اور احتجاج ہی اس بات پر ہے کہ خیبرپختونخوا میں ان کی نشستیں چھینی گئی ہیں اور وہاں کوئی اور نہیں پی ٹی آئی جیتی ہے۔
ویسے دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن ایک زیرک سیاستدان ہیں، عمران خان کے دور میں تحریک عدم اعتماد لانے والوں میں پیش پیش تھے۔ اب وہ جنرل فیض حمید کے حوالے سے اپنی غلطی کا اعتراف کر رہے ہیں لیکن اپنا موقف بدلنا اور پی ٹی آئی کو گلے لگانا کیا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیاست اور جنگ میں سب جائز ہے جس کا مطلب ہے کل کے دشمن آج کے دوست ہو سکتے ہیں؟
معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مولانا کی طرز سیاست کی وجہ سے ان کے خلاف نفرت بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے وہ اس نفرت کو ختم کرنے کے لیے اس طرح کے دعوے کر رہے ہیں۔ ”خیبر پختونخوا میں مولانا نے عمران خان کی بھرپور مخالفت کی، جس کی وجہ سے وہاں ان کے خلاف نفرت بڑھی۔ بالکل اسی طرح مولانا کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جی ایچ کیو کے قریب رہے، جس کی وجہ سے عسکریت پسند تنظیمیں ان کے خلاف ہو گئیں۔‘‘سہیل وڑائچ کے مطابق مولانا کے تازہ بیانات اس بات کی کوشش ہے کہ اس نفرت کو کم کیا جائے، ” کیونکہ اس نفرت کی وجہ سے انہیں انتخابات میں شکست بھی ہوئی اور وہ بھرپور طریقے سے اپنی انتخابی مہم بھی نہیں چلا سکے۔‘‘
کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ مولانا کا غصہ ن لیگ کی دھوکے بازی کا جواب ہے، جس کی وجہ سے مولانا کے سیاسی عزائم خاک میں مل گئے۔ جس کے بعد ان مولانا فضل الرحمان الیکشن دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں تاہم سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ مولانا کے ووٹ چوری نہیں کیے گئے ہیں، ”میرا خیال ہے کہ انہیں واضح شکست ہوئی ہے اور اس میں دھاندلی کا کوئی عنصر نہیں ہے۔‘‘
