مفتاح اسماعیل کی فراغت کے بعد اسحاق ڈار سے پنگے بازی


سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحاق ڈار کے واپس آنے اور وزارت خزانہ سنبھالنے کے بعد گھر تو چلے گئے لیکن انہیں ابھی تک اپنی فراغت کا فیصلہ ہضم نہیں ہوا جسکا اظہار وہ اپنے ڈار مخالف بیانات کے ذریعے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مفتاح اسماعیل کا گلہ ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے چونکہ سارے مشکل فیصلے ان سے کروا لیے گئے اور جب معیشت سنبھلنے لگی تو انہیں فارغ کر کے وزارت خزانہ اسحاق ڈار کو دے دی گئی۔ لیکن اسحاق ڈار کی سائیڈ لینے والے کہتے ہیں کہ مفتاح اسماعیل کی ناکامی کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض مل جانے کے باوجود ڈالر کی قیمت میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ سنبھالنے کے بعد ایک ہفتے میں ڈالر کی قیمت 20 روپے نیچے لا کر اپنی قابلیت ثابت کر دی ہے۔

دوسری جانب مفتاح کو اپنی فراغت ہضم نہیں ہو رہی چنانچہ وہ ایک ہی جماعت سے تعلق ہونے کے باوجود اسحاق ڈار کے فیصلوں پر تنقید کئے چلے جارہے ہیں۔ اسحاق ڈار کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد مفتاح نے اسے ’لاپرواہی پر مبنی فیصلہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے پہلے آئی ایم ایف سے اجازت لینا ضروری تھا۔ تاہم اسحاق ڈار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مفتاح کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ڈار نے کہا کہ مفتاح عوام پر بوجھ ڈال کر مطمئن ہو سکتے ہیں لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے 25 سال سے آئی ایم ایف سے ڈیل کر رہا ہوں اور مجھے پتا ہے کہ ایسے معاملات کیسے چلانے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے جسکے تحت وفاقی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی وصول کرنے کی پابند ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کو اس وجہ سے ہدف تنقید بنایا جاتا رہا ہے کہ اس نے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پٹرول و ڈیزل پر پٹرولیم لیوی زیرو کر دی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام کئی مہینوں تک معطل رہا۔

مفتاح اسماعیل کے تبصرے اور اسحاق ڈار کی جانب سے اپنے فیصلے کے دفاع میں دیے جانے والے بیانات کے بعد آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ کی جانب سے بھی ایک بیان سامنے آیا۔ انھوں نے کہا پاکستان کو آئی ایم ایف سے کیے گیے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہو گا۔رواں ہفتے قیمتوں میں کمی کے بعد پٹرولیم لیوی کی شرح 37.42 روپے سے گھٹا کر 32.42 کر دی گئی ہے یعنی ایک لیٹر پٹرول کی قیمت پر وصول کی جانے والی لیوی میں پانچ روپے کمی کر دی گئی۔ سابقہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت لیوی کو گھٹانا نہیں بلکہ بڑھانا تھا۔ لیکن وزیر خزانہ کے پٹرول پر لیوی کم کرنے کے اقدام کو پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بھی ’نامناسب‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کا آئی ایم ایف پروگرام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام پر آگے بڑھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

حفیظ پاشا کے مطابق جب معاہدہ کر لیا کہ لیوی بڑھانی ہے تو اس پر دوبارہ مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے کسی کمی پر رضامندی کے بغیر یہ اقدام مناسب نہیں ہے۔ ان کے خیال میں حکومت نے آئی ایم ایف سے لیوی کو کم کرنے پر کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے کہا ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہے تو کسی ایسے اقدام کی گنجائش نہیں جس سے پروگرام پر کوئی منفی اثر پڑے۔ لیکن وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث نے پٹرول پر لیوی میں کمی کو آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ لیوی سے پروگرام کی کسی شرط کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کا ایک ٹائم فریم ہے اور انھیں اس کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے لیوی میں کمی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کہ اس وقت ملک میں سیلاب اور مہنگائی کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں اور حکومت نے بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے بارے میں بتایا کہ پاکستان اس وقت کس قدر مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ جائز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث حکومت عوام کو بھی ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہے اور آئی ایم ایف کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔

Back to top button